اسحق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس نیب تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت طلب

 اسحق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس نیب تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت طلب

  



اسلام آباد (آن لائن) اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت احتساب کورٹ اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے کی وکیل صفائی قاضی مصباح نے نیب ریکارڈ پر اعتراض اٹھا دیا عدالت نے تفتیشی افسر کو اگلی سماعت پر ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کر دی شریک ملزمان نعیم محمود اور منصور رضا رضوی احتساب عدالت کے روبرو پیشاستغاثہ کے آخری گواہ تفتیشی افسر نادر عباس پر وکیل صفائی قاضی مصباح نے جرح کی تفتیشی افسر نادر عباس نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کے غیر ملکی اثاثوں سے شریک ملزمان کے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا وکیل صفائی نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ نیب تفتیشی افسر یہ بھی جاننے سے قاصر رہا کہ 44ہزار ڈالرز کا بینیفشری اسٹیو کون تھامارچ 1995کو 20لاکھ 48ہزار ڈالرز جس شخصیت کے اکاونٹ میں منتقل ہوئی اس سے تفتیش کی گئی؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ یہ حصہ میری تحقیقات کا نہیں بلکہ جے آئی ٹی رپورٹ کا ہے نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی کا قاضی مصباح کے سوالات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک اشتہاری ملزم جو مفرور ہے ان سے متعلق دیگر ملزمان کے وکیل کیسے سوال کر سکتے ہیں جس اشتہاری ملزم نے اپنا وکیل ہی نہیں کروایا تو وکیل صفائی ان سے متعلق کیسے سوالات کر سکتے ہیں وکیل صفائی نے پوچھا کیا ان بنک اکاؤنٹس سے شریک ملزمان کا کوئی تعلق ثابت ہوا؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ عبوری ریفرنس میں شریک ملزم نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کا بنک اکاونٹس سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہواجے آئی ٹی کے ریکارڈ میں بھی منصور رضارضوی کیخلاف کوئی ریکارڈ نہیں وکیل صفائی قاضی مصباح کی نیب تفتیشی افسر نادر عباس پر جرح مکمل نا ہو سکی کیس کی سماعت 27نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

اسحق ڈار ریفرنس

مزید : صفحہ آخر