ایک نشست ڈاکٹر وفا یزدان منش کے ساتھ

ایک نشست ڈاکٹر وفا یزدان منش کے ساتھ

  



ڈاکٹر وفا یزدان تہران یونیورسٹی میں شعبہ اردو زبان وادب کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انھوں نے گریجویٹ ایران سے کیا اور ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کی۔ اردو فارسی تراجم میں ان کا اہم کردار ہے۔

آج مورخہ 29 اکتوبر 2019ء کو انھیں مجلس اقبال گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں مدعو کیا گیا تا کہ طلبہ و طالبات انکی ادبی خدمات سے جانکاری حاصل کر سکیں۔ ترجمہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب بھی کسی ایک زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے تو نہ پہلی زبان کے متعلقہ علاقے کے رسوم و رواج کو بدلا جاسکتا ہے نہ ہی اپنی ذاتی رائے کو شامل کیا جا سکتا ہے۔بلکہ ہو بہو ایک زبان کے کسی ادبی پیرائے کو دوسری زبان میں تبدیل کرنا چاہئے۔ انھوں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں نے پاکستان میں ڈاکٹریٹ کی اور نوے فیصد تک اردو زبان سیکھی۔ تب میں نے یہ اپنے اوپر یہ فرض سمجھا کہ اردو ادب جو کہ پاکستانی کلچر کو ظاہر کرتا ہے، کا فارسی میں ترجمہ کروں تا کہ اہل ایران یا جو زبان و ادب فارسی سے تعلق رکھتے ہیں وہ پاکستان کے رسم و رواج اور اردو ادب کی لطافت کو جان سکیں۔

مزید برآں انھوں نے کہا کہ یورپی محقق، مصنف اور ترجمہ نگار ہمیشہ ایک ٹیم کی صورت میں کام کرتے ہیں جبکہ ہم صرف اس لیے ٹیم ورک کو نظر انداز کرتے چلے آئے ہیں کہ بطور مصنف صرف ہمارا یعنی ایک بندے کا نام ہو اور میری ہی شہرت ہو۔ حالانکہ اجتماعی کام سے زیادہ بہتر اور عمدہ نتائج ملتے ہیں۔

میرے ایک سوال پر (کہ جسطرح آپ پاکستان آئیں اور ڈاکٹریٹ کی اور پاکستان کے کلچر کو اچھی طرح دیکھا اور پھر ترجمہ نگاری شروع کی، کیا میں بھی تہران جا کر فارسی میں ڈاکٹریٹ کرنے اور وہاں کے کلچر میں گھل مل جانے کے بعد اس قابل ہوں گا کہ ترجمہ کر سکوں) انھوں نے جواب دیا کہ نہیں، اگر آپ کو ترجمہ کرنا ہے تو ابھی سے شروع کر دو کیونکہ میں بھی پاکستان آنے اور یہاں پر ایک لمبا عرصہ گزارنے کا انتظار کرتی رہی جس کی وجہ سے بہت سارا وقت ضائع ہو گیا۔

آخر میں انھوں نے کہا کہ آج کل وہ سفر نامہ لکھ رہی ہیں جو کہ پاکستان سے متعلق ہے۔ اردو نثر نگار اور شعرا جن کا فارسی زبان وادب میں بڑا کردار ہے (علامہ اقبال، مرزا غالب، مولانا محمد حسین آزاد) کا نام لے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے کہا کہ جتنی اردو شعراء و ادباء نے فارسی کیلئے خدمات سرانجام دیں اتنا ہم نے اردو کیلئے کام نہیں کیا۔

اپنی شاعری کے متعلق انھوں نے بتایا کہ پچھلے سال اچانک ہی دو ہفتوں میں پانچ غزلیں لکھ دیں۔ پھر ترجمہ اور سفرنامہ پر کام کرنا شروع کر دیا۔

پروگرام کے اختتام پر نگران مجلس ڈاکٹر سفیر حیدر صاحب اور نائب نگران ڈاکٹر فرزانہ ریاض صاحبہ نے مہمان خصوصی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور گروپ فوٹو لی گئی۔

ان کی ایک نظم "بھول جانا " پیش کیے دیتا ہوں۔

اندھیری رات ماتھے پر نمایاں ہے

ستارے اب بھی مڑگاں سے ٹپکتے جا رہے ہیں

لبوں پر یوں دعائیں جل رہی ہیں

کہ لمحے انتظار و صبر کے

بھڑک اٹھتے ہیں آتش سے

تو ایسے میں امیدیں حسرتوں کا روپ لیتی ہیں

محبت میں ملے دھوکے

مری ہی سادگی کے چوک پر جم سے گئے ہیں

کہ مجھ میں اب

پلٹنے کی ہے طاقت اور نہ شکوے کی ہمت ہے

وفا امید کے بل پر کھڑی ہے

سویرے کی کوئی خواہش جو اب بھی جاگتی ہے

کہ ایسا کاش ہو جائے

وہ تاریکی میں ڈوبے نام کو یکلخت

سیہ بادل میں گم کر دے

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1