ٹرمپ کی شکست اور مقبولیت پسندی کی سیاست

ٹرمپ کی شکست اور مقبولیت پسندی کی سیاست
ٹرمپ کی شکست اور مقبولیت پسندی کی سیاست

  

2016ء میں جب ٹرمپ امریکی صدر بنے تو سیاسیات کے ما ہرین کے سنجیدہ طبقے نے ان کی فتح کو مقبولیت پسندی کی اس عالمی لہر کا تسلسل قرار دیا جو تیزی کے ساتھ کئی ممالک کی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔مقبولیت پسندی کی سیاست بنیادی یا اصولی سیاسی نظر یا ت کی بجائے ایسی سیاست کو فروغ دیتی ہے جس میں عوام کے انتہائی پیچیدہ مسائل کا حل انتہائی آسان اور پُرکشش نعروں کی صورت میں پیش کیاجا تا ہے اور عوام کے سہارے ایسے نعروں کے زور پر انتخابا ت جیتنے کے بعد اس خیال کو تقو یت دی جا تی ہے کہ حکومت کے پاس جتنی زیا دہ اتھا رٹی ہو گی، مسائل بھی اسی قدر تیزی کے ساتھ حل ہو ں گے۔آج کے دور میں امریکہ، یو رپ، لاطینی امریکہ اور جنوبی ایشیا سمیت کوئی ایسا خطہ نہیں جو اس پاپولسٹ سیاست سے محفوظ ہو۔ امریکہ میں 2016ء کی انتخابی مہم کے دوران جب ٹرمپ امریکہ میں بے روزگا ری ختم کرنے کا آسان نسخہ پیش کرتا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنا دے گا اور ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں آنے سے روک دے گا تو یہ سب با تیں ایسے امریکیوں کے لئے بڑی دلکش ہو تیں  جن کو بے روزگاری اور غربت کا سامنا تو تھا،مگر یہ علم نہیں تھا کہ یہ مسائل اتنے آسان نسخوں سے حل نہیں ہوتے۔

اسی طرح آج یورپ کے ملکوں اٹلی، یونان، فرانس،جرمنی اور برطانیہ سمیت ایسی پا پولسٹ سیاسی جماعتوں اور ایسے سیا سی رجحانات کو کامیابی مل رہی ہے جو اکثر مسائل کا ذمہ دار ایشیا اور افر یقہ سے آئے ہوئے امیگرنٹس کوقرار دیتی ہیں۔جرمنی میں ”الٹر نیٹز فار جرمن پارٹی“ جیسی فاشسٹ جما عت کی مقبو لیت اس حقیقت کا ایک اہم ثبوت ہے۔ برازیل میں جیربولسناروجیسے مقبولیت پسند سیاست دان کی کا میا بی یہ ثابت کرنے کے لئے کا فی ہے کہ جنوبی امریکہ کا خطہ بھی مقبولیت پسندی کی اس لہر سے محفوظ نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا کی مثال لیجیے۔ مودی نے 2014ء اور پھر2019ء کے انتخابات جیتنے کے لئے بھارت کے انتہائی پیچیدہ مسائل کے کیسے کیسے آسان حل پیش کیے تھے۔ مودی کا دعویٰ تھا کہ وہ بھارت میں کر پشن کا مکمل طور پر خاتمہ اور بھارت سے لو ٹی گئی دولت کو واپس بھارت لا ئیں گے، جس سے ہر بھارتی کے بینک اکاونٹ میں لا کھوں روپے آ جائیں گے اور یوں کرپشن کے ساتھ ساتھ بھارت سے غربت کا بھی خاتمہ ہو جا ئے گا، مگر مودی بھی پیچیدہ مسائل کو اتنے آسان طریقوں سے حل کرنے میں ناکام رہا۔

پاکستان کی سیاست بھی پاپولسٹ سیاست کے اس رجحان سے کیسے محفوظ رہ سکتی تھی۔ ذرا یاد کیجیے کہ 2018ء کے انتخابات سے پہلے پاکستان کے انتہائی پیچیدہ معاشی مسائل حل کرنے کے لئے پاپولسٹ سیاست کے تحت کیسے کیسے آسان حل پیش کیے جا تے تھے۔ اب واضح ہو چکا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی جلسوں، پرو گراموں اور منشور میں معا شی مسائل کے حل کے لئے جو اقدامات تجویز کئے تھے، وہ سر اسر خود فریبی پر مبنی تھے۔عمران خان اور پی ٹی آئی کے راہنما جب انتخابی جلسوں میں یہ اعلان کرتے کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آئے گی تو اربوں ڈالر کی لوٹی ہو ئی دولت واپس آئے گی، بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی عمران خان کی حکومت کو اربوں ڈالر بھیجیں گے،عمران خان چونکہ ایک ایماندار وزیراعظم ہوں گے،اس لئے پاکستان کے لوگ ٹیکس دینا شروع کر دیں گے اور ایماندار قیادت ہونے کے باعث کرپشن کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے یہ سب دعوے سن کر سوچ سمجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جا تا کہ تحریک انصاف معاشی اور دوسرے مسائل کے حل کے لئے جو نسخے تجویز کر رہی ہے، اس سب پر کیسے عمل ہو گا؟۔

عمران خان کا بنیا دی مسئلہ یہ ہے کہ وہ22سالہ سیاست کے دوران مقبولیت پسندی پر مبنی نعرے تو دیتے رہے اور انتہائی پیچیدہ مسائل  کے حل کے لئے آسان سے ٹوٹکے بھی تجویز کرتے رہے، مگر وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ کسی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کیے بغیر جوہری اصلاحات نہیں لائی جا سکتیں۔آج  پاپولسٹ سیاست کے اس دورمیں تاریخ اور سیاسیات کے طالب علموں کو اس بات کا عملی ثبوت مل رہا ہے کہ کسی سماج کو تبدیل کرنے کے لئے صرف دلکش نعرے اور آسان حل کافی نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج دنیا میں پاپولسٹ سیاست کے باعث مسائل کم ہو رہے ہوتے نہ کہ بڑھ رہے ہوتے، یہی آج کے عہد کی پاپولسٹ سیاست کا سب سے اہم سبق ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں جہاں کے سیاسی رجحانات کا اثر کسی نہ کسی طریقے سے دنیا کے دوسرے خطوں اور ممالک پر بھی پڑتا ہے۔

کیا ٹرمپ کی شکست سے دنیا بھر کو متاثر کرنے والی مقبولیت پسندی کی لہر کمزور ہو گی؟ مقبولیت پسندی کی اس لہر کا کمزور ہو نا اس لئے ضروری ہے، کیونکہ مقبولیت پسندی کی سیاست نے دنیا کو سیاسی زوال کی جانب دھکیلا ہے۔ مقبولیت پسندی کے تحت ایک طرح سے مسائل کی نشاندہی تو کر دی جا تی ہے، مگر ان مسائل کو حل کرنے کے لئے قابل عمل حل نہیں بلکہ جذباتی اور منفی سیاست کو ہی فروغ دیا جا تا ہے،جس سے پرانے مسائل تو حل ہوتے نہیں مگر نسل پرستی، لسانی تفریق،سیاسی مخالفین کے لئے حقارت، عدم رواداری اور عدم برداشت جیسے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -