پی ٹی آئی حکومت اب گھبراہٹ کا شکار ہے: مرتضی وہاب

پی ٹی آئی حکومت اب گھبراہٹ کا شکار ہے: مرتضی وہاب

  

 کراچی (این این آئی)ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب  نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اب گھبراہٹ کا شکار ہے کیا 300 لوگوں سے کم میں کورونا وائرس نہیں پھیلے گا کہ قول و فعل میں تضاد سمجھنا ہو تو تحریک انصاف کی دو سال کی حکومت دیکھ لے ذاتی طور پر حمایت کروں گا کہ تعلیمی اداروں کو بند کردینا چاہیے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے اپنے الفاظ ہیں کہ سیاحت کو کھول دیں معاشی قتل عام ہو رہا ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب کورونا وائرس عروج پر تھا سندھ میں آج بھی کورونا وائرس کے سب سے زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں، وزیراعظم عمران کا فیصلہ ہے کہ چیزوں کو بند نہیں کرنا لاک ڈاؤن نہیں کرنا۔مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کے سی آر کو سی پیک کا حصہ سندھ حکومت نے بنایا کیوں ہمارے پروجیکٹ ایکنک میں رک جاتے ہیں، میرا بھی دل دکھتا ہے کہ سرکلر ریلوے آپریشنل کیوں نہیں ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ میں ذاتی طور پر حمایت کروں گا کہ تعلیمی اداروں کو بند کردینا چاہیے، موسم سرما کی چھٹیوں کو پہلے کرلینا چاہیے تاکہ بچوں کو کورونا وائرس سے بچا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کو مالی مسائل درپیش ہیں، ہمیں وفاق سے کوئی سپورٹ نہیں ہے، وفاقی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ عوام اب وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں مرتضی وہاب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوائیں مہنگی ہوجاتی ہیں کہتے ہیں پتہ نہیں، چینی اور گیس مہنگی ہو تو کہتے ہیں نوٹس لے لیا، وفاقی کابینہ میں ایسے حضرات ہیں جن کے اپنے بزنس انٹرسٹ ہیں، کابینہ ارکان کے بزنس انٹرسٹ میں وہ فیصلے کیے جاتے ہیں جس سے عوام کا استحصال ہوتا ہے۔ مرتضی وہاب نے سندھ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے پروجیکٹس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ تھرکول منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر پام آئل کی امپورٹ کیلئے خرچ کرتا ہے، حکومت سندھ نے ٹھٹھہ میں ایک جگہ کو پام پلانٹیشن کے لیے مختص کیاا مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت یہ اہم سنگ میل عبور کرچکی ہے، یہ منصوبہ ٹھٹھہ کے عوام کے لیے گیم چینجرثابت ہوگا۔مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے مزید 1600 ایکڑ زمین کاٹھور میں پام کے لیے مختص کردی ہے، یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ باتیں کون کرتا ہے اور کام کون کرتا ہے۔

مرتضیٰ وہاب 

مزید :

صفحہ آخر -