41فیصد لوگوں نے پاکستان سٹیزنز پورٹل پر اطمینان کا اظہار کیا،وفاق کا ہائیکورٹ میں جواب

41فیصد لوگوں نے پاکستان سٹیزنز پورٹل پر اطمینان کا اظہار کیا،وفاق کا ...

  



 لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے پاکستان سٹیزنز پورٹل پرنامعلوم افراد کی شکایات پر کارروائی سے روکنے سے متعلق اپنے عبوری حکم امتناعی میں 9دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو آئندہ تاریخ سماعت پر بحث کے لئے طلب کرلیا۔گزشتہ روزعلامہ اقبال میڈیکل کالج کے پروفیسر آف سرجری ڈاکٹرفاروق احمد رانا کی درخواست کے جواب میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان اشتیاق خان نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیاہے کہ پورٹل پربغیرنام اور شناخت کے کوئی درخواست وصول نہیں کی جاتی، سٹیزنز پورٹل کے پاس تمام شکایت کنندگان شہریوں کی شناخت موجود ہے،وفاقی حکومت کے پاس تیرہ لاکھ سے زائد شہری اس پورٹل پررجسٹرڈ ہیں، اس پورٹل پراب تک چودہ لاکھ سے زائد شکایات وصول کی گئی ہیں جن کو محکموں کے ذریعے حل کروایا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اکتالیس فیصد لوگوں نے پاکستان سٹیزنز پورٹل پراطمینان کا اظہار کیاہے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ پاکستان سٹیزنز پورٹل کاقیام اور اس کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے،وزیراعظم نے پاکستان سٹیزنز پورٹل قائم کرکے لوگوں کو براہ راست وزیراعظم سیکرٹریٹ سے شکایت کرنے کا متوازی نظام دے دیاہے لیکن اس بابت واضح راہنما اصول فراہم نہیں کئے گئے جو کہ بنیادی آئینی حقوق کے منافی ہیں،یہ پورٹل اوراس کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کی پشت پر کوئی قانون موجود ہے اور نہ ہی اسے قانونی تحفظ حاصل ہے،درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل کی ہدایت پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے خلاف انکوائری کررہے ہیں،جس کے بعدپاکستان سٹیزنز پورٹل پر درخواست گزار کے خلاف نامعلوم افراد کی طرف سے متعدد شکایات درج کروائی گئیں،نامعلوم افراد کی شکایات پر مجھے انکوائری بھگتنا پڑ گئی اور میری ساکھ کو نقصان پہنچا، رخواست میں پاکستان سٹیزنز پورٹل اور اس کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

رپورٹ پیش

مزید : صفحہ آخر