منشیات فروشوں کا گھیرا تنگ‘ تعلیمی اداروں میں مانیٹرنگ کمیٹیاں بنانے کا حکم

  منشیات فروشوں کا گھیرا تنگ‘ تعلیمی اداروں میں مانیٹرنگ کمیٹیاں بنانے کا ...

  



ملتان (وقائع نگار) محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے میڈیکل و ڈینٹل تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے۔اور(بقیہ نمبر46صفحہ7پر)

اس مقصد کے لئے ویجی لینس کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔یہ کمیٹیاں میڈیکل یونیورسٹیوں،میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی حدود اور انکے ہاسٹلز میں منشیات کی روک تھام کیلئے کاروائی کریں گی اور منشیات استعمال کرنے والے طالبعلموں کی نشاندہی بھی کریں گے۔کمیٹی کے کنوینر شعبہ نفسیات کے پروفیسر،اراکین میں شعبہ میڈیسن،فورنزک میڈیسن اینڈ ٹاکسی کالوجی(Toxicology)،کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسرز،ادارہ کا قانونی مشیر،وائس چانسلر،پرنسپل یا ڈین کی جانب سے نامزد طلباء کا نمائندہ شامل ہوں گے۔اس کمیٹی کی ذمہ داریوں اور فرائض کا تعین بھی کردیا گیا ہے۔جسکے تحت یہ کمیٹی تعلیمی ادارے کے کیمپس اور ہاسٹلز میں سگریٹ فروخت کرنے کے پوائنٹس بند کروائے گی۔مختلف جگہوں پر شکایات بکس رکھوائے گی۔ادارے کے چھوٹے ملازمین،کنٹین ملازمین،مختلف نجی کمپنیوں،ٹھیکیداروں کے پاس کام کرنے والے ملازمین کی سکریننگ کرے گی کہ وہ بری سرگرمیوں یا منشیات کے استعمال میں ملوث تو نہیں۔اس کام کے لئے کمیٹی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی لے سکتی ہے۔یہ کمیٹی میڈیکل یونیورسٹی،میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کے وقت والدین سے ڈیکلریشن لے گی کہ ان کا بچہ یا بچی منشیات استعمال نہیں کرتے۔جن طلباء میں ایسی علامات پائی جائیں کہ وہ منشیات استعمال کرتے ہیں انکے لیب ٹسٹ کے لئے میکانزم بنایا جائے گا۔ہر طالبعلم کی ہیلتھ پروفائل بنائی جائے گی۔جسمیں انکا بلڈ گروپ،میڈیکل و سرجیکل ہسٹری،سگریٹ نوشی یا منشیات کا استعمال کرنے پر اسکا اندراج کیا جائے گا۔میڈیکل و ڈینٹل تعلیمی اداروں میں منشیات کیخلاف آگہی پیدا کرنے کے لیے واک،سیمینارز منعقد کرنے،بینرز آویزاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

حکم /مانیٹرنگ

مزید : ملتان صفحہ آخر