چیف جسٹس نے بنچ تشکیل دیا،ہم کسی کی ذاتی خواہش پر یہاں نہیں بیٹھے:جسٹس قاسم خان

چیف جسٹس نے بنچ تشکیل دیا،ہم کسی کی ذاتی خواہش پر یہاں نہیں بیٹھے:جسٹس قاسم ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد قاسم خان،ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران ادارہ منہاج القرآن کے وکیل کی طرف سے بنچ پر اعتراض اور بار بار التواء کی استدعا پر قراردیا کہ ہفتہ بھی دیگر ایام کی طرح ججوں کے کام کا دن ہے،ہم تو اتوار کو بھی کیس سننے کے لئے تیارہیں،فاضل بنچ نے مدعی مقدمہ ادارہ منہاج القرآن کے منتظم جواد حامد کے حوالے سے ان کے وکیل اظہر صدیق سے کہا کہ آپ کا موکل میڈیا پر بیان دیتاہے کہ بندے مررہے ہیں اور کیس کا فیصلہ نہیں ہورہا،اظہر صدیق نے کہا کہ جواد حامد نے ایک بھی بیان نہیں دیا جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ آپ کا کلائنٹ ٹویٹر،انسٹاگرام اور فیس بک پر بیان دیتاہے،ہم نے بڑا انتظار کیا،ہم ابھی رجسٹرار کو ہدایت دے کر یہ معاملہ سائبر کرائم والوں کو بھیج دیتے ہیں،کیوں نہ یہ کام آپ کے کلائنٹ سے شروع کردیں؟اظہر صدیق نے بنچ کی تشکیل پراعتراض کیا تو مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ اظہر صاحب اب آپ ہائی کورٹ کو اس طرح چلائیں گے؟آپ ہائی کورٹ کو مجسٹریٹ کی عدالت نہ بنائیں،سپریم کورٹ نے ہمارے فیصلے کے خلاف اپیل پر جونوٹس جاری کئے ہیں وہ کہاں ہیں؟ایڈووکیٹ جنرل کل کہہ کر گئے ہیں دوسری جے آئی ٹی بنانے کے معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں قانونی نکتہ طے نہیں ہوا،یاد رکھیئے کہ ہم اپنی مرضی سے یہ کیس نہیں سن رہے، چیف جسٹس نے یہ بنچ تشکیل دیا ہے، ہم کسی کی ذاتی خواہش کے مطابق یہاں نہیں بیٹھے، اظہر صدیق نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو یہ فل بنچ بنانے کا اختیار ہی نہیں تھا،فاضل بنچ نے کہا کہ اس بابت دلائل دیں ہم نوٹ کرلیتے ہیں، جسٹس محمد قاسم خان نے کہا لاہور ہائی کورٹ کی سو ڈیڑھ سو سال کی قانونی تاریخ ہے،کوئی ایک فیصلہ بتادیں،اگر قانون کہتاکہ یہ بنچ غلط تشکیل دیا گیاہے تو میں آخری بندہ ہوتا جو کوئی حکم جاری کرتا،اس پر اظہر صدیق نے بنچ پر اعتراض واپس لے لیا اور کہا کہ وہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھائیں گے،اظہر صدیق نے کہا کہ نئی جے آئی ٹی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے خلاف سپریم کورٹ نوٹس جاری کرچکی ہے،سپریم کورٹ کے حکم کے بعدبنائی گئی جے آئی ٹی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ درخواست نہیں سن سکتی،انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پہلی جے آئی ٹی رپورٹ کو پیش ہی نہیں کیا گیا جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ہمیشہ پولیس ریکارڈ میں ہوتی ہے،درخواست گزاروں کانسٹیبل خرم رفیق اوررضوان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں متاثرین نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کی استدعا کی تھی،اب یہ التواء پر التواء مانگ رہے ہیں،فاضل بنچ نے منہاج القرآن کے وکیل کو مختلف نکات پر بحث کے لئے کہا تو وکیل نے کہا کہ کل میرے دوست کے بیٹے کی اسلام آباد میں شادی ہے تاہم عدالت نے التواء کی استدعا مسترد کردی،اس کیس کی مزید سماعت آج 22نومبر کوہوگی۔اس کیس میں درخواست گزار سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے دو ملزم پولیس اہلکار ہیں،جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ازسرنو تحقیقات کے لئے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کے پنجاب حکومت کے اقدام کو چیلنج کررکھاہے،عدالت عالیہ پہلے ہی جے آئی ٹی کو تاحکم ثانی کام کرنے سے روک چکی ہے۔

ماڈل ٹاؤن کیس

مزید : صفحہ آخر