آٹے بحران سے ملک میں امن وامان کا مسئلہ بن سکتا ہے‘ میاں زاہد حسین

آٹے بحران سے ملک میں امن وامان کا مسئلہ بن سکتا ہے‘ میاں زاہد حسین

  



ملتان (نیوز رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں آٹے کی کمی کا امکان ہے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس(بقیہ نمبر19صفحہ12پر)

سلسلہ پر فوری قابو نہ پایا گیا تو امن و امان کا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا ہو گی۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سال رواں کی ابتداء میں ملک میں 27.9 ملین ٹن گندم موجود تھی جو ملکی ضروریات کے لئے کافی تھی جو اب 25.8 ملین ٹن ہے مگر اسکے باوجود بحران جنم لے رہا ہے اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس کو حل کرنے کے لئے گندم کی درا?مد کی فوری اجازت دی جائے اور اسے یقینی بنانے کے لئے گندم کی درآمد پر عائد60 فیصد ڈیوٹی ختم کی جائے تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ گندم کے بحران کے دیرپا حل کے لئے اس شعبہ میں کرپشن، چوری اورا سمگلنگ کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ حکومت سندھ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس 8 لاکھ ٹن گندم موجود ہے مگر اس میں سے2 لاکھ ٹن گندم کے غائب ہونے کی خبروں سے اسکی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کا نوٹس لیا جائے کیونکہ اس اہم معاملہ کو نظر انداز کرنا بڑی سیاسی غلطی ہو گی جس سے ملکی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ گندم کے بحران میں منافع خور بھی بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں جن کی پھیلائی ہوئی افواہوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔یہ عناصر افواہوں کے ذریعے اپنا منافع بڑھا رہے ہیں جسکی اجازت نہیں ہونی چائیے۔

مسئلہ

مزید : ملتان صفحہ آخر