زائد المعیاد کیک کھا کر بچہ جاں بحق‘ ورثا کو انصاف کا انتظار

زائد المعیاد کیک کھا کر بچہ جاں بحق‘ ورثا کو انصاف کا انتظار

  



لودھراں (بیورورپورٹ) زائد المیعاد کیک کھاکر جاں بحق ہونے والے بچے کے والدین کو انصاف نہ مل سکا 8 روز گزرنے کے باوجود محکمہ فوڈ کی طرف سے کوئی رپورٹ موصول نہ ہوئی تفصیل کے مطابق گلی امیر والی کے رہائشی محمد امجدگھلو نے بتایا کہ میرے چھ سالہ بیٹے زین العابدین نے گلی کی ایک دکان سے بسکٹ اور کیک کا پیکٹ لے کر تھوڑا سا کھایا جس پر بچے کے منہ سے خون آنا شروع ہو گیا (بقیہ نمبر33صفحہ12پر)

فوری طور پر بچے کو ڈی ایچ کیو ہسپتال لودہراں میں لے جایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے کافی دیر تک اسکا علاج جاری رکھا لیکن دوران علاج بچے کی طبعیت سنبھل نہ سکی اور زین العابدین جاں بحق ہو گیا۔ جبکہ زہریلا کیک کھانے سے رباب کی طبیعت بھی خراب ہو گئی جسے فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لایا گیا جہاں پر اس کو بروقت طبی امداد دے کر کے اس کی جان بچا لی گئی۔ اس طرح رباب معجزانہ طور پر بچ گئی۔ محمد امجد گھلو نے مزید کہا کہ خبر سن کر پولیس تھانہ سٹی اور محکمہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم میرے گھر پہنچ گئی۔جنہوں نے ضروری کاروائی کرتے ہوئے کہا کہ بسکٹ اور کیک کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کروا کر کمپنی کے خلاف ضروری کاروائی عمل میں لائیں گے۔جسکا کمپنی کا کیک کھانے سے میرے معصوم بیٹے کی زندگی چلی گئی اس کمپنی کے خلاف سخت کاروائی کریں۔ تو فوڈ اتھارٹی لودھراں نے یقین دہانی کرائی کہ تین دن کے اندر آپ کو رپورٹ مل جائے گی مگر تاحال کوئی رپورٹ نہ مل سکی ہے کمپنی کے سیلز مین کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے پاس کوئی بھی زائد االمیعاد چیز آتی ہے تو ہم اس کو واپس کر دیتے ہیں مگر کمپنی دوبارہ اس چیز کو پیک کر کے تاریخ میں توسیع کر کے فروخت کیلئے مارکیٹ میں بھیج دیتی ہے اس کے علاوہ کمپنی کی طرف سے 20 لاکھ روپے دینے کی بھی آفر کی گئی ہے مگر بچے کے والدین نے رقم لینے سے انکار کر دیا والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کا کوئی اندوہناک واقعہ پیش نہ آسکے

انتظار

مزید : ملتان صفحہ آخر