علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے میں کتنے لاکھ لوگ شریک ہوئے؟

علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے میں کتنے لاکھ لوگ شریک ہوئے؟
علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے میں کتنے لاکھ لوگ شریک ہوئے؟
کیپشن:    سورس:   Screen Grab

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپرد خاک کردیا گیا ہے، ان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ لوگوں کے رش کی وجہ سے ان کا جسد خاکی سکیم موڑ سے آزادی چوک تک پہنچنے میں 6 گھنٹے کے قریب وقت لگ گیا۔

تحریک لبیک کے سربراہ کی نماز جنازہ کے موقع پر مینار پاکستان کا گریٹر اقبال پارک چاروں طرف سے بھرا ہوا تھا، اس کے علاوہ سڑکوں ، ملحقہ بازاروں اور گلی محلوں میں بھی لوگ موجود تھے۔ ان کی نماز جنازہ کو نہ صرف لاہور بلکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا اجتماع قرار دیا جارہا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودی ، عامر بن عبدالرحمان چیمہ شہید، اور ممتاز قادری کے جنازوں پر بڑے اجتماعات ہوئے تھے جس کے بعد علامہ خادم رضوی کا جنازہ بھی ملکی تاریخ کا ایک بڑا اجتماع تھا۔

خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں شریک افراد کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس بارے میں اندازے قائم کیے جا رہے ہیں۔ تحریک لبیک کے مطابق جنازے میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ شریک تھے جبکہ حکومتی اداروں کے مطابق 5 لاکھ کے قریب لوگوں نے نمازجنازہ میں شرکت کی ۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ گریٹر اقبال پارک میں جو سیاسی اجتماعات ہوتے ہیں وہ آدھے گراؤنڈ میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ یعنی داتا صاحب کی طرف والے حصے میں جلسے کیے جاتے ہیں جبکہ پیچھے کا حصہ بند کردیا جاتا ہے۔ بہت کم سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو اس گراؤنڈ کے آدھے حصے کو بھی بھر پاتی ہیں اور بعض جماعتیں تو یہاں جلسہ ہی نہیں کرتیں تاکہ جلسہ گاہ خالی نظر آنے کی وجہ سے سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن علامہ خادم رضوی کے جنازے میں پورا گراؤنڈ ہی ہر طرف سے بھرا ہوا تھا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -