اے میرے صاحب

اے میرے صاحب
اے میرے صاحب

  

دلوں کے اندر کی خبر تو اللہ جانتا ہے بظاہر مولانا عشق رسول کا بہت جرأت مند اظہار تھے مذہبی تعلیم بھی اعلیٰ درجے کی یعنی شیخ الحدیث تھے فارسی کے شعر سناتے تو مجمع تڑپ اٹھتا اپنی ماں بولی میں گالی نکالتے تو مجمع مسکرا دیتا ظاہری حلیہ بھی خالص دیہاتی تھا میرا ذاتی احساس ہے کہ چالاک آدمی ہرگز نہ تھے۔

جمعیت علمائے پاکستان مسلک اہلسنت کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت تھی، مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کی قیادت نے جماعت کو ملک گیر سطح پر مقبول جماعت بنایا اور ایک سیاسی طاقت کے طور پر منوایا مگر دونوں بزرگوں نے جماعت کو جس اونچائی پر پہنچایا بدقسمتی سے دونوں کے اختلاف کی وجہ سے جماعت پہلے بکھری پھر سکڑی اور دوبارہ نہ ابھر سکی اب نجانے کس حال میں اور کس کمرے میں پائی جاتی ہے۔

مولانا عبدالستار خان نیازی میانوالی کے تھے سو ان کے لب ولہجے میں میانوالی بولتا تھا وہ گرجدار آواز میں تقریر کرتے تو مائیک کانپنے لگتا اور مجمع جاگنے لگتا جذباتی شخصیت تھے مگر تقریر و تحریر میں آگ اگلتے الفاظ نکالنے اور لکھنے میں گریز کرتے تھے میں ایک زمانے میں ان کے ساتھ رہا ان کے سیاسی جلسوں میں نظمیں بھی پڑھیں اور ان کے ساتھ سفر بھی کیا میانوالی سے لاہور تک کے سفر میں ایک مقام پر انہوں نے سڑک کنارے گاڑی روکی اور ایک پکوڑے بیچنے والے کو کہا……جوانوں کو بھوک لگی ہے انہیں پاو پاو پکوڑے کھلواو  پھر پاو بھر کے قریب خود بھی کھاے اور پیسے اپنی جیب سے دئیے۔

مولانا شاہ احمد نورانی دھیمے مزاج کے آدمی تھے اور آہستگی سے مکالمہ کرتے تھے کہا جاتا ہے جب ضیاء الحق نے سیاسی جماعتوں کو مشورے کے لئے طلب کیا تو مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو بھی بلایا مولانا شاہ احمد نورانی دھیمے لہجے میں جنرل ضیاء  الحق کو سمجھا بھی رہے تھے اور ساتھ ساتھ سنا بھی رہے تھے کہ اس دوران مولانا نیازی کے اندر میانوالی بھڑک اٹھا انہوں نے قطعی انداز اختیار کرتے ہوئے مولانا نورانی سے کہا  مولانا یہ آدمی ایک ٹھنڈا دوزخ ہے سنتا رہے گا کرے گا کچھ نہیں اس جملے پر ملاقات تو ختم ہوگئی مگر ضیاء الحق نے تادم مرگ اقتدار نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، یعنی انہوں نے مولانا نیازی کو عملاً جواب دیا کہ اچھا ایسے  تو پھر ایسے ہی سہی۔

مولانا رضوی دونوں بزرگوں کے صرف مسلک پر تھے باقی جو کچھ بھی تھا ان کا اپنا تھا انہوں نے سنی مسلک کی ترجمانی کے لئے تحریک لبیک کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور حیرت انگیز طور پر 2018ء میں بائیس لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کئے، سندھ میں دو ارکانِ اسمبلی کے سوا انہیں کچھ زیادہ کامیابی  تو نہ ملی البتہ اس پوزیشن میں آگئی کہ

نہ کھیڈاں گے تے نہ کھیڈن دیاں گے

اب اگر دیکھا جائے تو جس طرح انہوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنائی اور پھر ملک گیر سطح پر منوایا یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا اس جماعت کے ذریعے انہوں نے جب پہلی بار اسلام آباد کا رخ کیا تو ایک خاصی بڑی تعداد میں لوگ ان کے ساتھ باہر نکلے اسلام آباد میں انہوں نے حکومت کو خاصا پریشان کیا مگر پھر اچانک واپس آ گئے اس موقعہ پر ان کے کارکنوں میں  لفافے بھی تقسیم کئے گئے جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی ہاتھ ہے،ہفتہ پہلے بھی وہ اسلام آباد میں دھرنا دینے گئے اور مطالبہ کیا کہ فرانس کے صدر نے جو مسلمان قوم کا دل دکھایا اور رسول اللہ کی توہین کی ہے۔اس پر مسلمان قوم دکھی ہے سو فرانس کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات ختم اور فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اس مطالبے کے ساتھ انہوں اسلام آباد میں کچھ دن قیام کیا،حکومت کو تو کچھ تکلیف نہ ہوئی البتہ جڑواں شہر کے لوگ خاصے پریشان رہے اور پھر ایک معاہدے کے تحت مولانا واپس آگئے واپسی پر ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور  وہ چل بسے۔

سوشل میڈیا پر ان کا ایک کلپ بہت سنا گیا جس میں نجانے وہ کس کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ بات ہے تو پھر میں بھی بتاؤں گا کہ ہمیں اسلام آباد کی طرف مارچ کا کس نے کہا تھا افسوس وہ اس راز کے ساتھ دنیا سے چلے گئے مگر مجھے یقین ہے کہ جس انداز کے وہ آدمی تھے اگر زندہ رہتے تو کسی دن اس راز سے پردہ ضرور اٹھاتے، مگر اللہ کے اپنے فیصلے ہیں وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر اپنے پیچھے لاکھوں پرستار اور کارکن چھوڑ گئے ہیں جو یقینا ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں تو اب ان کی جماعت کے نمائندوں کو چاہئے کہ وہ تحریک لبیک کو منظم کریں اور اس جماعت کو ملک میں سیاسی جماعتوں کے مقابل لانے کی کوشش کریں جس مشن کے ساتھ مولانا آگے بڑھ رہے تھے ان کے مشن کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اس ملک میں اپنے سیاسی کردار کی ادائیگی کو یقینی بنائیں، کیونکہ مولانا سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے مشن کو پورا کیا جائے اور ان سے محبت کا عملی ثبوت دیا جائے پروردگار مولانا کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے بلاشبہ وہ پکے سچے عاشق رسول تھے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

مزید :

رائے -کالم -