شہبازشریف مستعفی لیکن حکومت نے ن لیگی رہنما رانا تنویر کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا، اب کی بار یہ عہدہ کسے دیا جائے گا؟ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے اعلان کردیا

شہبازشریف مستعفی لیکن حکومت نے ن لیگی رہنما رانا تنویر کو بھی قبول کرنے سے ...
شہبازشریف مستعفی لیکن حکومت نے ن لیگی رہنما رانا تنویر کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا، اب کی بار یہ عہدہ کسے دیا جائے گا؟ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے اعلان کردیا

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا تنویر کو چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) ماننے سے انکار کر دیا جبکہ مسلم لیگ ن نے انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

ہم نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین پی اے سی کے لیے اپنا امیدوار کھڑا کرے گی، اس بار حزب اختلاف کو یہ عہدہ نہیں دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ چیئرمین شپ کے لیے انتخاب کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڈ نے کہا کہ حزب اختلاف نے چیئرمین پی اے سی کے لیے رانا تنویر کے نام پر اتفاق کر لیا ہے تاہم خدشہ ہے کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اس سے پہلے بھی پی اے سی کا چیئرمین بننے کے لیے تیار نہیں تھے اور یہ پہلے ہی طے ہو گیا تھا کہ وہ مستقل چیئرمین نہیں رہیں گے تاہم استعفیٰ اب دیا ہے۔عطا تارڈ نے کہا کہ نواز شریف نے کہا ہے جس دن وہ تندرست ہو گئے اسی دن وہ وطن لوٹ آئیں گے۔ شیخ رشید نے کبھی سچ نہیں بولا اس لیے ان کی باتوں پر کان نہ دھرے جائیں۔عطا تارڈ کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی پر پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی جبکہ حزب اختلاف کسی بھی معاملے پر تقیسم نہیں ہے۔ ہم نے ابتدا میں ہی دھرنے کی مخالفت کی تھی اور ہم دھرنے میں شریک نہیں ہوئے لیکن احتجاج میں موجود تھے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یوآئی) ف کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں مل بیٹھ کر پی اے سی کی چیئرمین شپ کا فیصلہ کریں گی یہ حزب اختلاف کا حق ہے اور حکومت کو چیئرمین شپ دینی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ لگتا ہے اب عمران خان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا اور نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بعد وہ دو دن کی چھٹی پر گھر میں بیٹھ گئے تھے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد