گومل میں دیر اقوام کی آباد کاری دفعہ 145کیخلاف ورزی برداشت نہیں

گومل میں دیر اقوام کی آباد کاری دفعہ 145کیخلاف ورزی برداشت نہیں

  



ٹانک(نمائندہ خصوصی) جنوبی وزیرستان محسود قبائل کا گرینڈ جرگہ منعقد.ہیڈ کوارٹر کی محسود ایریا میں تعمیرمحسود قبائل کی ازسرنو مردم شماری. تحصیل تیارزہ میں آباد محسود قبائل کی محسود ایریا میں شمولیت علاقہ گومل میں جاری دیگر اقوام کی آباد کاری دفعہ 145 کیخلاف ورزی کو کسی بھی صورت تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ.تفصیلات کے مطابق آج ٹرائیبل ڈسٹرکٹ جنوبی وزیرستان کے واقع ٹانک کمپاوں ڈ میں محسود قبائل کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا.جرگہ شرکاء ملک مسعود احمد.سابقہ سینٹر صالح شاہ. ملک سیف الرحمن.ملک سید الرحمن.ملک راپا خان.ملک حبیب شابی خیل.ملک بادشاہی خان.ملک حاجی بنات خان.ملک اوردین. ملک حاجی محمد.ملک رفیق خان.ملک محمد ہاشم ودیگر نے کہا کہ تاریخی حقائق کی بنیاد پر ہیڈ کوارٹر کی تعمیر محسود ایریا میں یقینی بنایا جائے. انہوں نے کہا کہ ہیڈکوارٹر کیلئے جگہ کاانتخاب حکومت کرے اس پر ہیمیں کوئی اعتراض نہیں ہے.اس حوالے سے جرگہ مشران نے تحریری طور پر ڈپٹی کمیشنر ساوتھ حمیدالللہ خان کو آگاہ کیا.مقررین کا کہنا تھا کہ تیارزہ تحصیل میں آباد محسود قبائل کو دوبارہ محسود ایریا میں شامل کیا جائے اس حوالے سے مشران نے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا.انہوں نے مزید کہا کہ اپریشن راہ نجات کے باعث محسود قبائل ملک کے طول و عرض میں متاثرین بن کر بکھر گئے تھے اس دوران کی گئی مردم شماری پر ہمارے تحفظات ہیں لہذا الیکشن کمیشن ازسر نو مردم شماری کیلئے لائحہ عمل ترتیب دے.انکا مزید کہنا تھا کہ علاقہ گومل ہمارے اباؤ اجدا کی ملکیت ہیجبکہ احمد زئی وزیر قبائل نے یہاں پر آباد کاری شروع کر رکھی ہے جو ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور دفعہ 145 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جو ہمیں کسی بھی صورت قبول نہیں ان کا کہنا تھاکہ اگر حکومت نے اس کا نوٹس نہیں لیا تو مجبورا ہمیں بھی علاقہ گومل میں آباد کاری کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا پڑے انہوں نے کہا کہ محسود قبائل نے ملک کے عظیم تر مفاد میں نقل مکانی کر کے ملک کے کونے کونے میں مہاجرین کی زندگی بسر کی اب جب دوبارہ آباد کاری کے لئے جتنے بھی فنڈآئے ہیں وہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت دوسرے علاقوں کو منتقل کئے جا رہے ہیں اور محسود قبائل کو جان بوجھ کر محروم رکھا جا رہا ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر