ایف بی آر کا جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تبدیل کرنے کا فیصلہ

ایف بی آر کا جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تبدیل کرنے کا فیصلہ
ایف بی آر کا جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تبدیل کرنے کا فیصلہ

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایف بی آر نے جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلے میں چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی شرط وی اے ٹی کے نفاذ کی جانب بڑھ چکی ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ایف بی آر نے عالمی بینک کے قرضوں کی شرائط کے تحت اصولی فیصلہ کیا ہے کہ تمام شعبوں کے لیے موجودہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی)سے تبدیل کیا جائے، اس حوالے سے ایف بی آر مختلف صنعتوں/کاروبار کا سروے مجوزہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت کرے گا۔ اس حوالے سے جب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے مکمل نفاذ کی جانب جانا ہوگا تاکہ تمام شعبے ملک کے ٹیکس نظام میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی شرط ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کی جانب بڑھ چکی ہے اور ایف بی آر اس پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) کا قیام فی الوقت موخر کیا گیا ہے لیکن دیگر اصلاحات بشمول ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی جانب بڑھنا ایف بی آر کے مجموعی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ تھا۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ایف بی آر نے ماضی میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس عائد کرنے کی جتنی کوششیں کی تھیں وہ بری طرح ناکام ہوئی تھیں اور 2011ء میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئی ایم ایف پروگرام معطل بھی ہوا تھا۔اس لیے اب دیکھنا ہے کہ پی ٹی آئی اس میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق  ویلیو ایڈٹ ٹیکس (وی اے ٹی) مصنوعات کی تیاری کے دوران یا پھر اس کی ڈسٹری بیوشن چین پر اس کی قدر کے مطابق لگایا جاتا ہے۔حقیقی طور پر مکمل طور پر ویلیو ایڈٹ ٹیکس کا بوجھ صارف ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بالواسطہ ٹیکسز کی ایک شکل ہے اور آخر میں اس کا بوجھ صارف ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ایک ویلیو ایڈیشن ٹیکس ہے اور منزل کے بجائے کثیرالزاویہ سسٹم کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، یہ وفاقی یا مرکزی ٹیکس ہوتا ہے اور اس میں صوبے یا مصنوعات کے مقام یا منزل کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے۔ویلیو ایڈٹ ٹیکس صرف مصنوعات پر لگایا جاتا ہے اور اس کا اصل مقصد مصنوعات کی خریدوفروخت کے دوران ٹیکس چوری کو بچانا ہے اور یہ ٹیکس مصنوعات کی قدر کے حساب سے لگایا جاتا ہے۔

جی ایس ٹی صرف اسی پر عائد ہوتی ہے جو اس کا بینفشری ہوتا ہے جبکہ ویلیو ایڈٹ ٹیکس پروڈکشن سے لیکر ڈسٹری بیوشن تک کے ہر عمل پر لاگو ہوتا ہے۔ سیلز ٹیکس سنگل پوائنٹ بیسڈ سسٹم پر عائد ہوتا ہے اور اگر سیل کم ہو یا پھر نہ ہو تو ایسی صورت میں اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ غیر اعلانیہ سیل کے ذریعے سے ٹیکس چوری ہوسکے۔ریٹیلرز اور تاجر دونوں ہی اپنی سیل کو رپورٹ نہیں کروانا چاہتے لیکن ویلیو ایڈٹ ٹیکس چوں کہ ایک کثیرالزاویہ ٹیکس ہوتا ہے اور مصنوعات کی قدر کے حساب سے ہر سطح پر مصنوعات کی قدر کے حساب سے لاگو ہوتا ہے اسی لئے ریٹیلرز کے لئے اس کے ذریعے ٹیکس چوری کرنا مشکل ہوتا ہے۔

مزید : بزنس