سکول جاتے ہوئے 7 سالہ بچے کا اغوا، 52 روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن پھر بازیاب کیسے کروایا گیا؟ اصل زندگی کی انتہائی حیران کن کہانی

سکول جاتے ہوئے 7 سالہ بچے کا اغوا، 52 روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ...
سکول جاتے ہوئے 7 سالہ بچے کا اغوا، 52 روز تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن پھر بازیاب کیسے کروایا گیا؟ اصل زندگی کی انتہائی حیران کن کہانی
کیپشن:    سورس:   Screen Grab

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس میں ایک 7سالہ بچے کو 52روز بعد پولیس نے بازیاب کرانے میں کامیاب ہو گئی اور پولیس کو اس بچے کی موجودگی کی اطلاع ایسی جگہ سے ملی کہ سن کر آپ اسے غائبی مدد ہی قرار دیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق 26سالہ دمترے کوپیلوف نامی ملزم نے اس بچے کو اس وقت اغواءکیا جب وہ پیدل سکول سے گھر واپس جا رہا تھا۔ ملزم بچوں میں جنسی رغبت رکھتا تھا اور اسے اغواءکرنے کے بعد اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ ملزم کا تعلق بچوں میں جنسی رغبت رکھتے والے درندوں کے ایک نیٹ ورک سے تھا جو خفیہ انٹرنیٹ (ڈارک ویب)پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایک غیرملکی خفیہ ایجنسی خفیہ انٹرنیٹ پر جرائم پیشہ لوگوں کے زیراستعمال ویب سائٹس کی نگرانی کر رہی تھی۔ اسی دوران ایک ویب سائٹ پر اس بچے کے اغواءکار نے بتا رکھا تھا کہ بچہ ابھی تک اس کے پاس ہے اور وہ گورکی گاﺅں، جہاں سے بچے کو اغواءکیا تھا، سے 14میل کے فاصلے پر بچے کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہے۔ غیرملکی خفیہ ایجنسی نے یہ اطلاع انٹرپول کے ذریعے روسی پولیس تک پہنچائی جس نے آپریشن کرکے بچے کو بازیاب اور اغواءکار کو گرفتار کر لیا۔ بچے کی اپنے ماں باپ کے پاس واپسی کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں بہت جذباتی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ باپ اپنے بچے کو گلے لگائے ہوئے کہتا ہے کہ ”ہمیں یقین تھا کہ ایک دن ہم تمہیں تلاش کر لیں گے۔“بچہ اپنی ماں کو گلے لگاتا اور بے اختیار اسے بوسے دینے لگتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -