چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو آئینہ دکھا دیا،اداروں کے درمیان چپقلش کی ایک نئی صورتحال نیک شگون نہیں:سراج الحق

چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو آئینہ دکھا دیا،اداروں کے درمیان چپقلش کی ایک نئی ...
چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو آئینہ دکھا دیا،اداروں کے درمیان چپقلش کی ایک نئی صورتحال نیک شگون نہیں:سراج الحق

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے وزیر اعظم کو آئینہ دکھا دیا ہے،پہلی بار کسی وزیر اعظم نے جلسہ عام میں عدالتوں پر تنقید کی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اداروں کے درمیان چپقلش کی ایک نئی صورتحال پید اہوچکی ہے جو نیک شگون نہیں، چھری خربوزے پر ہویا خربوزہ چھری پر دونوں صورتوں میں نقصان خربوزے کا ہی ہوگا،جماعت اسلامی نے ملک و قوم کیلئے ہمیشہ اصولی سیاست کی،ہم پہلے کبھی سازشی سیاست کاحصہ بنے ہیں نہ آئندہ بنیں گے ۔

سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم کے انتخابی حلقہ بنی گالہ اسلام آباد میں معززین علاقہ سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم کی کھلی تنقید کے بعد صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی تھی کہ چیف جسٹس کوخودعدلیہ کی پوزیشن واضح کرنا پڑی،نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے معاملہ میں چیف جسٹس نے حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ وزیر اعظم نے خود اِنہیں باہر بھیجا ہے،اس میں عدالتوں کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے،اَب حکومت اِس کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھاگ نہیں سکتی ۔اُنہوں نے کہاکہ موجود ہ اورسابقہ حکمرانوں نےکبھی آئین وقانون کی بالادستی قبول نہیں کی اور ہمیشہ اپنی ذات کو مقدم سمجھا،اگر وزیر اعظم ہی عدلیہ کے احترام اور وقار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھیں گے تو عام آدمی تک کیا پیغام جائے گا؟۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت احتساب سے راہ فرار اختیار کررہی ہے ،حقیقی احتساب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکمران خود ہیں،سابقہ اور موجودہ حکومتوں نے احتساب کے نظام کو چلنے اور مستحکم ہونے کا موقع نہیں دیا،نیب کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور مخالفین کو دبانے کا ذریعہ بنانے کی کو شش کی گئی جس کی وجہ سے ایک بااعتما د اور موثر نظام احتساب قائم ہو سکا نہ حکمرانوں نے کبھی خود کو احتساب کیلئے پیش کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر مہنگائی پر فوری قابو نہ پایا گیا تو عوام زیادہ دیر حکمرانوں کو برداشت نہیں کریں گے،مہنگائی اور بے روز گاری کے مارے عوام نے گھروں سے نکل کر حکمرانوں کے بنگلوں اور محلوں کا محاصرہ کرلیا توانہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی،حکمرانوں کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ اٹھنے والے طوفان سے بچنے کیلئے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت سیاسی افراتفری اور انتشار سے نکلنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے کشمیر کی آزادی پر فوکس کرے ،کشمیر میں کرفیو کو ایک سو دس دن ہو چکے ہیں،کشمیری مائیں بہنیں اور بیٹیاں پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیںمگر ہمارے حکمران ایک تقریر کے بعد مسلسل خاموش ہیں، مودی کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضہ کو مضبوط بنانے کیلئے حریت رہنماؤں کو گرفتار اور ان کی جائیدادوں کو ضبط کررہا ہے،مندر کھولے اور مساجد و مدارس کو مسمار کیا جارہا ہے،بھارت سے لاکھوں ہندوؤں کو لا کر کشمیر میں بسایا جارہا ہے لیکن ہمارے حکمران یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی چپ سادھے بیٹھے ہیں۔

مزید : قومی