ایف بی آر پو را ٹیکس وصول کر ے تو قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی: عشرت حسین

 ایف بی آر پو را ٹیکس وصول کر ے تو قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی: عشرت حسین

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ اگر ایف بی آر قابل ٹیکس آمدنی وصول کرنا شروع کرے تو ہمیں قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی،اداروں کو گرانا یا کمزور کرنا بہت آسان او راداروں کو مضبوط کرنا، بنیاد اور اسٹرکچر کو مضبوط کرنا بہت وقت طلب کام ہوتا ہے،پاکستان میں پہلی مرتبہ اوپن میرٹ کے تحت کام ہوا ہے جس کی وجہ سے اب تک 40 سے 45 لوگ منتخب ہوئے ہیں۔ جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ گریڈ 21 سے 22 کی جو ترقیاں ہوتی ہیں اس کی سربراہی وزیراعظم خود کرتے ہیں اور اب میرٹ پر لوگوں کو ترقی دی گئی ہے۔ سینیارٹی یا کسی کے کہنے کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی گئی، آخری سلیکشن بورڈ کو چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا بڑا فیصلہ ہے کہ یہ شفاف ہے اور عدلیہ کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے جتنی بھی ترقیاں ہوئی تھیں ان کو برقرار رکھا اور جو سپر سیڈ ہوئے تھے انہیں کہا کہ آپ کا حق نہیں ہے، پاکستان میں یہ ایک نئی فضا ہے، اس میں وقت لگے گا لیکن اس کے نتائج اچھے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اب لوگوں نے محنت شروع کی ہے کہ اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو ہمیں ترقی نہیں ملے گی جبکہ پہلے کوئی تمیز نہیں تھی اور ہر آدمی سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی حاصل کرتا تھا چاہے وہ اہل ہو یا نہ ہو اور اس حوالے سے انتہائی اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ڈاکٹر عشرت حسین نے ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق بریفنگ کے دوران بتایا کہ پی آئی اے کی ری اسٹرکچر نگ کرتے ہوئے ملازمین کی تعداد 14 ہزار سے7ہزار کردی جائے گی، ری اسٹرکچر نگ سے پی آئی اے کے ایک طیارے پر ملازمین کی شرح پانچ سو سے کم ہو کر 250 ہوجائے گی۔پاکستان اسٹیل ملز کو لیز کرنے جارہے ہیں جبکہ پاکستان ریلوے کی پانچ کمپنیاں بنائی جارہی ہیں، ایم ایل ون منصوبہ کے لیے الگ کمپنی ہوگی۔ 

عشرت حسین 

مزید :

صفحہ اول -