بی آر ٹی کیس میں سپریم کورٹ پر ذمہ داری ڈالنا مضحکہ خیز،اسفندیارولی 

بی آر ٹی کیس میں سپریم کورٹ پر ذمہ داری ڈالنا مضحکہ خیز،اسفندیارولی 

  



پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے چیئرمین نیب کا بی آر ٹی کی کرپشن، لا گت کی زیادتی اور منصوبے میں تاخیرکے بارے میں سپریم کورٹ پر ذمہ داری ڈالنا مضحکہ خیز ہے، اگر سپریم کورٹ نے منصوبے پر حکم امتناعی جاری کیا ہے تو یہ نیب اور اس کے چیئرمین کی ناکامی ہے کیونکہ حکم امتناعی تب ہی جاری ہوتا ہے جب دلائل کمزور ہوں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں سربراہ اے این پی نے چیئرمین نیب کی گذشتہ روز بی آر ٹی کے حوالے سے منطق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا نیب صرف الزاما ت کی بنیاد پر اپوزیشن اراکین کو گرفتار کرسکتی ہے لیکن ان میں شاید ہمت نہیں کہ حکومتی اراکین کی جانب سے اس نام نہاد میگاپراجیکٹ میں کی گئی کرپشن پر سوال اٹھائے۔ سپریم کورٹ کا نام لانے سے چیئرمین نیب خود کو بری الذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن شاید انہیں معلوم نہیں موجودہ حکومت میں بیٹھے کئی وزراء کہہ چکے ہیں یہ منصوبہ عجلت میں شروع کیا گیا جس کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، یہی وجہ ہے نہ صرف لاگت میں 100فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے بلکہ پشاور کے عوام کیلئے درد سر بن چکا ہے۔ ہم آج یہ کہنے میں حق بجانب ہیں پاکستان میں احتساب کے نام پر سیاسی انتقام جاری ہے جس میں صرف اپوزیشن اراکین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج تک جتنے لوگ گرفتار ہوچکے ہیں ان پر ایک پیسہ کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن چیئرمین نیب کسی کو خوش کرنے کیلئے صرف اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشا نہ بنارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا اگر اس طرح یکطرفہ انتقامی کارروائیاں جاری رہیں تو ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا جس کی ساری ذمہ داری عمران خان اور چیئرمین نیب پر آئیگی۔ اگر بی آر ٹی پر سپریم کورٹ حکم امتناعی جاری کرچکی ہے تو اس کو ختم کرنے کی ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ کیا ایک عام شخص سپریم کورٹ جا کر بی آر ٹی میں کی گئی کرپشن کے ثبوت دے یا احتساب کے نام پر بنے ادارے کا فرض بنتا ہے کہ وہ تحقیقات میں سامنے آنیوالی کرپشن کو عوام کے سامنے لائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا چیئرمین نیب بی آر ٹی منصوبے میں کی گئی کرپشن کو عوام کے سامنے لائے تاکہ نام نہاد ’بلا امتیاز احتساب‘ کے دعوے کرنیوالوں کی حقیقت عوام پر بھی ظاہر ہو اور اگر نیب ان ثبوتوں کو اکھٹا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے تو چیئرمین نیب کو اس کرسی پر براجمان ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں۔

اسفند یار ولی

مزید : صفحہ آخر