جارجیا کے الیکشن میں امریکہ کا کردار محدود

جارجیا کے الیکشن میں امریکہ کا کردار محدود
جارجیا کے الیکشن میں امریکہ کا کردار محدود

  

جارجیا میں ہونے والے حالیہ الیکشن کے نتائج اس بات کا عندیہ ہیں کہ مشرقی یورپ اور سابقہ روسی ریاستوں میں امریکہ کا کردار مزید محدود ہو چکا ہے۔ اپنے ایک ٹی وی پیغام میں صدر شاکشویلی نے اس بات کا اقرار کیا کہ ان کی حکمران جماعت یونائیٹڈ نیشنل موومنٹ کو ایونیشویلی کے جارجین ڈریم کولیشن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ انہیں نتائج کا احترام کرنا چاہئے۔

حالیہ الیکشن میں پہلی بار غیر معمولی تحریک اور جذبہ دیکھا گیا، جس کی بدولت حریف، سیاسی جماعتوں کو پہلی بار جمہوری اور پُرامن انداز میں اقتدار کی منتقلی ممکن ہوئی ہے۔ ویسے تو شاکشویلی اخلاقی طور پر حکمرانی کا حق کھو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ انہوں نے 2003ءمیں جارجیا میں ایک مغرب نواز انقلابی حکومت کی بنیاد رکھی تھی، جسے روز ریولیوشن کا نام دیا جاتا ہے۔ کمال بات تو یہ ہے کہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایوانش ویل نے صدر شاکشویلی کو استعفا دینے کا کہہ دیا ہے، مگر سیاسی مبصرین یہی کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہوگا، جس کی بدولت جارجیا سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے، حالانکہ نئی پارلیمینٹ کی جانب سے ایوانشویلی کو وزیراعظم نامزد کیا گیا۔ اب یہ نامزدگی صدر شاکشویلی کی منظوری کی منتظر ہے، جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر اس نامزدگی کو مسترد کر دیں گے، جس کی وجہ سے ایک آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

ایک سینئر صدارتی مشیر رافیل گلوسمن نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر حالیہ نتائج کی وجہ سے بہت مایوس ہیں، تاہم ایوانشویلی کا راستہ روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ایونشویلی نے شاکشویلی کی سب سے مقبول اصلاحات کو ایک مذاق کا درجہ دیا ہے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ان کی حکمرانی جھوٹ پر مبنی ہے، جبکہ سرکاری میڈیا نے ایوانشویلی کو ایک روسی کٹھ پتلی کے طور پر پیش کر دیا ہے۔ جارجیا کے آئینی صدر کا دور اگلے سال اکتوبر تک ہے، لہٰذا ان بارہ مہینوں میں صدر اور وزیراعظم دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یوکرائن میں مالٹائی انقلاب کی بانی (زرد انقلاب کے بارے میں پہلے بھی کالم لکھا جا چکا ہے) جسے امریکی اور مغربی میڈیا کی حمایت بھی حاصل تھی اور 2012ءمیں ہونے والے انتخابات میں وہ روسی صدر پیوٹن کے قریبی دوست Viktor Fedorory ch سے شکست بھی کھا چکی ہیں اور اس وقت کرپشن کے الرامات کی وجہ سے جیل میں ہیں اور امریکہ نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔

ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے 23 ستمبر کو امریکی سینٹ نے یوکرائن کے سابق وزیراعظم کی رہائی کا باضابطہ مطالبہ بھی کیا ہے، اس کے علاوہ جو لوگ ان کی قید کے ذمہ دار ہیں، ان کے لئے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ویزا پابندیوں کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک زمانے میں سب سے خوبصورت اور ذہین ترین قانون دان مانی جانے والی Yalia روس سے قدرتی گیس کے معاہدے میں بے اعتدالیوں کے الزام میں قید ہیں۔ شاید یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک زمانے میں دنیا کی تیسری طاقت ور ترین خاتون بھی رہ چکی ہیں۔

دوسری طرف شاکشویلی کی جماعیت کو مغربی میڈیا کی مکمل حمایت حاصل تھی جو اپنے مخالف ایوانشو یلی کو ایک سیاستدان کی بجائے ارب پتی بزنس مین کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ایوانشویلی کا کمال ہے کہ انہوں نے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد روس کے ساتھ تعلقات کو از سر نو ترتیب دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنانے کا عزم طاہر کیا ہے۔ ایوانشویلی جو جارجین عوام کے لئے سال پہلے تک ایک نامعلوم شخصیت تھی۔ اس نے اس بات کا بھی عزم کیا ہے کہ جارجیا یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کے لئے اپنی کوشش جاری رکھے گا، اگر کوئی شاکشویلی اور ایوانشویلی کے پس منظر سے صحیح طور پر واقف ہے تو وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ دونوں بالکل الگ الگ کردار اور ذہنی کیفیت کے مالک ہیں۔

اگر ہم 1991ءمیں شاکشویلی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر ایک نگاہ ڈالیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ شاکشویلی امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے باہر چلے گئے، وہ جارجیا کی عبوری سیاسی کو نسل کے ہیومن رائٹس آفیسر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے 1994ءمیں کولمبیا کے ایک لاءسکول سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ایک سال تک شعبہ تدریس سے بھی منسلک رہ چکے ہیں۔ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ شاکشویلی انتظامیہ نے عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد دوگنا کر دی تھی، جس کی وجہ سے جارجیا عراق میں اتحادی افواج کا سب سے بڑا سپورٹر تھا۔ اس کے علاوہ اسی دور میں جارجیا نے عالمی سلامتی کے لئے اپنی افواج افغانستان اور کوسوو میں بھی اتاریں۔

2004ءمیں شاکشویلی نے اسرائیل کا دورہ کیا اورجدید توانائی پر ریسرچ کرنے والے ادارے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اسی سال حیفہ یونیورسٹی کی جانب سے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی، اس کے علاوہ ان کی سرپرستی میں جارجیا، اسرائیل دوستی ویک بھی منایا گیا۔ انہی کے دور میں امریکہ اور یورپی یونین کو جارجیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ جارجیا کی جانب سے عراق میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ امریکہ کے لئے ایک اہم کامیابی تھی۔ اگر ہم ایوانشویلی کی بات کریں تو ان کا تعلق جارجیا کے ایک دور دراز گاو¿ں کو رویلا کے غریب گھرانے سے ہے۔ انہوں نے 1982ءمیں ماسکو کی ایک یونیورسٹی سے اکنامکس میں پی ایچ ڈی کی۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وہ ایک روسی شہری تھے۔ انہوں نے 2004ءمیں جارجیا کی شہریت حاصل کی۔ اکتوبر 2011ءمیں انہوں نے ایک نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی، جس کا نام جارجین ڈریم تھا اور اسی پارٹی نے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔      ٭

مزید :

کالم -