ہار تسلیم کرنے کے لئے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے

ہار تسلیم کرنے کے لئے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے
ہار تسلیم کرنے کے لئے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے

  

اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری دونوں ہی دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے تو گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ان کا کال ریکارڈ بھی چیک کرنے کا مطالبہ داغ دیا ہے۔نتائج تسلیم نہ کرنے کو اب صرف پاکستان کی روایت نہیں کہا جا سکتا،بلکہ امریکہ جیسے ملک میں جہاں انتخابات کا شفاف نظام موجود ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نتائج ماننے سے انکاری ہیں اور دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی اقتدار میں موجود جماعت یا شخصیت نے دھاندلی کا واویلا نہیں کیا۔ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف ہار جاتی تو شاید دھاندلی کا شور نہ مچاتی،کیونکہ یہ فرض کیاجاتا کہ حکومت دھاندلی روکنے کے انتظامات کرتی ہے۔ اب اگر وہ خود ہی یہ کہے گی کہ دھاندلی ہوئی ہے تو اسے ایک مذاق ہی سمجھا جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کو مذاق سمجھا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مذاق کیا رنگ جماتا ہے، اس کا فیصلہ تو جنوری میں اقتدار کی منتقلی کے وقت ہوگا، لیکن ٹرمپ نے شکست تسلیم نہ کرکے امریکہ میں ایک بری روایت ڈال دی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ شکست تسلیم کرنے کے لئے بھی حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، ”بے حوصلہ شخص کبھی اپنی ہار خوش دلی سے تسلیم نہیں کرتا“۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے الیکٹرانک ووٹنگ کی بات بھی کی، مگر سوال تو پھر وہی ہے کہ نتائج تسلیم کرنے کا حوصلہ کہاں سے لائیں گے؟ اپوزیشن نے تو ابھی سے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو اصلاحات متعارف کرانا چاہتے ہیں،ان سے دھاندلی مزید آسان ہو جائے گی، گویا وہ ان اصلاحات کو دھاندلی آسان کرنے کی ایک سازش سمجھ رہی ہے۔ مجھے تو نہیں لگتا کہ پاکستان میں کبھی ایسے انتخابات ہوسکیں گے، جنہیں سب صاف و شفاف تسلیم کر لیں۔ ہاں جیتنے والے ضرور تسلیم کریں گے، لیکن جو ہاریں گے وہ نتائج کے مکمل ہونے سے پہلے ہی سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ 73برسوں میں ہونے والے انتخابات کی کہانی ایک ہی جیسی ہے، حتیٰ کہ اسی عادت کی وجہ سے ہم نے اپنا آدھا ملک بھی گنوایا، جب مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کی جیت کو تسلیم نہ کیا گیا۔ یہاں انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوں، تب بھی مشکوک قرار پاتے ہیں اور اگر سول نگران حکومت کرائے، تب بھی دھاندلی کا شور ضرور مچتا ہے۔

بے نظیر بھٹو جیتیں تو نوازشریف نے تسلیم نہ کیا، نوازشریف فاتح قرار پائے تو بے نظیر بھٹو اپوزیشن کو ساتھ ملا کر سڑکوں پر آ گئیں۔ ذوالفقار  علی بھٹو پر1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک چلی جو بالآخر ضیاء الحق کے مارشل لاء پر ختم ہوئی۔ 2013ء کے انتخابات میں نواز شریف کو فتح ملی تو عمران خان خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے اور دھاندلی کے خلاف 126دن کا دھرنا دیا۔ وہ تو شکر ہے اس کے نتیجے میں مارشل لاء نہیں لگا، وگرنہ انتظامات تو پورے ہو چکے تھے۔ ملک میں اس وقت جو تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، ان کا ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ عام انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کرتیں۔ بس جو جیت جاتی ہے، اسی کی زبان بند ہوتی ہے، باقی دو دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک شروع کر دیتی ہیں۔ ابھی 2018ء کے انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی دھاندلی کا شورو غل شروع ہے۔

بات صرف حوصلے سے نتائج تسلیم کرنے کی ہے، وگرنہ دیکھا یہی گیا ہے کہ آپ نے نتائج تسلیم نہ بھی کئے تو جیتنے والوں نے اپنی مدت ضرور پوری کی…… تو پھر کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ نتائج کو تسلیم کرکے آگے بڑھا جائے، مگر نہیں صاحب، لگتا یہی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس دھاندلی کا الزام لگانے کے سوا سیاست کرنے کی اور کوئی وجہ ہی موجود نہیں …… ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ تو نوازشریف نے اب متعارف کرایا ہے، حالانکہ وہ خود بھی منتخب حکومتوں کے خلاف تحریک چلا کر ووٹ کی بے عزتی کا حصہ بنتے رہے ہیں۔ ہمارے ووٹر، سردی ہو یا گرمی،لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، مگر نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔ کیا سب نے دیکھا نہیں کہ گلگت بلتستان کی سخت سردی،بلکہ برف باری کے باوجود عوام نے ووٹ ڈالنے کا حق بڑی تعداد میں استعمال کیا۔

ان کے اس جذبے کو سراہنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ وہاں نیا جمہوری سیٹ اَپ بنا کر ان کے مسائل حل کئے جائیں، لیکن ایسا کرنے کی بجائے پھر وہی روائتی تاریخ دہرائی جا رہی ہے کہ نتائج تسلیم نہیں کرنے…… یہ سوال عام انتخابات کے وقت بھی پوچھا گیا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو اتنی زیادہ نشستیں کیسے ملیں، تحریک انصاف کو حکومت سازی کے لئے سادہ اکثریت بھی کیوں نہ مل سکی؟ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو سندھ میں اکثریت کیسے مل گئی؟ اب یہی سوال گلگت بلتستان کے بارے میں بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر دھاندلی سے جتوانا تھا تو تحریک انصاف کو کم از کم سادہ اکثریت ہی دلوا دیتے، یہ کیسی دھاندلی کرائی گئی ہے کہ حکومت سازی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ 

پاکستان میں ایسے تو جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی کہ ہر بار انتخابات کو دھاندلی کا الزام لگاکر متنازعہ بنا دیا جائے۔ الیکشن کمیشن کے قوانین موجود ہیں، جن کے تحت انتخابی عذرداری داخل کی جا سکتی ہے۔ یہ راستہ اختیار کرنے کی بجائے احتجاج کی راہ اختیار کرنا ایک ایسی سیاسی بدعت ہے، جس نے ہمیں سیاسی بلوغت کی منزل تک نہیں پہنچنے دیا۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کی تاریخ یہی ہے  کہ وہاں سے حکمران جماعت کے امیدوار زیادہ جیتتے ہیں، کیونکہ وہاں کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت کی طرف دیکھتے ہیں، اس بار بھی یہی ہوا ہے، تاہم عوام کے آزادانہ فیصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت بھی وہاں سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔

مزید :

رائے -کالم -