شوکت خانم ہسپتال کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے: ڈاکٹر عاصم یوسف

  شوکت خانم ہسپتال کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے: ڈاکٹر عاصم یوسف

  

  کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں پاکستان کے تیسرے اور سب سے بڑے شوکت خانم کیئر ہسپتال کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ  13 ارب روپے کی لاگت سے تین سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ایک میڈیا بریفنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈاکٹر محمد عاصم یوسف نے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے کینسر کے مریض سامنے آتے ہیں، جبکہ مریضوں کی اتنی بڑی  تعداد کے مقابلے میں علاج کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کینسر کا علاج اکثر ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوتا ہے اور دوران علاج بہت سارے مریضوں کو دور دراز کے علاقوں سے جسمانی، جذبانی اور معاشی طور پر مشکلات برداشت کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً ہسپتال تک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کی تعمیر سے کینسر کے علاج کیلئے ملک کی مجموعی طلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ہرسال مریضوں کی اس مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔ یہ ملک کا سب سے بڑا کینسرہسپتال ہوگا جہاں کینسر کی تشخیص و علاج کی تمام جدید ترین سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ یہ ہسپتال 20ایکڑ اراضی پر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈی ایچ اے سٹی پروجیکٹ کے اندر واقع ہوگا اور اس منصوبے کی تعمیر تین سال سے کم عرصے میں 13 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کی جائے گی۔ ہسپتال میں افتتاح کے وقت ہی سے تمام کلینکل شعبہ جات فعال اور جدید ترین ٹیکنالوجی دستیاب ہوگی۔ اسی طرح اعلیٰ ترین تشخیصی سہولیات کے ساتھ علاج کی منصوبہ بندی او ر ترسیل کا ایک جامع نظام بھی موجود ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہسپتال ہمارے لاہور کے ہسپتال سے تقریباً دوگنا بڑا ہوگا، اس میں ب یرونی مریضوں کے معائنے کے 47کمرے66بستروں پر مشتمل کیموتھراپی کی سہولت، 400بستروں پر مشتمل ان پیشنٹ کی سہولت، 16 آپریشن تھیٹر اور انتہائی نگہداشت کی خدمات کے 24 کمرے موجود ہونگے۔ ڈاکٹر عاصم کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال کے کینسر کے علاج کی اعلیٰ ترین سہولیات دستیاب ہونگی، یہاں نہ صرف سی ٹی، ایم آر آئی اور پٹ سی ٹی سکینر لگائے جائیں گے بلکہ یہاں جدید ترین پٹ ایم آر کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ پٹ ایم آر پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ایسی نئی ہائبر ڈامچنگ ٹیکنالوجی ہوگی جس کی مدد سے پہلے سے بھی زیادہ درست تشخیص زیادہ آرام اور تحفظ کے ساتھ ممکن ہوگی۔ کینسر کے علاج کی جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا ہمارا  یہ عزم اس بات کو  یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے کہ ہم اس خطے میں کینسر کے مریضوں کو علاج فراہم کرنے کی اپنی صلاحیتوں اور استعداد میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں۔ 

مزید :

صفحہ آخر -