پروفیسر مولوی محمد شفیع تعلیم تحقیق کا ایک درخشاں باب

پروفیسر مولوی محمد شفیع تعلیم تحقیق کا ایک درخشاں باب

  



پروفیسر مولوی محمد شفیع ایک ماہر تعلیم اور مانے ہوئے محقق اور اردو عربی کے عالم تھے۔وہ 6، اگست 1883ءکو قصبہ قصور میں پیدا ہوئے۔ 1905ءمیں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا،بعد ازاں انھوں نے عربی ادبیات میں ایم اے کیا۔

1906ءمیں محکمہ تعلیم میں نارمل سکول لاہور میں سیکنڈ ماسٹر اور بعد میں انسپکٹر مدارس کے عہدے پر کام کیا۔1913ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیویٹ ایم اے اُردو کیا۔

مولوی محمد شفیع اعلیٰ تعلیم کے لیے 1915ءمیں حکومت ہند کے سکالر شپ پہ انگلستان چلے گئے اور وہاں 1918ءتک انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں سے بی اے کرنے کے بعد وہ عربی کے شعبہ میں تحقیق کرتے رہے۔پھر وہیں سے ایم اے کیا اسی دوران 1918ءمیں انھیں وہاں پر اردو زبان وادب کی تدریس کا موقع بھی ملا۔

وہ واپس لاہور آگئے اور فروری 1919ءمیں پنجاب یونیورسٹی میں عربی کی تدریس کے لیے ان کا تقرربطور پروفیسر کردیا گیا۔یہاں وہ عربی فارسی کے شعبہ میں تدریس میں مصروف رہے۔مسٹر اے۔سی وولنر یکم جنوری 1920ءسے چھ ماہ کی رخصت پر گئے تو پروفیسر محمد شفیع ان کی جگہ عارضی پرنسپل لگا دئے گیے۔1921ءسے پروفیسر محمد شفیع وائس پرنسپل بنے اور مسٹر اے۔سی۔وولنر کے انتقال کے بعد 22 جنوری 1936ءکوپنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج کے پرنسپل مقرر ہوگئے۔ 30 ستمبر1942ءکو مولوی محمد شفیع پروفیسر عربی اور پرنسپل کالج کے عہدوں سے سبکدوش ہوگئے۔ انھیں حکومت نے 1942ءمیں خان بہادر کا خطاب دیا۔

اردو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کمیٹی (اردو دائرہ معارف اسلامیہ)کا منصوبہ ڈاکٹر سید عبداللہ کی محنت اور کوششوں سے بروئے کار آیا۔1950ءمیں پنجاب یونیورسٹی نے اس منصوبے کی منظوری دی اور پروفیسر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کواس ادارے کاچیئرمین اور مدیر اعلیٰ( چیف ایڈیٹر) مقرر کیا گیا۔انھوں نے کالج سے فراغت کے بعد انسائیکلو پیڈیا کے اردو ترجمہ کی نگرانی کا کام شروع کیا۔

اردو انسائیکلو پیڈیا آف اسلام :1950ءمیں یہ شعبہ لائیڈن کی انسائیکلو پیڈیا کی چار جلدوںکا ترجمہ کرنے کے لیے قائم ہوا تھا۔ ترجمے کا کام 1960ءتک ختم ہوگیا ۔

انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد شعبہ اردو اورینٹل کالج میں بھی عارضی(جزوقتی) لیکچرار کی حیثیت سے کام کیااور1961ءتک مختلف اوقات میں ڈین آف فیکلٹی کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

اس دور میں پنجاب یونیورسٹی میں حافظ محمود شیرانی، شیخ محمد اقبال، ڈاکٹر شیخ عنایت اللہ ڈاکٹر سید عبداللہ اور مولانا عبدالعزیز المیمنی جیسی شخصیات موجود تھیں جنھوں نے علمی سطح پر تحقیق کے لیے نئی راہیں متعین کیں ، تجسس، جستجو اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔

مولوی محمد شفیع کی شخصیت میں انفرادیت ، بردباری، متانت اور کشش تھی۔ان سے مل کر معلوم ہوتا تھا کہ کسی علمی شخصیت سے ملاقات ہورہی ہے۔ان کاخاکہ بیان کرتے ہوئے سید حسام الدین راشدی لکھتے ہیں:” قد دراز، مضبوط کاٹھی، بدن چوڑا چکلا، کھلا ہوا گندمی رنگ، چہرہ مہرہ مردانہ نہایت شاندار اور پروقار، پیشانی کشادہ اور تابندہ، آنکھیں چھوٹی لیکن چمکدار اور اتنی تیز کہ تاب لانا بڑا ہی مشکل کام تھا، بلکہ ناممکن تھا کہ ان کو گھورکے دیکھا جاسکے۔ مونچھیں مناسب حد تک لمبی اور اس دور کی یادگار جس دور میں مرد مرد دکھائی دیتے تھے۔ ان کا منہ بہت دلکش اور ٹھوڑی بہت خوبصورت اور جاذب تھی۔ سر کے بال جھڑ چکے تھے، کنپٹیوں پر بال جتنے بھی تھے وہ سفید ہوچکے تھے۔ آواز باریک نہایت ملائم اور حریروپرنیان کی طرح نرم اور نازک۔ایسی آواز۔ تند اور تلخ کبھی’کاہے کو ہوتی ہوگی‘سراسر مشفقانہ اور دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والی یہ آواز تھی۔“

پرانی وضع قطع کے روایتی لباس پہننے والے ایک وضعدارانسا ن تھے ۔مگرعملی زندگی کی طرح لباس کے معاملے میں بھی صفائی پسند تھے۔

وہ جسم پر سفید شلوار میل خور رنگ کی شروانی اور کھڑی دیوار کی سرخ ترکی ٹوپی سر پر رکھتے تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں موڑ سے اترتے وقت لکڑی کا سہارا لیے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے خیمے میں داخل ہوتے۔

انھوں نے زندگی کو ایک ضابطہ کے تحت گزارا۔ ہر لمحے کو قیمتی بنایا۔ نئے نئے علمی اور تحقیقی کاموں میں مصروف رہتے۔ان کی زندگی ایک سانچے میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے۔ان کی زندگی میں ایک اطمینان اور سکون کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔

ان کی شخصیت دل موہ لینے والی تھی۔وہ ایک دیانت دار اور کھرے انسان تھے۔ غلط بات پسند نہیں کرتے تھے اور وقت کو بے کار کی باتوں میں ضائع کرنا گناہ سمجھتے تھے۔

سیرت اور مزاج

مولوی محمد شفیع ایک محنتی اور بااصول انسان تھے۔ وہ اپنے تحقیقی کاموں اور علمی مصروفیتوں کی وجہ سے خشک مزاج سمجھے جاتے تھے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھاان کی شخصیت میں سختی ان کی اپنے کام سے لگن اور دیانت و جانفشانی کی وجہ سے نظر آتی تھی۔

وہ بہت دلچسپ، بڑے شفیق اور مزاج کے نہایت مہربان اور ملائم ۔ان کی باتیں تلطف آمیز، ان میں دل بڑھانے والی شفقت تھی جو آدمی کو ان کا گرویدہ بنا دیتی تھی۔

انھوں نے اپنی زندگی اصولوں اور ضابطے کے تحت گزاری۔ہر لمحے اور ہر گھڑی کو کارآمد بنایا ، اپنے شب وروز کو اپنے تحقیقی اور علمی کاموں سے قیمتی بنایا۔ان کا اٹھنے والا ہر قدم منزل کی طرف آگے کی جانب تھا۔ وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی کھوج میں تحقیقی اور تلاش مین لگے رہتے ۔ انھوں نے نئی معلومات کے حصول کے لیے تحقیق کا کٹھن راستہ اپنایا۔

وہ آرام نہیں کرتے تھے بلکہ کام ، تحقیق اور دریافتوں کے عمل کی مسلسل مصروفیات میں انھیں سکون اور آرام ملتا تھا۔انھوں نے اپنی زندگی اک علمی شیڈول کے مطابق گزارا۔ ان کی زندگی ایک سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔ انھیں اپنے کام ہی میں آرام ، چین اور اطمینان ملتا تھا۔

مولانا ان لوگوں سے خشک رویہ رکھتے تھے جو ذہنی افلاس کا شکار تھے ۔ وہ فکری ، علمی اور تحقیقی حوالے سے عام چلتی ہوئی چیز اور سطحی لکھت کو برداشت نہیں کرتے تھے۔

وہ صاحب نظر تھے۔ نکتہ رس اور باریک بین تھے۔تحقیقی طلبی ان کی شخصیت کا لازمی جزو تھی۔ان کی تحقیقی دنیا لامحدود اور وسیع تھی۔ذہنی گیرائی اور فکری رسائی رکھتے تھے۔”مولانا کی شخصیت اپنے کردار عمل خواہ علم کے لحاظ سے، ہمارے لیے نہ فقط مثالی بلکہ مشعل راہ ہے۔ ان کو اپنے موضوعات سے لگاو¿ ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک عشق تھا۔“وہ مردم شناسی کا ملکہ رکھتے تھے۔ اچھے لوگوں کے قدردان تھے۔ اپنی خوش مزاجی اور شخصیت کی کشش کی وجہ سے اہل علم میں مقبول تھے۔

وہ ہمہ وقت اپنے کام میں مصروف رہتے تھے اور علمی وتحقیقی موضوعات کی ٹوہ میں منہمک رہتے تھے۔گھر میں ہوں، دانش گاہ میں یا اندرون ملک یا بیرون ملک سفر میں ہوں وہ تحقیق اور علم کی متلاشی رہتے تھے۔

ان کی یاداشتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حافظہ کمال کا، حیرت انگیز حد تک وسیع، انتہائی دقیق اور قابل رشک تھا۔وہ انگریزی، اردو، فارسی، عربی، جرمن، لاطینی سریانی، ترکی پنجابی اور ہسپانوی زبانیں جانتے تھے۔

اسفاراور اعزازات

۹۱۵۳ءمیں انھیں حکومت کی جانب سے علمی وثقافتی دورے پر ایران جانے والے وفد کی سربراہی کے لیے منتخب کیا ۔انھوں نے اس وفد کے ساتھ ایران کے کئی مشہور مقامات کا دورہ کیا۔

ایران کی حکومت نے ان کی تحقیقی اور علمی سرگرمیوں کے اعتراف میں انھیں ایران کا نشان علمی پیش کیا۔

دوسرا سفر بھی انھوں نے ایران کا کیا۔ جہاں وہ1953ءمیں ابن سینا کے حوالے سے ہونے والے ہزار سالہ جشن میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے۔

دوسرا سفر انھوں نے انگلستان کا کیا۔ جہاں انھوں نے کیمبرج میں منعقد ہونے والی مستشرقین کی بین الاقوامی 23 ویں کانفرنس میں شرکت کی اور وہاں پنجاب یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔

کیمبرج سے واپس آکر وہ پھر دوبارہ دائرة المعارف اسلامیہ اُردو کی ترتیب وتالیف کا کام کرنے لگے۔بعد ازاں وہ پنجاب یونیورسٹی کی سینٹ کے رکن بھی رہے اور کلیہ¿ علوم مشرقی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ وہ شہنشاہ ایران کی جانب سے مجلس اعانت کے ناظم اور سربراہ بھی مقرر کیے گئے۔انھوں نے عربی فارسی کی انجمن بھی بنائی اور اس کا تحقیقی مجلہ بھی جاری کیا جس کی ادارت کا فریضہ بھی انھوں نے سنبھالا۔

1942ءمیں انھوں نے اورینٹل کالج میگزین جاری کیا ۔یہ ان کا ایک اہم تحقیقی اور علمی کارنامہ ہے۔یہ رسالہ 1925ءسے اگست 1942ءتک مولوی محمد شفیع کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔

مشرقی زبانوں کے حوالے سے انھوں نے جو خدمات سرانجام دیں ان کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی نے انھیں 1952ءمیں ڈاکٹریٹ (D.O.L)کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

اکتوبر 1955ءمیں پروفیسر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی خدمت میں ایک ارمغان علمی پیش کیاگیا۔جس میں ان کی سوانح وشخصیت کے علاوہ مختلف محققین اور علماءکے 41 تحقیقی مقالات شامل کیے گئے۔

اس ارمغان علمی میں ۱۲ مقالہ جات اردو میں، 6 مقالہ جات فارسی میں،4مقالہ جات عربی میں 15مقالہ جات اور دیگر6 تحریریں انگریزی زبان میں شامل کی گئی ہیں۔3 مضامین فرانسیسی میں اور ایک مضمون جرمن زبان میں ہے۔یہ مضامین ومقالات کا ایک ایسا گلدستہ ہے جو علمی اور تحقیقی نوعیت کی تحریروں پر مشتمل ہے۔

1959ءمیں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں نشان ستارہ¿ پاکستان عطا کیا۔

بڑھاپے میں بھی وہ جوانوں کی طرح کام کرتے تھے۔ کام کے وقت وہ اپنے ضعف اور بڑھاپے کو بھول جاتے تھے کمزوری یا کسی بھی قسم کے ضعف کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔وہ اپنی کتابوں اور عبارتوں میں خود کو مصروف کر لیتے تھے۔آخری دنوں میں انھیں دل کا عارضہ ہوگیا تھا۔ مگر اس حالت میں بھی انھوں نے کام کرنا نہ چھوڑا۔

11 مارچ بروز سوموار انھیں ہلکا سا بخار ہواجس کی وجہ سے انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔ بدھ کی دوپہر تک ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ لیکن دوپہر کے بعد طبیعت بگڑنے لگی اور نبض ڈوبنے لگی ۔وہ 14مارچ1963ءبمطابق 18 شوال 1372ھ کو لاہور میں رات بارہ بجے اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔اگلے دن شام پانچ بجے انھیں اچھرہ ،لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

مولوی محمد شفیع کی وفات سے تحقیقی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔دائرہ معارف اسلامیہ کے حوالے سے پروفیسر حمید احمد خاںلکھتے ہیں:”یونیورسٹی نے چند ایسے علمی ادارے بھی قائم کیے ہیں جنھیں قوم کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کا تحقیقی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان میں دائرہ¿ معارف اسلامیہ کو ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی وفات سے شدید نقصان پہنچاتھا ۔ تین چار برس تک کام کی رفتار پر بھی اس کا اثر پڑتا رہا۔“

تحقیق اور خاص طور پر معیاری تحقیق کے حوالے سے ان کی ذات سے وابستہ جو فیوض وبرکات کا سلسلہ تھا وہ بند ہوگیا۔

علمی وتحقیقی سرگرمیاں

مولوی محمد شفیع ایک متنوع الجہات شخصیت کے مالک تھے۔انھوں نے زبانوں کے حوالے سے اور خاص طور پر عربی فارسی کے میدان میں تحقیقات کو اپنا محورومرکز بنایا۔انھوں نے اس حوالے سے گرانقدر کام کیا۔ کئی علمی رسائل اور کتابیں تالیف کیں۔ انھوں نے کئی تحقیقی مقالات رقم کیے۔تاریخ وفرہنگ ایران پر خصوصی کام کیا۔

انھوں نے ٹھوس اور علمی بنیادوں پر تحقیق کی بنیاد رکھی۔ شعروادب،خطاطی، مصوری، سوانح، تاریخ، کتبات، مقابر جیسے شعبوں میں بھی تحقیقی کام کیے۔ نئی نئی دریافتیں کیں۔تیموریوں کی تاریخ کے حوالے سے عقدہ کشائیاں کیں۔

”ان کی یہ خواہش اور کوشش رہی کہ ملک میں تحقیق کا معیار بہت بلند ہونا چاہئے اور قلم سے جو بات نکلے وہ سپاٹ سرسری اور پست نہ ہو بلکہ جچی تلی با ت ہو۔ “تدوین کے حوالے سے بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔تصحیح متون کے حوالے سے بھی وہ ایک قابل انسان تھے، جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ بقول احمد ربانی:”نادر متون کی تصحیح واشاعت تو ایسے موضوعات میں سے ہے جن کی بنا پر انھیں دنیا بھر میں دائمی شہرت حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ کتاب شناسی یعنی نادر قلمی نسخوںکو متعارف کرانے سے آپ کو والہانہ لگاو¿ تھا۔اس سے ان کی دقتِ نظر اور وسعتِ معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔“خزائن مخطوطات اور کتب خانوں کے نوادرات کا وہ جس طرح تعارف پیش کرتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخطوطات کے جوہر شناس تھے۔

”ڈاکٹر مولوی محمد شفیع مرحوم کو عربی ادبیات کے علاوہ پاکستان وہند کی علمی وادبی سرگرمیوں کی روداد کی تکمیل سے بھی خاص دلچسپی تھی اور انھیں کتبات ، خطاطی اور دیگر اسلامی فنون کے بعض پہلوو¿ں سے بھی بغایت شغف تھا۔ یہ وہ خوبی ہے جو دیگر محققین اور مو¿رخین میں شاذ ہی دستیاب ہوتی ہے۔“انھوں نے جو علمی اور ثقافتی سرمایہ چھوڑا ہے وہ اہل تحقیق اور تہذیب وتمدن کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے نئی منزلوں کا نشان راہ ثابت ہوگا۔وہ ایک سچے محقق تھے جن میں ایک اچھے محقق کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔

”ایک محقق میں جن صفات کا ہونا ضروری ہوتا ہے وہ ساری صفات ان کی ذات گرامی میں بدرجہ اتم موجود تھیں یعنی معیاری علمی ذوق، ادب وتاریخ سے والہانہ لگاو¿، دقت نظری، کمال احتیاط، وسعت معلومات، کتب و مخطوطات سے بے پناہ محبت-یہ سب ان کی طبیعت میں اس طرح رچ بس گئی تھیں گویا قدرت کی طرف سے ورثے میں ملی ہوں۔“

تحقیقی کام کے لیے ان کا ایک معیار تھا۔ وہ اس معیار سے کبھی نیچے نہیں آتے تھے۔تحقیق بھی ایسی کہ ہر بات اور دریافت کی وضاحت کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔”مستند حوالہ جات تشفی بخش تصریحات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہیں اور جہاں جہاں دوسرے حوالہ جات کی طرف قاری کی رہنمائی ضروری معلوم ہوئی ہے ،وہاں مطلوبہ حوالہ جات صحت وتفصیل سے درج کر دیے گئے ہیں ۔ مو¿رخ اور محقق کے لیے جہاں کہیں لمحہ¿ فکریہ پیدا ہوا ہے، علامہ شفیع کبھی اس مقام سے بے نیازانہ نہیں گزرے ۔“معیار مقرر کرنے کے بعد وہ اپنے موضوع سے متعلق تحقیق کے اصول وضوابط بناتے اور پھر ان اصول وضوابط کی پابندی کرتے۔

”مولوی محمد شفیع کے تحقیقی کام کی اہمیت وعظمت اور بین الاقوامی شہرت کا راز یہی ہے کہ انھوں نے ہر قسم کی تحقیق سے پہلے اس کے لیے حوالے کی کامل یادداشتیں علمی اصولوں کے مطابق مرتب کیں بعد میں انہی علمی نقشوں سے ان کی تصنیف وتحقیق کی عالیشان عمارتیں تعمیر ہوئیں۔“ایک جگہ ان کے صاحبزادے نے اسلامی کانفرنس منعقدہ لاہور ۱۹۵۸ءکے بارے میں لکھا ہے کہ اس کانفرنس میں کیمبرج یونیورسٹی کے مشہور مستشرق پروفیسر مینورسکی بھی مندوب کی حیثیت سے شریک ہوئے اور ایک شام ملاقات میں انھوں نے مجھے کہا کہ تمھارے والد برصغیر کی ایک بڑی شخصیت ہیں۔مگر تمھارے ملک نے اس گوہر نایاب کی قدر وقیمت نہیں پہچانی۔

فہرست سازی میں ماہر تھے۔ مخطوطوں کی فہرست سازی میں خصوصی دلچسپی لیتے رکھتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے علی گڑھ اور رام پور کے اہم مخطوطات کا تعارف پیش کیا۔

وہ تحقیق اور غوروخوض کرتے وقت دقت نظری سے کام لیتے کسی بھی شخص سے رعایت نہیں کرتے تھے۔وہ نہ صرف عام لوگوں بلکہ جانے پہچانے اورمانے ہوئے اور اہل علم وعمل کے لیے بھی یہی رویہ رکھتے تھے۔عربی فارسی، اردو پنجابی اور سندھی کے نادرونایاب مخطوطات جمع کرنا ان کا پسندیدہ اور محبوب ترین مشغلہ تھا۔ اسی لیے انھوں نے ہزاروں مخطوطات کا ذخیرہ جمع کیا۔ جو کہ ان کے انتقال کے بعد مقالات محمد شفیع کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع کر کے محفوظ کیا گیا۔ مقالات مولوی محمد شفیع کی جلد اول میں وہ مقالات شائع ہوئے جن کا موضوع کتبہ شناسی ، خطاطی ، عمارات، خط وخطاطان اور فنون اسلامی کی دریافت سے تھا۔اس کے علاوہ اقتباسات تحفہ¿ سامری، واقعات بابری، سکھر ، بھکر اور روہڑی کے مقامات سے متعلق ہے۔

جلد دوم 445 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں فرقہ¿ نوربخشی، رام پور کے 2کتب خانے، مثنوی سحرالبیان کا ایک پرانا دیباچہ، شمس العلماءمولوی محمد حسین، تذکرہ¿ میخانہ، خزائن مخطوطات کتاب خانہ ریاست کپور تھلہ، اقتباس از فرحت الناظرین، فہرست کتب عربیہ رام پور، تذکرة الملتان کے دو اقتباس، قصہ ہیر رانجھا، قصہ سسی پنوں جیسے مضامین شامل ہیں۔

جلد سوم میں 26 مضامین اور آخر میں ضمیمہ دیوان مطہر کڑہ از ڈاکٹر وحید مرزا شامل ہے۔ چیدہ چیدہ مضامین میں سفر نامہ¿ چین، فہرست مصنفات علامہ شہر ستانی، لفظ کوکبہ کی تحقیق، مطہر کڑہ، کتاب المتشابہ، تاریخ ہرات فامی، کلمہ¿ مجوس، قاہرہ کی وجہ تسمیہ، ڈاکٹر اے سی وولنر، الخلیل بن احمد العروضی، مرحوم حافظ محمود شیرانی، ایک شاہجہانی برتن، اخبار علمیہ، تصحیح میخانہ وغیرہ شامل ہیں۔

جلد چہارم میں فہرست مضامین جواہر نامہ، تذکرہ¿ میخانہ اور خلاصتہ المضامین، لطف اللہ مہندس، مثنوی گلستان خیال، دارا شکوہ کے حالات، مزارات اولیائے ہند، عالمگیر نامہ، فہرست تراجم، مشائخ عظام، تصنیفات شاہ رفیع الدین دہلوی، کتاب التکمیل، کتاب خانہ¿ حصار ، علی گڑھ کے مخطوطات، مصور نسخے، وصلیاں، مشاہیر علی گڑھ، شاعر اور ادیبوں کے خطوط، مائکروفلمیں، نوادر سکے، تصاویر، فرامین، نقشے، مسعود سعد سلمان کے فارسی اشعار، آثار ہرات کا نقشہ ، تیمور اور اس کا جانشین شاہ رخ وغیرہ شامل ہیں۔آخر میں اشاریہ بھی دیا گیا ہے۔

جلد پنجم میں احیاءعلوم الدین کا فارسی ترجمہ، شاہ طہماسپ صفوی کی ایک سیور غال، مفتی صدرالدین دہلوی، مرقع دارا شکوہ، نام ونسب سعدی شیرازی، ابو محمد زکریا ملتانی، شیخ الاسلام، ہبار بن الاسود، ھباریان سندھ، ظفر نامہ، رسالہ در معرفت عناصر وکائنات الجّو، بدائع وقائع، حیات اللہ خان بہادر، احوال حضور لامع النور، فقرات عبرت، رسیدن تابوت نواب وزیرالملک، احمد شاہ بہادر ، نقل نامہ¿ عبدالباقی خان وزیر والی¿ ایران، تتمہ احوال پنجاب، نقل عرضداشت نواب سیف الدولہ بہادر دلیر جنگ،نقل فتح نامہ اور گنج، اور دیگر کئی مضامین شامل ہیں۔

تصانیف/کتب

1۔فہارس العقد الفرید لا بن عبدربہ:کلکتہ 1935ئ، 1937ئ، تعداد صفحات 1400 (متعدد بار پنجاب یونیورسٹی سے شائع ہوئی)

2۔میخانہ¿ عبدالنبی فخر الزمانی قزوینی(تذکرہ¿ شعرائ) فارسی متن مع حواشی وفہارس تحلیلی لاہور، 1926ء، تعداد صفحات 750

3۔تتمہ صوان الحکمتہ لعلی بن زیدالبیقہی:متن عربی مع حواشی وفہارس مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی ،1935، تعداد صفحات 360

4۔تتمہ صوان الحکمتہ ترجمہ فارسی (درة الخبار) مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی ،1935

5۔ مطلع سعدین، از کمال الدین عبدلرزاق سمرقندی:متن فارسی مع حواشی وفرہنگ

جلد دوم:حصہ ا ول، لاہور 1941ئ، حصہ دوم، سوم 1949۱ئ، تعداد صفحات 1558

6۔ مکاتبات رشیدی، (مکاتبات رشید الدین فضل اللہ طبیب):متن فارسی وحواشی ،لاہور 1947ءصفحات 479

7۔وولنر کو میموویشن وولیوم: تصحیح وترتیب بزبان انگریزی ،لاہور 1940، صفحات 328

8۔ وامق عذرا، عنصری کی ناپید مثنوی کے چند اوراق(زیر طبع)

9۔ یادداشتہائے علامہ مولوی محمد شفیع ،جلد اول، لاہور، مجلس ترقی ادب

10۔ سکھر بکھر ،روہڑی،سکھر،سکھر ہسٹاریکل سوسائٹی ، 2010

مقالات

محمد شفیع‘مولوی،مقالات مولوی محمد شفیع،مرتبہ احمد ربانی جلد اول، لاہور، مجلس ترقی ادب، س ن

محمد شفیع‘مولوی،مقالات مولوی محمد شفیع،مرتبہ احمد ربانی جلد دوم، لاہور، مجلس ترقی ادب، 1972

محمد شفیع‘مولوی،مقالات مولوی محمد شفیع،مرتبہ احمد ربانی جلد سوم، لاہور، مجلس ترقی ادب، 1974ئ

محمد شفیع‘مولوی،مقالات مولوی محمد شفیع،مرتبہ احمد ربانی جلد چہارم، لاہور، مجلس ترقی ادب1972

محمد شفیع‘مولوی،مقالات مولوی محمد شفیع،مرتبہ احمد ربانی جلد پنجم، لاہور، مجلس ترقی ادب، جون1981

ان کے مقالات کو پڑھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے تحقیق وتنقیح کا جو معیار اپنایا ہے وہ قابل قدر ہے۔ انھوں نے مستند حوالوں کے ساتھ تصریحات پیش کی ہیں۔ انھوں نے جگہ جگہ قاری کی رہنمائی کا خیال رکھا ہے۔اور تمام حوالہ جات اور حواشی کو صحت اور تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے۔

ماخذات

محمد شفیع‘مولوی،سکھر بکھر ،روہڑی،سکھر،سکھر ہسٹاریکل سوسائٹی ، 2010

تاریخ یونیورسٹی اورینٹل کالج ، مرتبہ ڈاکٹر غلام حسین، لاہور،جدید اردو ٹائم پریس

حمید احمد خاں ‘پروفیسر،تعلیم وتہذیب ،مجموعہ خطبات ومقالات، لاہور، مجلس ترقی ادب، 1975

مولانا محمد شفیع مرحوم ومغفور از سید حسام الدین راشدی مشمولہ مقالات مولوی محمد شفیع، مرتبہ احمد ربانی، جلد اول، لاہور، مجلس ترقی ادب، ارمغان مولوی محمد شفیع،لاہور، پنجاب یونیورسٹی لاہور

پیش لفظ ازاحمد ربانی، مقالات مولوی محمد شفیع، جلد دوم، لاہور، مجلس ترقی ادب، 1972

محمد شفیع‘مولوی، مقالات مولوی محمد شفیع،مرتبہ احمد ربانی جلد سوم، لاہور، مجلس ترقی ادب، 1974

پیش لفظ از احمد ربانی، مشمولہ مقالات مولوی محمد شفیع، جلد چہارم، لاہور مجلس ترقی ادب،

احمد ربانی(مرتب) مقالات مولوی محمد شفیع، جلد پنجم، لاہور مجلس ترقی ادب۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1