مراد سعید نے اپوزیشن جماعتوں کو دھوبی پٹکا لگا دیا ،پیپلز پارٹی بارے ایسی بات کہہ دی کہ قادر پاٹیل بھی پریشان ہو جائیں

مراد سعید نے اپوزیشن جماعتوں کو دھوبی پٹکا لگا دیا ،پیپلز پارٹی بارے ایسی ...
مراد سعید نے اپوزیشن جماعتوں کو دھوبی پٹکا لگا دیا ،پیپلز پارٹی بارے ایسی بات کہہ دی کہ قادر پاٹیل بھی پریشان ہو جائیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرمواصلات مرادسعید نےکہاہےکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی جہاں جہاں حکومت ہے وہاں تو لاک ڈاؤن ہوگا لیکن جہاں یہ جماعتیں انتخاب ہارنے کے بعد حزب مخالف کی نشستوں پربیٹھی ہوئی ہیں وہاں جلسے ہونگے،اسے عوام سے ہار کا بدلہ کہئے یابوکھلاہٹ؟ بلاول ہاؤس میں ہونے والے نجی تقریب میں شرکت کے لئے کوروناٹیسٹ لازمی، ایس او پیز کے عمل درآمد پر تو کوئی سمجھوتہ ہی نہیں،انکی جانیں قیمتی ہیں تو کیا عوام کی جانیں سستی ہیں؟ کورونا کی پہلی لہر آئی تو (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنے رہنماؤں کی نیب پیشی پر خوب کوروناسیاست کی، نیب کی پیشی کو کورونا کے پھیلاؤ اور زرداری،شریف کی جانوں کو زبردستی خطرے میں ڈالنے کے الزامات لگائے گئےلیکن اب کورونا کی شدیدلہر کے دوران اپنی کرپشن بچانے کےلئےعوام کوخطرے میں نہیں ڈالا جا رہا؟۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرمواصلات مرادسعید کا کہنا تھا کہ ابھی کل ہی کی تو بات ہےکہ عالمی وبا کے آتے ہی دنیا کے بہترین نظام ہائے صحت بے بس دکھائی دیئے،مضبوط معیشتیں یکے بعد دیگرے گرتی گئیں، وباءکے پھیلاؤ کو روکنے اورمعیشت کو تباہی سے بچانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور ہو رہا تھا،پوری دنیا میں خوف کا عالم تھا،پاکستان میں کورونا کیس آتے ہی سیاست کاآغاز ہوا،اپوزیشن نے کبھی مودی کی مثال دی تو کوئی یورپامریکہ سے متاثر ہو کر بلا سوچے سمجھے لاک ڈاون لاک ڈاون کا شور کرتا نظرآیا۔

مرادسعید نےکہاکہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان نےپہلےہی دن حکومتی حکمت عملی سامنے رکھ دی کہ ہم نےعوام کو بیماری،بیروزگاری اوربھوک سے بچانا ہے،لاک ڈاون کا اعلان کرنے سے پہلے ملکی تاریخ کے سب سےبڑا امدادی پیکج تیار کیا جاتا ہے،ایک کروڑ ساٹھ لاکھ خاندانوں کو 12000فی گھرانہ مالی امداد دی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کارخانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ جو اپنے مزدوروں کو نوکری سے نہیں نکالیں گے انکو حکومتی پیکج دیا جائے گا،کل ملا کر 1200 ارب کے امدادی پیکجز کا اعلان کیا جاتاہے،وباءکے پھیلاؤ کو روکنے اور لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لئے یہ سباقدامات ایمرجنسی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں،تمام صوبوں اور اداروں پرمشتمل ایک بہترین ادارہ این سی او سی بنا دیا جاتا ہے،کمزور معیشت کوتباہی سے بچانے اور کمزور طبقے کو بھوک سے بچانے کے لئے سمارٹ لاک ڈاونکی سوچ دی جاتی ہے،کاروبار کو آہستہ آہستہ کھول دیا جاتا ہے کہ جس سےمعیشت بھی چلے، روزگار بھی ملے اور وباءکے پھیلاؤ کا خطرہ بھی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے تحت لوگوں کو روزگار کے مواقعفراہم کئے گئے اور کنسٹرکشن کی صنعت کو کھول دیا گیا، جب پاکستان یہ سارےاقدامات کر رہا ہوتا ہے تو اپوزیشن روزانہ کی بنیاد پر تنقید کے نشتر چلارہی ہوتی تھی،اندازہ لگائیے 4 دہائیوں سے حکومت میں رہنے والے ہسپتالوںکی ابتر حالت کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دے رہے تھے، خود پیٹ کی خرابیکا علاج لندن سے کرانے والے بھی ناقص صحت کا ذمہ دار عمران خان کو قراردے رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو قرض کے دلدل میں دھکیلنے والےاور معیشت کو آئی سی یو میں پہنچانے والوں کی تنقید کا مرکز عمران خان تھا۔

انہوں نے کہا کہ ماسک، سنیٹائزر، پی پی ای کٹس اور وینٹی لیٹرز کچھ بھی تو پاکستان کے پاس نہیں تھا، اس کا ذمہ دار بھی عمران خان کو قرار دیا

گیا، ہسپتالوں میں بستروں کی کمی کا ذمہ دار بھی عمران خان ہی کو ٹھہرایاگیا،کسی نے ان کی نااہلی کے سوال پوچھے نہ انہوں نے کوئی جواب دیئے،کیا پارلیمنٹ کیا ٹاک شوز عمران خان پر بھرپور تنقید ہو رہی ہوتی ہے،وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی بے جا تنقید نظر انداز کرکے عوام کو وبا،بیروزگاری اور بھوک سے بچانے کے مشن پر قائم رہے،چند ہفتوں میں آئسولیشن سینٹر تعمیر ہوئے، ماسک، سینیٹائزر، پی پی ای کیٹس نہ صرف خود تیار ہونےلگے بلکہ پاکستان برآمد کرنے لگا، جس ملک میں وینٹی لیٹرز کی تعداد کاعلم نہیں تھا وہاں ایمرجنسی میں فراہمی ہونے لگی، سمارٹ لاک ڈاون کے تحت پھیلاؤ کو روکا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وقت نے عمران خان کی حکمت عملی کو درست ثابت کیا،اوبا کے اکنامک کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی طرزکے اقدامات سے 10 ٹریلین کے نقصان سے بچا جا سکتا تھا،بل گیٹس نے عمران خان کی پالیسی کو بہترین قرار دیا،ورلڈ اکنامک فورم اور عالمی ادارہ صحت نے بھی سراہا،کاروبار کا کھولنا ،سمارٹ لاک ڈاون اور امدادی پیکج کی بھی بھر پور پذیرائی ہوئی،خاموشی تھی تو ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے بےجا تنقید کی،جو خود عوام کے راشن تک کا پیسہ کھا گئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر آچکی ہے دنیا پہلے ہی اسکی تباہی کا سامنا کر رہی ہے،اپوزیشن کی تنقید کے باوجود عمران خان کی بہترین حکمت عملی، عوام اور

میڈیا کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی مدد کیوجہ سے ہم تباہی سے بچےتھے،ہمیں آج پھر عوام کو بیماری اور بھوک سے بچانا ہے،اپوزیشن سے بے جاتنقید اور عمران خان کی کامیاب پالیسی کے حوالے سے تو کسی نے سوال نہیں کیا لیکن دوسری لہر پر قابو پانے کے لئے انکے بیانات کو انکے سامنے رکھناہوگا، کورونا کی پہلی لہر آتے ہی جو گندی سیاست کی گئی ،اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ اللہ نہ کریں اموات زیادہ ہوں گی تو حکومت پر دباؤممکن ہو پائےگا اور مکمل لاک ڈاون سے معیشت تباہ ہوئی تو بھی ذمہ دار حکومت۔

مرادسعید نے کہا کہ این آر او کے متلاشیوں کو پاکستان کے پہلی لہر کی کامیابی پر خوشی تو نہ ہوئی البتہ دوسری لہر کے آتے ہی عوام کی جانوں کو خطرے میںڈال کر ثابت کر رہے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کا بیانیہ پٹ چکا، تحریری این آر او مانگ کر رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو چکی، جی بی انتخابات میں بری طرح شکست کے بعد عالمی وبا کیدوسری لہر آتے ہی اپوزیشن کی بے حس سیاست کا آغاز ہو چکا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -