منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہی !

منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہی !
منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہی !

  

  منشیات کا زہر معاشروں کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ آج سے تین، چار دہائیاں قبل صورت حال اتنی گھمبیر نہیں تھی۔ سائنس نے جہاں مثبت سمت میں بے تحاشا کامیابیاں سمیٹی ہیں، وہیں منفی رجحانات بھی کار فرما رہے ہیں۔ منشیات صرف افیون، شراب اور چرس کی گولیوں کا نام ہی نہیں رہا، بلکہ اب یہ زہر انجکشن، کیپسول اور دیگر کئی اشکال کی صورت میں مارکیٹ میں عام دستیاب ہے۔ یہ زہر دواو¿ں کے نام پر بھی مل جاتا ہے۔ اسے استعمال کرنے والے اب صرف نشے کے کش ہی نہیں لگاتے، سرنج کے ذریعے بھی اس زہر کو اپنی رگوں میں اتارتے ہیں، خرابی کی انتہا یہ ہے کہ ایک ہی سرنج سے ایک دوسرے کو ٹیکے لگائے جاتے ہیں جو انتہائی خوفناک رجحان ہے، کیونکہ ایسے لوگوں کا مقدر صرف نشے کے اثرات بد نہیں، بلکہ ہیپا ٹائٹس اور ایڈز جیسے موذی امراض میں مبتلا ہونے کا باعث بھی ہے، جس کا انجام درد ناک موت ہے، کیونکہ یہ وہ بیماریاں ہیں، جن کا علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ ایڈز تو ہے ہی لاعلاج۔ منشیات کے استعمال میں ہیروئن سرفہرست ہے، جس کا عادی فرد مشکل سے ہی اس کے چنگل سے بچتا ہے۔ طاقتور، دولت مند اور دہشت گرد بین الاقوامی ڈرگ مافیا اس گھناونے دھندے کو چلا رہا ہے۔ ہمارا ملک بھی اس صورت حال سے محفوظ نہیں ہے۔ منشیات فروشوں کی سرگرمیوں اور دیگر عوامل کے نتیجے میں یہاں بھی نشہ کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور عزم صمیم کے ساتھ ارض وطن کو منشیات سے پاک کرنا ہے۔ منشیات اور نشے میں مبتلا افراد کے علاج اور بحالی کے لئے ضروری معلومات عوام الناس تک پہنچانا حکومت کا فرض اولین ہونا چاہئے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ منشیات کے خلاف مشن میں نوجوان نسل کو بھی شامل کیا جائے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کی تعمیر و ترقی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لئے اگر ان کو منشیات کے خلاف استعمال کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرہ اس بھیانک زہر سے محفوظ نہ ہو۔ منشیات کی روک تھام کے لئے جدوجہد کرنا صرف وفاقی، صوبائی حکومتوں اور این جی اوز کی ذمہ داری نہیں ، بلکہ مختلف محکموں، جن میں ایکسائز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے، علمائے کرام، اساتذہ کرام، سیاستدان، صحافی برادری، والدین، نوجوان رہنما ہی غرض زندگی کے ہر شعبہءفکر سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا کردار بخوبی ادا کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے ہی معاشرے میں منشیات کی جڑیں اکھاڑی جاسکتی ہیں۔ 2011ءمیں خوشگوار اور خوبصورت پھولوں کے شہر کو نشے سے پاک کرنے کے لئے حکومت پاکستان، حکومت پنجاب اور اینٹی نارکوٹس فورس پنجاب کا مشترکہ پروجیکٹ ڈرگ فری سٹی لاہور کے نام سے شروع کیا گیا، جس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد الطاف قمر اور پروجیکٹ منیجر سید ندیم عباس کی سرکردگی میں ان کی ٹیم اور لاہور بھر کی غیر سرکاری تنظیمیں، این جی اوز دن رات کی محنت، آگاہی پروگراموں، مثبت سرگرمیوں کی بدولت لاہور میں منشیات کی جڑیں کمزور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ عزم رکھتے ہیں کہ لاہور کو منشیات سے پاک کر کے دم لیں گے جو قابل تحسین امر ہے۔ اس وقت لاہور میں ایک لاکھ کے قریب افراد منشیات استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرح صرف ایک لاکھ لاہوری ہی متاثر نہیں ہو رہے، بلکہ ان کے خاندان کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ خاندان سخت مشکل میں زندگی گزار رہے ہیں، ان کا دن کا چین اور رات کا سکون ختم ہو چکا ہے۔ یہ خاندان نہ صرف معاشی مشکلات میں مبتلا ہیں، بلکہ معاشرتی سطح پر بھی معاشرہ سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ 9 اکتوبر2012ءکو منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہی کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر تنظیم الفجر پاکستان نے ”ڈرگ فری سٹی لاہور پروجیکٹ“ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد الطاف قمر کی ہدایت پر نوجوانوں کے لئے آگاہی پروگرام کا بندوبست کیا۔ اس مقصد کے لئے لاہور کے مختلف مقامات پر عوام، وکلائ، وارڈنز، پولیس افسران، نوجوانوں، خواتین، منشیات کے عادی افراد، بخشی خانوں میں قیدیوں اور دوسرے لوگوں کو منشیات کی تباہ کاریوں سے متعلق خصوصی آگاہی دی گئی اور 25 ہزار پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ اس مقصد کے لئے معظم علی خان ایڈووکیٹ ایڈیشنل سیکرٹری تنظیم الفجر کی قیادت میں محمد علی، مقصود احمد، اللہ دتہ، ثروت جبین اور نوشین ندیم نے ضلع کچہری کا دورہ کیا، جہاں وکلائ، افسران، پولیس اہلکاروں اور بخشی خانوں میں موجود قیدیوں کو منشیات کی تباہ کاریوں سے متعلق آگاہ کیا گیا اور بروشر اور پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ اس کے علاوہ چُوبرجی میں منشیات میں مبتلا افراد اور دوسرے لوگوں کو منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا گیا اور اس سے متعلقہ مسائل پر آگاہی دی گئی، جبکہ پمفلٹ اور بروشر تقسیم کیا گیا۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طالبات اور سٹاف کو منشیات کے خلاف خصوصی آگاہی دی گئی اور بروشر اور پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ نشہ استعمال کرنے والوں میں 15 سال سے 60 سال تک کے افراد شامل ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ اس طرح نشے کے باعث بیکار ہو کر پاکستان کے لئے غیر کارآمد ہو رہے ہیں۔ آج ہم نے منشیات کے استعمال کو ترک نہ کیا تو حالات مزید دگر گوں ہو جائیں گے۔ اس موقع پر تنظیم الفجر کے صدر اکمل اویسی پیر زادہ نے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریاں بہ احسن ادا کرے تاکہ منشیات کی جڑ کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ معاشرہ کا ہر فرد جب اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لاہور کو ڈرگ فری سٹی بنانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ لاہور ڈرگ فری سٹی پراجیکٹ جس محنت سے کام کر رہا ہے، معاشرے پر اس کے یقیناً دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ موجودہ دور جب انسان نے چاند پر کمندیں ڈال رکھی ہیں، سمندروں پر کنٹرول کر لیا ہے، فضاو¿ں کو اپنے تابع کر لیا ہے اور آئے روز نئی دنیاو¿ں کی دریافت کی جستجو میں لگا ہوا ہے۔ سائنس کی دنیا میں حیرت انگیز کارنامے کر کے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانیت کو کئی مسائل نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ان میں سے ایک خطرناک وبا منشیات ہے، جس نے پوری دنیا کے انسانوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ بڑی تیزی سے بچے، نوجوان، بزرگ، لڑکیاں اور خواتین اس لت میں مبتلا ہو کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو رہے ہیں، جس کے معاشروں پر بھیانک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس وبا کو قابو میں لانا، اسے پھیلنے سے روکنا اوراس کا مکمل خاتمہ یہ وہ اہداف ہیں، جنہیں حاصل کرنے کے لئے دنیا بھر کی حکومتیں، ایجنسیاں اور ادارے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوشش وقت کی انتہائی اہم ضرورت بن چکی ہے اور اس کی کامیابی میں ہی انسانیت کی فلاح و بہبود اور بقاءمضمر ہے۔ ٭

مزید :

کالم -