توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی‘سابق آئی جی سمیت پولیس افسروں کو نوٹس

توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی‘سابق آئی جی سمیت پولیس افسروں کو نوٹس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس عاطر محمود نے ڈی ایس پی سید مختار حسین شاہ کو ایس پی کے عہدہ پر ترقی نہ دینے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست  پر آئی جی پولیس پنجاب اورسابق آئی جی سمیت 7پولیس افسروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ اسے سینئر ہونے کے باوجود ایس پی کے عہدہ پر ترقی نہیں دی جا رہی، ایس پی کے عہدہ پر ترقی کے لئے افسروں کو درخواستیں بھی دیں، دادرسی نہ ہونے پر عدالت عالیہ سے رجوع کیا، عدالت نے درخواست گزار کی ترقی کے لئے حکومتی پالیسی کے مطابق جائزہ لینے کا حکم دیاتھا، عدالتی حکم کے باوجود ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ میں نے اس کی ترقی کا معاملہ موخر کردیا، عدالت کے 20 دسمبر 2018 ء کے حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا،عدالت میں درخواست گزار کو ترقی دینے کے حوالے سے موجودہ و سابق آئی جی سمیت کئی افسروں نے غلط بیانی کی، عدالت سے استدعاہے کہ حکم عدولی پر ذمہ دار پولیس افسروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد آئی جی انعام غنی، ڈیپارٹمنٹل پروموشن بورڈ میں شامل سابق آئی جی امجد جاوید سلیمی، کیپٹن (ر) عارف نواز، ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر سمیت دیگر افسروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 نومبر تک جواب طلب کرلیاہے،دریں اثناء مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے ایف آئی اے کے سب انسپکٹر کو ترقی نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پرڈی جی ایف آئی اے اور دیگر مدعاعلیہان کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔درخواست گزار نجم اشرف کا موقف ہے کہ میرٹ پر ہونے کے باجود اسے ترقی نہیں دی جارہی۔

جواب طلبی 

مزید :

صفحہ آخر -