سعودی عرب میں 14 لوگوں کو بچانے کے لئے اپنی جان دینے والا پاکستانی، جس کے نام سے وہاں ایک سڑک بھی ہے

سعودی عرب میں 14 لوگوں کو بچانے کے لئے اپنی جان دینے والا پاکستانی، جس کے نام ...
سعودی عرب میں 14 لوگوں کو بچانے کے لئے اپنی جان دینے والا پاکستانی، جس کے نام سے وہاں ایک سڑک بھی ہے

  



جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک دور میں جب پاکستان کے خوبصورت شہر سوات سے آنے والی ہر خبر دہشت گردی پر مبنی ہوا کرتی تھی،22سالہ فرمان علی خان کے متعلق ایک ایسی خبر آئی کہ جس نے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دیئے۔ سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے مقیم فرمان علی نے اپنے جان پر کھیل کر جرا¿ت و بہادری کی ایسی داستان رقم کی کہ جسے سعودی شہری کبھی فراموش نہ کر پائیں گے۔ یہ 26نومبر 2009ءکی بات ہے۔اس روز سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہولناک سیلاب آیا اور درجنوں لوگوں کی زندگیاں نگل گیا۔ سڑکیں اکھڑ گئیں،پل ٹوٹ گئے اور کئی عمارات زمیں بوس ہو گئیں۔

فرمان علی بھی جدہ میں مقیم تھا۔ اس روز اس نے اپنے سامنے کچھ لوگوں کو بپھرے ہوئے سیلابی ریلے کی نذر ہوتے دیکھا اور اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے انہیں بچانے کی سعی کرنے لگا۔ اس نے ایک لمبی رسی لی۔ اس کا ایک سرا اپنی کمر کے ساتھ باندھا اور دوسری طرف اسے ایک عمارت کے پائپ کے ساتھ باندھ دیا اور تندوتیز سیلابی ریلے کی بپھری لہروں میں کود گیا۔ اس نے ایک ایک کرکے 14لوگوں کو کھینچ کر باہر نکالا اور ان کی جان بچائی مگر جب وہ 15ویں شخص کی جان بچانے گیا تو اپنی جان کی بازی ہار گیا۔

فرمان علی 2001ءمیں اپنے خاندان کے لیے روزی کمانے سعودی عرب گیا تھا۔ وہ پسماندگان میں ایک بیوی اور تین بیٹیاں زبیدہ، مدیحہ اور جویریہ کو چھوڑ گیا۔ ان میں سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر اس وقت محض ایک سال تھی۔ باقی دوسری کی عمر تین اور تیسری کی چار سال تھی۔ سعودی حکومت نے اس جرا¿ت و بہادری پر فرمان خان کو شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے نوازا اور جدہ شہر کی ایک سڑک بھی اس کے نام سے موسوم کر دی۔ چند ہفتے قبل جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے خیبرپختونخوا میں فرمان خان شہید کے نام پر اس کے آبائی علاقے میں ایک طبی مرکز قائم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ فرمان کے آبائی علاقے کی ایک مسجد خودکش حملے کے باعث ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔ فرمان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اس مسجد کو دوبارہ تعمیر کرے۔ اس کے لیے اس نے اپنی زندگی میں چندہ جمع کرنے کی کوشش بھی کی۔ اب فرمان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سعودی عرب کی ایک فلاحی تنظیم ’الندوا شباب اسلامی‘ اس جگہ پر عالیشان مسجد تعمیر کروا رہی ہے۔ اس تین منزلہ مسجد میں 2ہزار نمازیوں کی گنجائش ہو گی۔

مزید : عرب دنیا