کراچی،اکادمی ادبیات کے زیراہتمام’نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد

  کراچی،اکادمی ادبیات کے زیراہتمام’نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد

  



کراچی (پ ر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام’نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت ملک معروف دانشور،شاعر ڈاکٹر عبدالعزیز احسن نے کی۔ اس موقع پر صدارتی خطاب میں ڈاکٹرعبدالعزیز احسن نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جب اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اپنی امت کے لیے مائرہ کی نعمت طلب کی تویوں عرض کیا۔”اے اللہ! اے ہمارے رب!ہم پر آسمان سے خوانِ(نعمت) نازل فرمادے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے عیدہوجائے ہمارے اگلوں کے لیے (بھی)اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی)اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو۔قرآن مجید نے اس آیت میں نبی کی زبان سے یہ تصورہ دیا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ کی نعمت اترے اس دن کو بطور عید منانا اس نعمت کے شکرانے کی مستحسن صورت ہے۔ اَولِناَ“اور اِخرِناَ“ کے کلمات اس امر پرولا ت کر رہے ہیں کہ نزولِ نعمت کے بعد جو امت آئے اس کے دورِ اوائل میں بھی لوگ ہوں گے اور دور اواخر میں بھی، سوجوپہلے دور میں ہوئے انہوں نے عید منائی اورجورہتی دنیاتک آخر میں آئیں گے وہ بھی یہی وطیرہ اپنائے رکھیں۔ ربیع الاول میں حضور کی ولادتِ مبارکہ کا دن آئے اور عیدمیلاد البنی ﷺ کی سعید ساعتیں ہم پر طلوع ہوں تو دیکھنا ہے کہ ہم میں سے کون اپنے دلوں کو خوشیوں اور مسرتوں کا گہوارہ بنا لیتا ہے اور اپنے آپ کو ”اَولِناَ“اور اِجرِناَ“ میں شا مل کرلیتا ہے۔ اگر اس کے برعکس میلادِ مصطفیﷺ پرکسی کا دل خوشی سے لبریز نہ ہو بلکہ دل میں ہچکچاہٹ، شکوک وشبہات اور کینے کی سی کیفیت پیدا ہو تو اسے چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے کیوں کہ یہ انتہائی خطرناک بیماری ہے اور اس سے اجتناب دولت ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ تاجدارکا کائنات ﷺ کا نام لیوا اور اُمتی ہو کر بھی آپ ﷺ کی ولادت بارسعادت پر خوشیاں نہ منائے۔سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی راحیلہ ٹوانہ نے کہاکہ قرآن مجید نے اس آیہ کریمہ کے ذریعے اپنے نبی کے حوالے سے اُمتِ مسلمہ کو یہ تصوردیا ہے کہ جس دن نعمتِ الہٰی کا نزول ہوا س ِ دن جشن منانا شکرانہ نعمت کی مستحسن صورت ہے لہذا آپ کی ولادت کو نعمت عظیمہ سمجھتے ہوئے اظہار تشکربجالانا باعث اجرو ثواب ہے۔ االلہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر شکر بجالانے کا ایک معروف طریقہ یہ بھی ہے ہو کہ انسان حصولِ نعمت پر خوشی کا اظہار کرنے کے ساتھ اس کا دوسروں کے سامنے ذکر بھی کرتا رہے کہ یہ بھی شکرانہ نعمت کی ایک صورت ہے اور ایسا کرنا قرآن حکیم کے اس ارشاد سے ثابت ہے: ”اور تعالیٰ کے لیے ہو۔ اس کے بعد تحدیثِ نعمت کا حکم دیا کہ کھلے بندوں مخلوقِ خدا کے سامنے اس کو یوں بیان کیا جائے کہ نعمت کی اَہمیت لوگوں پر عیاں ہوجائے۔

مزید : صفحہ آخر