سب اچھا ہے

سب اچھا ہے

  



سلطنت روما دنیا کی ایک عظیم سلطنت تھی۔ اس نے دنیا کو اس وقت جہانبانی، معیشت، سیاست اور علوم و فنون کے بے مثال خزانے دئیے جب آج کی سپر پاور تاریک براعظم کہلاتی تھی۔ اسی سلطنت کا بادشاہ جولیس سیزر بہت مشہور ہوا۔ کہتے ہیں وہ جب بھی کوئی ملکی پالیسی اختیار کرنا چاہتا، کوئی معاشی انقلاب لانے کا خیال دل میں لاتا یا کوئی خارجہ پالیسی اختیار کرنا چاہتا تو اپنی کابینہ کا اجلاس طلب کرتا اور اپنے خیالات کابینہ کے سامنے رکھ دیتا۔ کابینہ پورے خلوص اور نیک نیتی سے اس پر غور و خوض کرتی۔ اگر تو وہ منصوبہ یا پالیسی مضمرات سے پاک ہوتی تو کابینہ اپنی منظوری دے دیتی اور سیزر اس پر عمل درآمد کرنے کے احکامات صاردر فرمادیتا۔ اور اگر کابینہ یہ خیال کرتی کہ یہ ایک ناقص منصوبہ ہے تو صاف دلی سے کہہ دیتی "you may be wrong Ceaser!" اور سیزر سمجھ جاتا کہ یہ منصوبہ اس کی حکومت اور عوام کے لئے نقصان دہ ہے اور وہ اسے ترک کردیتا۔

سیزر کے اس کے دور میںسلطنت روما کی حدیں وسیع ہوتی گئیں، ملک خوشحالی کے راستے پر گامزن رہا اور ملکی خزانہ بھرا ہونے کے باعث عوام خوشی کے ترانے گاتے اور اور چین کی نیند سوتے رہے۔ لیکن بادشاہوں کو بادشاہ بنانے میں ان کے مشیروں کا خاص ہاتھ ہوتا ہے۔ سیزر کو بھی اس کے مشیروں نے احساس دلایا کہ وہ آخر بادشاہ ہے اور بادشاہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتے۔ لہذا سیزر کو چاہیئے کہ اپنے فیصلے خود کرے ۔ چنانچہ وہی سیزر جو کابینہ کے صرف اتنا کہہ دینے پر اپنے منصوبے ترک کردیتا تھا کہ ”باشادہ سلامت ، آپ غلطی پر ہوسکتے ہیں“اب وہی سیزر مطلق العنان بادشاہ بن گیا، اپنی مرضی کے فیصلے کرنے لگا اور اس کے مشیر اسے’ سب اچھا ہے‘ کہ میٹھی گولی کھلاتے رہے جبکہ حقیقت میں عوام میں بے چینی بڑھنے لگی تھی اور امن و امان ناپید ہوگیا تھا۔ آخرکار سیزر کے اپنے بہت ہی قریبی اور انتہائی بااعتماد مشیر بروٹس نے اس کے سینے میں خنجر گھونپ دیا۔ بروٹس کا یہ فعل سیزر کے لئے اتنا غیر متوقع تھا کہ مرتے وقت اس کی حیرت زدہ زبان سے تاریخ کا حصہ بن جانے والے صرف یہ الفاظ نکل سکے : "You too Brutus?"

حکومتوں کا یہی المیہ ہوتا ہے۔ اور یہی ان کے عروج و زوال کے اسباب ہوتے ہیں۔ جب بھی کوئی حکمران اپنے خوشامدی مشیروں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو مطلق العنان بادشاہ اور عقل کل سمجھنے لگتا ہے اور یہیں سے اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ تاریخ سے کبھی کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہر حکومت یہی سمجھتی ہے کہ ملک میں سب اچھا ہے، اور فی الحال اس کی حکومت مستحکم ہے۔ کیونکہ جو خودغرض مشیر بادشاہ کو بادشاہ بناتے ہیں وہ اسے سب اچھا کی میٹھی گولی کھلاتے رہتے ہیں اور بادشاہ سلامت اپنی رعایا اور اپنے بہی خواہوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

حکومت اور میڈیا کا ساتھ لازم و ملزوم ہوتا ہے۔ میڈیا کی حیثیت حکومت کے کان اور آنکھوں جیسی ہوتی ہے۔ اور یہ حکومتی پالیسیوں کے لئے آئینہ کا کام دیتا ہے۔میڈیا حکومت کو یہ بتاتا ہے کہ اس کی پالیسیاں کہاں تک کامیاب جا رہی ہیں، ان پالیسیوں پر عوامی ردعمل کیا ہے اور حکومت کو ایک صحیح فلاحی مملکت بننے کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہیں۔ چنانچہ میڈیا حکومت اور عوام کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومتی بیوروکریسی اپنے علاوہ حکومت کے باقی ہر رابطے کو توڑنا چاہتی ہے تاکہ ان کا سب اچھا ہے کا راگ بادشاہ کے کانوں میں رس گھولتا رہے اور زمینی تلخ حقائق کا بادشاہ سلامت کی نازک طبع پر کوئی اثر نہ پڑے ۔ اس مقصد کے لئے

بیوروکریسی ہر ایسے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو دبانے کی کوشش کرتی ہے جو کسی بھی حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی جسارت کرتا ہو چاہے اس کی تنقید کسی فلاح کی غرض سے ہی کیوں نہ ہو۔ اور میڈیا کو دبانے کے لئے اور اپنی مرضی کی خبروں کی اشاعت کے لئے بیوروکریسی کے پاس سب سے بڑا ہتھیار اشتہارات کی بندش ہوتا ہے تاکہ اشتہارات نہ ملنے سے وہ میڈیا معاشی بوجھ تلے دب کر اپنی آواز کھو بیٹھے اور حکومت تک عوام کی آواز نہ پنچ سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا کو بھی ایک ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرنا ضروری ہے۔ اور مثبت رپورٹنگ ہر حال میں ملکی امن و سکون اور سلامتی کے لئے لازمی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم حکومتی بیوروکریسی میں چیک اینڈ بیلنس قائم کرنا ہے تا کہ بیوروکریسی اختیارات اور قوانین کے نفاذ میں ذاتی پسند نا پسند اور اغراض شامل نہ کرلے۔ اس وقت پاکستانی میڈیا جو کہ حکومت کی آنکھ اور کان کا کام سر انجام دے رہا ہے شدیدمعاشی دباو’ کا شکار ہے اور آئے دن مختلف میڈیا ہاوسز کی جانب سے اپنے کارکنان کو فارغ کردینے کی خبروں نے ان میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ یہ ظاہر سی بات ہے کہ میڈیا مالکان بھی اپنے کارکنان کو تب ہی تنخواہ اور مراعات دے سکیں گے جب ان کو اشتہارات ملیں گے اور اشتہارات نہ ملنے کا بلواسطہ اثر نچلے طبقے پر ہی پڑتا ہے ۔نتیجتاً وہ میڈیا جس نے بادشاہ سلامت کو بتانا ہوتا ہے کہ ملک میں سب اچھا نہیں ہے وہ خاموش جائے گا اور بالآخر کوئی نہ کوئی بروٹس بادشاہ سلامت کے سینے میں خنجر کھونپ دے گا۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ