سپریم کورٹ کا خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے نمائندے پر برہمی کا اظہار

    سپریم کورٹ کا خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے نمائندے پر برہمی کا اظہار

  

 اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی میں میرٹ پر داخلہ نہ ملنے سے متعلق صادق حسین کی درخواست پر سماعت کے دور ان خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے نمائندے سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 40 دن کا جس مدرسے کا تعلیمی سرٹیفکیٹ لگایا گیا ہے اس دوران وہاں چھٹیاں تھیں کیا اتنی قلیل مدد کے لیے کسی کو داخلہ دیا جا سکتا ہے،خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی غلط ایڈمیشن پالیسی کی وجہ سے عدالت کا وقت ضائع ہو رہا ہے،اگر خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے پاس ایڈمشن کی گنجائش نہیں تو ہم میرٹ پر فیصلہ کریں گے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ پسماندہ علاقے کے کوٹہ پر ہری پورر سے تعلیم حاصل کرنے والی سٹوڈینٹ کو داخلہ دیا گیا،صادق حسین نے آمازائی کے علاقے سے تعلیم حاصل کی وکیل درخواست گزار نے کہاکہ صادق حسین کے مقابلے میں طیبہ خان جس کو ایڈمشن دیا گیا اس کی ساری تعلیم باہر سے ہے وکیل درخواست گزار نے کہاکہ صرف 40 دن اس نے آمازائی میں تعلیم حاصل کی اور اسے ایڈمیشن دے دیا گیا جسٹس مشیر عالم نے خیبر میڈیکل یورنیوسٹی کے نمائندے سے برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہاکہ ایڈمشن کا طریقہ کارپراسپکٹس میں کچھ یونیورسٹی پالیسی میں کچھ اور اشتہار میں کچھ  اور دیا گیا ہے،خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی غلط ایڈمیشن پالیسی کی وجہ سے عدالت کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ یونیورسٹی کی غفلت کی وجہ سے بہت سے کیس عدالتوں میں آ جاتے ہیں،اتنے پبلک رسورس صرف یونیورسٹی کی غلط پالیسی کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہیں،یونیوسٹی کی غفلت کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا یونیورسٹی کے پاس کوئی سیٹ موجود ہے جس میں صادق حسین کو ایڈمشن دیا جائے،ریکارڈ کا جائزہ لے کر عدالت کو بتا سکتے ہیں کہ ایڈمشن کی گنجائش ہے کہ نہیں عدالت نے کہاکہ پیر تک یونیورسٹی کا ریکاڈ دیکھ کر بتائیں کہ صادق حسین کا ایڈمیشن کیسے ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت برہم 

مزید :

صفحہ آخر -