سائنسدانوں نے بندروں کے دماغ میں انسانی خلیے ڈال دئیے، نتیجہ کیا نکلا؟

سائنسدانوں نے بندروں کے دماغ میں انسانی خلیے ڈال دئیے، نتیجہ کیا نکلا؟
سائنسدانوں نے بندروں کے دماغ میں انسانی خلیے ڈال دئیے، نتیجہ کیا نکلا؟

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدانوں نے بندروں کے دماغ میں انسانی جین داخل کرنے کا تجربہ کیا ہے جس کے ایسے نتائج سامنے آئے کہ ماہرین بھی حیران رہ گئے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے لیبارٹری میں بندراور بندریا کے بیضے اور سپرمز کا ملاپ کروا کے ایمبریو پیدا کیا اور پھر اس کے دماغ کے جینز کو ایڈٹ (Edit)کرکے ان میں انسانی جین ’اے آر ایچ جی اے پی 11بی‘ (ARHGAP11B)داخل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ جین داخل کرنے سے بندر کے اس جنین (Foetus)کے دماغ کی بیرونی تہہ ’نیوکورٹیکس‘ سائز میں بہت بڑی ہو گئی۔نیوکورٹیکس دماغ کی گہری جھریوں والی وہ تہہ ہوتی ہے جو سوال اٹھانے کی صلاحیت، زبان، شعوری خیالات اور دیگر انتہائی اہم دماغی افعال کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تحقیق میکس پلینک انسٹیٹیوٹ آف مالیکیولر سیل بائیولوجی اینڈ جینیٹکس کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ مائیکل ہیڈ کا کہنا تھا کہ ”بندر کے جنین کے دماغ میں انسانی جین داخل کرنے سے اس کے دماغ کی بیرونی تہہ نیوکورٹیکس کا بڑا ہوجانا حیران کن ہے۔ نیوکورٹیکس ہی ہے جو ہمیں دیگر جانوروں سے مختلف بناتی ہے کیونکہ اسی سے ہمارے دماغ میں سوال اٹھانے، جواز مانگنے اور زبان بولنے سمیت کئی دیگر افعال کی صلاحیت آتی ہے جو ہمیں دیگر جانوروں سے ممتاز بناتی ہے۔ چمپنزی کا دماغ انسانوں کے دماغ کے قریب ترین ہے تاہم اس کے دماغ کی یہ تہہ بھی انسانی دماغ سے 3گنا چھوٹی ہے۔“

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -