دنیا کی سب سے بڑی جیل مقبوضہ کشمیر میں مقیم بچے دنیا کی فوری توجہ کے منتظر: دفتر خارجہ

دنیا کی سب سے بڑی جیل مقبوضہ کشمیر میں مقیم بچے دنیا کی فوری توجہ کے منتظر: ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے بچوں کے عالمی دن پر بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بچوں کی حالت زار کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے، عالمی برادری کو مقبوضہ جموں کشمیر میں مظلوم بچوں کی حالت زار کا نوٹس لینا چاہیے، دنیا کی سب سے بڑی جیل(مقبوضہ جموں کشمیر) میں مقیم یہ بچے عالمی برادری خصوصا اقوام متحدہ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں پندرہ ماہ سے طویل جسمانی و ڈیجیٹل محاصرے میں گھروں کے انہدام، من مانی نظربندیاں، طاقت کے استعما ل سے بچوں کو صدمہ پہنچایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بچو ں کو زندگی، تعلیم و صحت سے متعلق ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ عالمی برادری کوبھارت پر زور دینا چاہئے کہ وہ اپنی غیر قانونی اور غیر انسانی پالیسیوں اور طرز عمل کو فوری طور پر بند کرے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی پالیسیاں بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت عائد ذمہ داریوں کے منافی ہیں۔پاکستان بچوں کی مزدوری، جبری شادیوں اوربچوں کیخلاف تشدد کے واقعات کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔ جمعہ کو بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان پریشانی، بھوک، خوف اور ظلم سے پاک ایک محفوظ، جوابدہ اور دوستانہ ماحول میں ہر بچے کے بڑھنے، سیکھنے، کھیلنے اور پھلنے پھولنے کے حق کی نہ صرف تصدیق کر تا ہے بلکہ بچوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کو برقرار رکھنے کیلئے اپنی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔ بچوں کے استحصال اور جنس، مذہب و نسل کی بنیاد پر ان کیساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے متعدد ادارہ جاتی اور قانونی اقدامات بھی اٹھارکھے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا پاکستان ملک کے تمام بچوں کو کھا نے، تعلیم، صحت و صحتمند ماحول کا حق فراہم کرنے کے عزم پربھی قائم ہے، اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان نے ماہ اگست میں پسماندہ بچوں کو خوراک و غذائیت کی فرا ہمی اور بہتر نشوونما کیلئے احساس نشوونما پروگرام کا افتتاح کیا، جس کے تحت اسوقت 9 اضلاع میں 22 نشوونما مراکز کام کر رہے ہیں،جبکہ اس سال کے آخر تک احسا س نشوونما پروگرام کو 12 اضلاع کے 52 مراکز تک بڑھایا جائیگا۔ پروگرام کے الگ الگ سلسلوں کے تحت، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم و وظائف فراہم کیے جاتے ہیں۔ کوویڈ 19 وبائی مرض نے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کیلئے کثیر جہتی چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔اس تناظر میں بچوں کی صحت اور ان کی سماجی و اقتصادی زندگی پر اثرات کو کم کرنے کے عالمی عزم کو تقویت دینے کیلئے ایک یادگار یاد دہانی کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -