وہ وقت جب 600 کے قریب لوگ انتظامیہ کی فائرنگ کا نشانہ بنے لیکن سرکاری گولیوں کی قیمت بھی مرنیوالوں کے لواحقین کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا

وہ وقت جب 600 کے قریب لوگ انتظامیہ کی فائرنگ کا نشانہ بنے لیکن سرکاری گولیوں کی ...
وہ وقت جب 600 کے قریب لوگ انتظامیہ کی فائرنگ کا نشانہ بنے لیکن سرکاری گولیوں کی قیمت بھی مرنیوالوں کے لواحقین کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا

  

لاہور (کالم: صدیق اظہر) سیاست دانوں نے بے شک بہ ملک بنایا تھا اور ملک کے بنتے ہی اس میں جمہوریت کے دفن کرنے کے انتظامات شروع ہو گئے تھے،ابھی ملک کے آئین کو بننا تھا کہ صوبہ سرحد کی حکومت کو نہ صرف معزول کر دیا گیا، بلکہ ایک ایسا آرڈیننس جاری کیا گیا، جس کی نظیر اس کے بعد مارشل لاؤں کے بعد بھی نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا آرڈیننس تھا، جس کے تحت کسی بھی شہری کو وجہ بتائے بغیر نہ صرف طویل مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا تھا،بلکہ اس کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی تھی اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔اس وقت صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان تھے اور گورنر امبروز ڈنڈاس تھے،جنہیں گورنر جنرل نے 19اپریل1948ءکو گورنر جارج کتگھم کی جگہ تعینات کیا تھا۔

روزنامہ پاکستان میں صدیق اظہر نے اپنے کالم میں لکھا کہ یہ اگست1948ءکا واقعہ ہے کہ خدائی خدمت گاروں کے جلوس پر اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں، چھ سو کے قریب لوگ حکومت کے ظلم کا شکار ہو گئے اس پر خان عبدالقیوم خان کی حکومت نے حکم جاری کیا کہ جو لوگ اس دہشت پر مبنی حکم سے ہلاک ہوئے ہیں ان کے عزیز و اقارب ان گولیوں کی قیمت ادا کریں، جو ان کے جسم میں حکومتی حکم سے پیوست ہوئیں، ایسا حکم تو جنوبی افریقہ سے لے کر الجزائر اور فلسطین کے شہدا کے عزیز و اقارب نے بھی نہ سنا ہو گا۔ایسا آرڈیننس جو گورنر امبروز نے جاری کیا، ایسا قانون تو جنوبی افریقہ کی بوتھا حکومت نے بھی جاری نہ کیا ہو گا اور یہ ایک تسلسل ہے۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاءالحق اور جنرل مشرف ہی اس تسلسل کا حصہ نہیں تھے، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے بھی قیوم خان کی حکمت عملی کو بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد میں جاری رکھا۔ نواز شریف نے ایک اور انداز میں حزبِ اختلاف کا جینا محال کیا، اس نئے انداز کے شکار آصف علی زرداری اور شہید بے نظیر بھٹو ہوئیں۔

پاکستانی ریاست نے نو آبادیاتی اندازِ حکمرانی سے نہ صرف پیچھا نہ چھڑایا، بلکہ اس میں نئے نئے تجربے کئے۔ دو سو برس کی نو آبادیاتی حکمرانی میں جنگیں تو ہوئیں، آزادی کے حق والوں کو پھانسیاں بھی ہوئیں۔ جلیانوالہ باغ بھی ہوا، لیکن کوئی ایک علاقہ اس طرح ریاستی جبر کا شکار نہیں ہوا،جس طرح مشرقی پاکستان اور اب مودی نے کشمیر میں وہی تجربہ دھرایا ہے۔مودی کے اس اقدام کو ایک برس سے زائد کا عرصہ ہو چکا۔ اس دوران بھارت میں کئی مقامات پر اور خاص طور پر دہلی میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ بھارت میں جا بجا انسانی حقوق کی تنظیموں نے مودی سرکار کی فسطائیت کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بہار کے تازہ ترین انتخابات میں مودی کی پارٹی پھر جیت گئی۔بھارت کے خیر خواہ دانشوروں نے عالمی سطح پر بھارتی جمہوریت کے مسخ ہوتے ہوئے چہرے کے بار بار حوالے دیئے،لیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو فسطائیت اپنی جگہ قائم رہی۔اس دوران امریکہ میں نسلی منافرت کو ہوا دینے والے ٹرمپ کو جوبائیڈن نے شکست دی اور امریکہ میں ایک رنگ دار خاتون نائب صدرکے عہدہ پر چنی گئی،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے سات کروڑ ووٹ حاصل کئے اور ان سات کروڑ ووٹوں نے باراک اوباما کی حالیہ گفتگو پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ ابھی مریکہ نسلی منافرت کے دور سے نہیں نکلا۔

تعصب، نسلی ہو، مذہبی یا علاقائی، اور سب سے بڑھ کر طاقت کا تعصب ابھی دنیا میں موجود ہے۔اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں داخل ہونے والی انسانی تہذیب اب بھی طاقت اور تعصب کے زہر سے آلودہ ہے۔ زمین پر جن علاقوں نے اس زہر سے حتیٰ الامکان نکلنے کی کامیاب کوشش کی ہے، وہ زمین کا دسواں حصہ بھی نہیں بنتے۔ یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بلا شبہ بہت حد تک اس زہر سے دامن بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن وہاں بھی ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ تہذیبی برتری کا پاگل پن ان علاقوں میں بھی کبھی کبھار سر اٹھاتا ہے۔دنیا میں طاقت کا چلن موجود ہے،لیکن عوامی طاقت بھی اپنا اظہار کر رہی ہے۔پاکستان جیسے نیم نو آبادیاتی ممالک میں عوامی رائے اور عوامی حاکمیت ابھی تک دور کی بات ہے،لیکن اس حوالے سے مسلسل جدوجہد کی بھی ایک تاریخ ہے، جو قیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔

یہ انتہائی فکر کا مقام ہے کہ آج پاکستان کے عوام، سیاسی جماعتیں اور میڈیا ہی نہیں، بلکہ دانشور بھی اس شکایت کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ آزادی اظہار کے لئے شدید خطرات موجود ہیں۔ یہ صرف حکومت کا معاملہ نہیں ہے،بلکہ ملک میں موجود بعض تنظیمیں آزادیءاظہار کے لئے خطرہ بن چکی ہیں،ہمارے تعلیمی ادارے جہاں آزادیءاظہار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہاں بعض طلبا گروہ تعلیمی اداروں میں فکری پرواز اور روشن خیالی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں ایسی ہی صورتِ حال فرقہ پرستی میں بھی نظر آ رہی ہے اور اس پر حکومت کا بے لچک رویہ شدید خلفشار کا باعث بن رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار بھی ہیں اور حکومت مخالفین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا اپنی کمزوری سمجھتی ہے۔یہ تمام صورتِ حال ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری کے ساتھ ایک خطرناک نہج پر پہنچ چکی ہے، جہاں جمہوری اور سیاسی ماحول مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔یہ نقصان حکومت کا بھی ہو گا۔پی ٹی آئی ایک ابھرتی ہوئی جماعت ہے، یہ جس قدر جمہوری اقدار اور برداشت کو ترویج دے گی، اسی قدر مضبوط ہو گی وگرنہ دوسری جماعتوں کی قیادت کو ختم کرنے کی خواہش میں خود بھی اپنا وجود کھو بیٹھے گی۔ شاعر نے ایسی مخالفت کے بارے میں کہا ہے:

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا

میرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لئے

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -