پنجاب حکومت کے مثالی اقدامات

پنجاب حکومت کے مثالی اقدامات

  



: ایک نظر میں

تحریر: جاوید یونس

پاکستان تحریک انصاف نے جب مسند اقتدار سنبھالا تو معاشی حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ مگر وزیراعلیٰ سردار عثمان خان بزدار نے خود کو حالات کے بہاﺅ پر نہیں چھوڑا بلکہ تیزی سے ایسے اقدامات کئے کہ حالات سنبھلنے لگے اور ڈوبتی معیشت کو سہارا ملنے لگا۔یوں ماضی کے زخموں کا علاج اور ترقی کی منصوبہ بندی ہونے لگی۔ چنانچہ آج جب ہم پلٹ کر حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو موجودہ صورتحال کے اطمینان بخش ہونے کا احساس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روشن مستقبل یقینی دکھائی دیتا ہے۔ حکومت نے تمام شعبوں میں ایسے شاندار اقدامات کئے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے اس شعبہ کی ترقی اور نوجوان نسل کو جدید علوم سے بہرہ مند کرنے کیلئے جامع اور ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ہایئروسیکنڈری ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ حکومت نے سپیشل ایجوکیشن اور نان فارمل ایجوکیشن پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی زیادہ خوشبو دیتاہے، جن قوموں کے پاس زیادہ علم ہوتا ہے ان پر قسمت کی دیوی بھی اتنی ہی مہربان ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ سردارعثمان خان بزدار اس بات کا مکمل ادراک رکھتے ہیںکہ نوجوان نسل کو زیورتعلیم سے آراستہ کئے بغیر ترقی و خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے حکومت پنجاب نے مثالی اور انقلابی اقدامات کئے ہیں جن کے دوررس نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

2500 ملین روپے سے 6یونیورسٹیاں نارتھ پنجاب یونیورسٹی چکوال، یونیورسٹی آف میانوالی، کوہسار یونیورسٹی مری، تھل یونیورسٹی بھکر ، ننکانہ صاحب میں گورونانک یونیورسٹی اور چاکر اعظم یونیورسٹی ڈی جی خان قائم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح 828ملین روپے سے 43 نئے کالجز کا قیام،31کالجز میں سہولیات کی فراہمی کے لئے 38.3کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔5 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹیوں میں نئی عمارتوں جن میں ایڈمن بلاکس، ہاسٹلز، لیبز اور لائبریریوں کی تعمیر شامل ہے۔ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے 10کالجز میں بی ایس بلاکس قائم کئے جا رہے ہیں۔50کالجز میں بی ایس پروگرام کے لئے این او سی جاری کیاگیا۔10 کروڑ کی لاگت سے ملٹی میڈیا سے مزین سمارٹ کلاس رومز کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیاگیا ہے۔پیف سکالرشپ کے ذریعے 76ہزار سے زائد ہونہار اور ذہین طالب علم مستفیدہو رہے ہیں۔یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر مری سے سافٹ سکلز کی تربیت۔ 43تربیتی ٹریننگز،972سکالرز کی کپیسٹی بلڈنگ کی گئی جبکہ گریڈ17- 18میں نئی بھرتیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔2156اساتذہ کی ٹریننگ کی گئی۔

اساتذہ کے تبادلوں کیلئے صاف اور شفاف پالیسی اپنائی گئی ہے اور ای ٹرانسفر پالیسی پر کامیابی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ اب کوئی استاد دفتروں کے چکر نہیں لگاتا بلکہ اب اساتذہ آن لائن اپنی ٹرانسفر کی درخواست دے سکتے ہیں۔پنجاب کے سکولوں کی تعمیر و ترقی پروگرام کے تحت 11 اضلاع میں 100 ماڈل سکول، 2500 نئے کلاس روم، 1000 سائنس لیب، 400 لائبریریز بنانے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔

پنجاب کے تعلیمی نظام میں بہتری کے لئے قانون سازی کی گئی ہے اور پنجاب ایجوکیشن پروفیشنلز سٹینڈرڈز کونسل بل لایاگیا ہے اور پرائیویٹ سکولوں میں لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق فیسوں میں بیس فیصد کمی کا اطلاق کیاگیاہے۔سرکاری سکولوں میں طلبا کی بہتر سمجھ اور رٹا سسٹم سے چھٹکارے کے لئے پرائمری لیول پر تعلیم اردو میں دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔انرجی کے بحران سے نمٹنے کیلئے جنوبی پنجاب میں 10800 سکولوں کوسولر سسٹم پر منتقل کیاگیا ہے۔سال 2019 - 2020ءکے لئے سرکاری سکولوں میں4 کروڑ سے زائد مالیت کی کتابیں تقسیم کی گئی ہیں۔

خصوصی افراد کو معاشرے کا مفید شہری بنانے اور انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے پی ٹی آئی حکومت نے پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپیشل ایجوکیشن پالیسی کا اجراءکیاہے تاکہ خصوصی افراد کی تعلیم کو درست سمت پر استوار کیا جاسکے۔پنجاب بھر میںخصوصی افراد کے انسٹی ٹیوٹس کی تجدید نو کی 17سکیمیں، نئے کیمپسز کی تعمیر کی 36سکیمیں اور نئے انسٹی ٹیوٹس کے قیام کے لئے 15سکیمیں تیارکی گئی ہیں۔خصوصی بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پنجاب بھر کے سپیشل ایجوکیشن کے اداروں کے طالب علموں کے لئے 335ملین روپے سے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیاگیاہے۔پچاس ملین روپے سے مڈل لیول سپیشل ایجوکیشن سینٹرز کی سکینڈری لیول ایجوکیشن پر ایکریڈیشن۔ لاہور، خانپور، رحیم یار خان، صادق آباد اور اوکاڑہ میںسپیشل ایجوکیشن کے اداروں کی لائبریریوں کے لئے 14ملین روپے کی لاگت سے کتب فراہم کی گئی ہیں۔معذور افراد کے لئے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کی کپیسٹی بلڈنگ پر تقریباً 10 ملین روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔

زیور تعلیم سے محروم افراد اور بچوں کو تعلیم کے نیٹ ورک میں لانے کیلئے پنجاب میں پہلی مرتبہ ”پنجاب لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن پالیسی“ تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت تعلیم سے محروم 22000 سے زائد بچوںکو سکولوں میں داخل کیاگیاہے۔12000بچوں کو غیررسمی عارضی تعلیمی اداروں سے مستقل مستند تعلیمی اداروں میں منتقلی کا پروگرام مرتب کیاگیاہے۔اسی طرح خواجہ سراﺅں کے لئے 3 انسٹیٹیوشنز اور خانہ بدوشوں کے لئے 15 ادارے قائم کئے جا رہے ہیں۔قیدیوں کی تعلیم کے لئے جیلوں میں83 "Adult Literacy Centers" کا قیام عمل میں لایاگیا ہے جبکہ پانچ اضلاع میں 220انسٹیٹیوٹس کو یونیسف کے تعاون سے فعال بنا دیا گیا ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں زمینی نیٹ ورک یعنی ذرائع نقل و حمل بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ذرائع مواصلات کو ترقی دیئے بغیر ترقی و تصور نہیںکیاجاسکتا ہے ۔کہاجاتا ہے کہ اگر کسی قصبہ دیہات میں نیاکلچر متعارف کرانا ہو وہاں پر سڑک تعمیر کر دی جائے۔سڑکوں کی تعمیر و تزئین آرائش سے نہ صرف بچوں کو تعلیمی اداروں میں آنے جانے میں آسانی ملتی ہے بلکہ کسانوں کو بھی اپنی پیداوار کھیت سے منڈی تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔ ماضی میں سڑکوں کی تعمیر و کشادگی کیلئے جو ٹینڈر وغیرہ دیئے جاتے ان کو خفیہ رکھاجاتا جس سے کرپشن و بدعنوانی کے مواقع موجود تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے ٹینڈرنگ کے سسٹم کو مکمل طور پر صاف و شفاف بنادیا ہے اور ای ٹینڈرنگ کا نظام متعارف کرایا ہے۔ اس سلسلے میں آفیسرز کی ٹریننگ اور ٹھیکیداروں کی تفصیلات اپ لوڈنگ کاکام آخری مراحل میں ہے۔ ”نیاپاکستان منزلیں آسان“ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 15ارب روپے کی لاگت سے دیہی علاقوں میں 1200کلومیٹر فارم ٹو مارکیٹ روڈ کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان خان بزدار کی ہدایت پر سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا تعین اب فرسودہ نظام کی بجائے جدید اور شفاف جی آئی ایس میپنگ کے ذریعے روڈ اسسمنٹ سسٹم کا اجراءکیاگیا ہے۔ اس نئے جدید سسٹم کے آغاز سے فنڈز کے ناجائز استعمال کا خاتمہ ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ کی کاوش سے ”جڑیں گے نئے رابطے، ملیں گے اب نئے راستے ،سمٹیں گے سب فاصلے“ کے تحت 1000ملین روپے کی لاگت سے تونسہ اور لیہ کو ملانے کے دریائے سندھ پر 4رویہ پل اور دو رویہ اپروچ روڈ تعمیر کی جائیں گی۔اسی طرح 8500ملین روپے سے کشمور، ڈی جی خان رمک ہائی ویز، 2400ملین روپے کی لاگت سے راجن پور ڈی جی خان 4رویہ ہائی ویز، 500ملین روپے سے دریائے سندھ پر غازی گھاٹ کے مقام پر پل اور 200ملین روپے سے ملتان اور مظفرگڑھ کے درمیان دریائے چناب پر پل تعمیر کیاجائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز کو تمام قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ چاروں صوبوں کے شاندار کلچر پوری دنیا میں ایک منفرد مقام اور پہچان رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں صوبہ پنجاب کے تاریخی مقامات اور کلچر اور روایات کو پروموٹ نہیںکیاگیا جس کی وجہ سے صوبہ سیاحت کے حوالے سے پسماندہ رہ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان خان بزدار کی قیادت میں حکومت نے صوبہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی سیاحتی پالیسی کا نفاذ کیاہے۔177تاریخی اہمیت کے حامل ریسٹ ہاﺅسز کو عوام کیلئے کھول دیاگیاہے اور گورنمنٹ ہاﺅس مری تک عام آدمی کی رسائی ممکن کر دی گئی ہے۔ قومی ورثہ کے حوالے سے ٹورازم کے فروغ کیلئے جی آئی ایس میپنگ کا اجراءکیاگیاہے۔سکھ برادری کیلئے کرتارپور کو ریڈور کا افتتاح کردیاگیاہے ، دنیابھر سے لاکھوں سکھ پاکستان آئیں گے جس سے نہ صرف مذہبی ٹورازم کو فروغ حاصل ہوگابلکہ کثیرزرمبادلہ بھی پاکستان آئے گا۔ اسی طرح ”Hidden Gems of Lahore“ کے تحت لاہور کے غیرمعروف مقامات کی نشاندہی اور ان کی پروموشن کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔چکوال میں 15مقامات، کوٹلی ستیاں اور کوہ سلیمان میں ریزورٹس اور پارک ویز کا قیام عمل میں لایاجا رہا ہے۔ تھل چولستان میں صحرائی ویلی، پاوربوٹ مارچ پاسٹ اور فروٹ ٹورازم کے فروغ کیلئے پہلی بار فیسٹیولز کا انعقادکیاگیا۔

پنجاب کے باسیوں کو اس وقت سب سے اہم جو مسئلہ درپیش ہے وہ پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کی 80فی صد آبادی گندا اور غیرمحفوظ پانی پینے پر مجبور ہے اور سالانہ 11لاکھ افراد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطاق لاہور کے ہسپتالوں میں 50فی صد مریض بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث داخل ہوتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پر وزیراعلیٰ سردار عثمان خان بزدار نے ”آب پاک اتھارٹی“ قائم کی ہے جس سے یقینا پنجاب کے مکینوں کو صاف پانی میسر ہوگا۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورکو ”آب پاک اتھارٹی“ کا پیٹرن انچیف مقررکیاگیاہے۔گورنر پنجاب اس پر پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں یہ ان کا جذبہ اور عزم ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور مختلف غیرسرکاری تنظیموں کے ذریعے صوبوں کے مختلف علاقوں اور صوبہ بھر کی تمام جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس لگا چکے ہیں۔ وہ حقیقتاً عوامی فلاح کے کام کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں ان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فلاح کے شعبہ میں وہ اپناایک الگ مقام رکھتے ہیں۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور پنجاب کا زرعی شعبہ میں اہم حصہ ہے۔ زراعت کے فروغ میں محکمہ آبپاشی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت پنجاب نے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے ”پنجاب واٹر پالیسی2018ء“اور واٹر ایکٹ 2019ءنافذ کیا ہے۔ قانون سازی کے ذریعے صوبائی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانی کی احسن انداز میں مینجمنٹ کے لئے نہ صرف ریزروائرز بلکہ واٹر کنزرویشن اور گورننس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ گریٹر تھل کینال چوبارہ برانچ کی 10ارب روپے کی لاگت سے 278میل لمبی کینال کی تعمیر کی جائے گی جس سے 3لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔ اسلام بیراج کی اپ گریڈیشن سے 10لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہو گی جس پر 3 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ تریموں اور پنجند بیراجوں کی اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے اور 70فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے 30لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی ملے گا اور ڈس چارج کپیسٹی 17لاکھ کیوسک تک بڑھ جائے گی۔ جلالپور کینال کی تعمیر سے جہلم اور خوشاب میں 80دیہاتوں کے 2لاکھ 28 ہزار افراد مستفید ہوں گے جبکہ ایک لاکھ 60ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہو سکے گی۔

زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے قانون سازی کے ذریعے جامع اصلاحات کی گئی ہیں۔نئی اصلاحات اور ریفارمز میں زرعی پالیسی کا اجرائ، پیمرا ایکٹ میں ترامیم، ایچ آر انفارمیشن سسٹم کے اجراءکے ساتھ ساتھ منڈی ایپ جس کے ذریعے مارکیٹوں کا ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیاگیاہے۔ فصلوں کی بیمہ پالیسی کیلئے پریمیم پر ساٹھ ہزار کسانوں کو 100ملین روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ زرعی ایمرجنسی کے تحت 18ارب کی لاگت سے واٹرکورسز کی تجدید نو کے کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ایک لاکھ 60ہزار کسانوں کو دس ارب روپے کے بلاسود قرضوںکی فراہمی۔ پنجاب میں ماڈل مارکیٹ کے قیام کیلئے ایک ارب روپے سے زمین خریدی گئی ہے۔دو ارب روپے سے ڈرپ اور سپرنکلر ایریگیشن سسٹم کی سولرائزیشن کی گئی ہے جبکہ دو ارب روپے سے جنوبی پنجاب میں Horizontalلینڈ ڈویلپمنٹ کا کام کیا جا رہا ہے۔دو ارب روپے سے ماحول دوست فارمنگ کا نفاذ کیا گیا ہے۔

لائیوسٹاک کو ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کرنے اور جدید سہولیات سے لیس کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے پنجاب کیلئے لائیوسٹاک پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔پنجاب انیمل ہیلتھ ایکٹ 2019ءکی منظوری دی گئی ہے ،جس سے بین الاقوامی سطح پر پنجاب کے شعبہ لائیوسٹاک کے فروغ،ایکسپورٹس میں اضافہ اور پیداوار کی او آئی ای کے معیار سے مطابقت ممکن ہو سکے گی۔موبائل ویٹ ڈسپنسریوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور ڈیرہ غازی خان سے منصوبے کا آغازکیا گیا ہے۔لائیوسٹاک کی پیداوار بڑھانے کیلئے PPRکے خاتمے کیلئے جنوبی پنجاب کے تین اضلاع ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور میں مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ایف ایم ڈی فری زونز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں بہاولپور ڈویژن اور چولستان سے آغاز کیا گیا ہے جس کے 100 فیصد نتائج برآمد ہوئے ہیں۔بیماریوں سے پاک زونز کا قیام۔ پنجاب بھر کو لائیوسٹاک کے حوالے سے غیرملکی سرمایہ کاری کامرکز بنانے کیلئے پروگرام کاآغاز کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح کی بفلوکانفرنس کاانعقاد، ویٹ اور پیراویٹس کی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا ہے۔

حکومت نے عام آدمی کو اپنی چھت فراہم کرنے کے لئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ ماضی میں غریب آدمی کے ساتھ گھر فراہم کرنے کے نام پر فراڈ کیا گیا۔ موجودہ حکومت نے عام آدمی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیم کا آغاز کیا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے ”نیاپاکستان ہاﺅسنگ پروگرام“ کے تحت سنگل اور ڈبل سٹوری گھر ابتدائی طور پر بھکر ، لودھراں، چشتیاں، رینالہ خورد، لیہ اور خوشاب میںدستیاب ہوںگے۔خواہش مند افراد سے درخواستوں کی وصولی کا عمل جاریہے۔ پراجیکٹ کیلئے 5ارب کے فنڈز کی منظوری پہلے ہی دی جاچکی ہے اور پرائیویٹ ہاﺅسنگ سکیم قوانین 2019ءکے اجراءسے اس پراجیکٹ کو محفوظ اور مضبوط بنادیاگیاہے۔واسا کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے کسٹمر کیئر سروس ”حاضر سر“ کے نام سے شکایات سینٹر کا آغاز کیا گیا ہے۔جنوبی پنجاب میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے ڈیرہ غازی خان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔دوردراز علاقوں میں 900ہینڈ پمپس کی فوری تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان خان بزدار کی قیادت میں حکومت پنجاب ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہے۔ حکومت کی نیک نیتی اور اخلاص کا ثبوت یہ ہے کہ عام آدمی نے حکومت کے بیانیہ کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کی لاکھ کوششوں کے باوجود لوگ ان کی باتوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں او ر اپوزیشن کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لئے اس مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

٭٭Article-Punjab Gov't Development Work by Javed Younis.٭٭

مزید : ایڈیشن 2