بانی پاکستان کا مسلک؟

بانی پاکستان کا مسلک؟
بانی پاکستان کا مسلک؟

  

روزنامہ ”پاکستان“ کی 8 اکتوبر2012ءکی اشاعت میں سید وجیہہ الحسن بخاری کا ایک آرٹیکل ”قائداعظم شیعہ نہ سنی، صرف مسلمان“ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوا ہے۔ اس میں بانیءپاکستان کے مذہبی مسلک کے بارے میں موصوف فرماتے ہیں:”ایک بار ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ شیعہ ہیں یا سنی؟ جواب میں انہوں نے فرمایا کہ حضور پاکﷺ شیعہ تھے تو مَیں بھی شیعہ ہوں، اگر وہ سنی تھے تو مَیں بھی سنی ہوں۔ وہ تو مسلمان تھے، سو مَیں بھی مسلمان ہوں“۔

میری دانست میں بانیءپاکستان سے غلط طور پر اس قسم کا جواب منسوب کر دیا گیا ہے، کیونکہ یہ بڑا غیر منطقی جواب ہے۔ قائداعظمؒ کا تمام عمر منطق سے واسطہ رہا۔ وہ اس طرح کا جواب کیسے دے سکتے تھے؟ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ اگر مَیں کسی صاحب سے سوال کروں کہ وہ جاٹ ہیں یا گجر؟ تو وہ صاحب جواباً مجھ سے سوال کر دیں کہ آدم علیہ السلام کیا تھے؟ اگر وہ گجر تھے تو مَیں گجر ہوں، اگر وہ جاٹ تھے تو مَیں جاٹ ہوں.... یا پاکستان سے باہر کوئی صاحب مجھ سے سوال کریں کہ مَیں پاکستانی ہوں، بھارتی ہوں یا بنگلہ دیشی ہوں؟.... تو مَیں جواباً سوال کر دوں کہ اورنگ زیب عالم گیر کیا تھے؟.... مسلک دریافت کئے جانے کے جواب میں کوئی شخص بھی خود کو نبی اکرمﷺ کے مماثل قرار نہیں دے سکتا۔ نبی اکرمﷺ تو اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ تھے۔ وہ تو مجسم اسلام تھے، ان کا قول و فعل ہی اللہ تعالیٰ کا دین تھا۔ کیا ان ﷺ کے بعد کوئی شخص انﷺ کے مماثل ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کا قول و فعل بھی اسلام ہے؟ نہیں۔ نہیں ہرگز نہیں۔

یہ سوال کہ وہ سنی ہے یا شیعہ؟.... صرف اسی شخص سے دریافت کیا جاتا ہے جو مسلمان ہونے کا مدعی ہوتا ہے۔ کبھی کسی ہندو، عیسائی، پارسی سے کسی نے دریافت نہیں کیا کہ وہ سنی ہے یا شیعہ؟ اب اگر کوئی شخص یہ جواب دیتا ہے کہ وہ نہ سنی ہے نہ شیعہ ہے تو درحقیقت وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ سوال کسی مسلمان سے کیا جائے ،کیونکہ جب مسلمانوں میں شیعہ اور سنی کی تقسیم ہوگئی تو اب جو شخص بھی مسلمان ہونے کا مدعی ہوگا وہ لازماً یا تو سنی ہوگا یا شیعہ، کیونکہ جو شخص بھی مسلمان ہے وہ کبھی نہ کبھی نماز ضرور پڑھے گا ،خواہ سال میں ایک بار پڑھے۔ جب بھی وہ نماز پڑھے گا تو ہاتھ باندھ کر پڑھے گا یا ہاتھ کھول کر پڑھے گا۔ اسی وقت فیصلہ ہو جائے گا کہ وہ سنی ہے یا شیعہ؟

جناب ایم اے ایچ اصفہانی (جو امریکہ میں پاکستان کے سب سے پہلے سفیر تھے) نے ایک مقدمے میں کراچی ہائیکورٹ میں بطور گواہ جو بیان ریکارڈ کروایا وہ اس طرح ہے:”مَیں سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں کیمبرج میں انڈر گریجوایٹ کے طور پر تعلیم حاصل کر رہا تھا، جب بھی قائداعظمؒ سے رابطے کا شرف حاصل ہوا۔ ایک شام ان سے میری ان کے مسلک پر بات چیت ہوئی اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا تعلق آغا خانی خوجوں سے رہا ہے۔ 1896ءمیں بار ایٹ لاءکرنے کے بعد انگلینڈ سے واپس آئے اور آغا خانی مسلک سے تعلق رکھنے کے سوال پر غور و خوض کے بعد انہوں نے اسے چھوڑنے اور اثنا عشری عقیدہ اپنانے کا فیصلہ کیا“ ....قائداعظم کے خاندانی تنازعے صفحہ نمبر 24 از خالد احمد.... قائداعظمؒ کے مسلک کے بارے میں جی الانہ نے بھی ذکر کیا ہے جو اس طرح ہے:

"In the sleepy little village lived at this time a hard working oldman, Poonja Bhai, an Ismaili Khoja, and there lived, worked and died his forefathers. Agriculture was the main occupation of Panili. Poonja Bhai being among the few exceptions, as he owned some hand looms, on which he worked long and tiring hours.... Poonja Bhai had three sons, Valiji Bhai, Nathoo Bhai, Jinnah Bhai and one daughter, Man Bai.... Jinnah Bhai was married to Mithi Bai in Dhraffa around 1874.... Mithi Bai was now with child and her first born, a son,.... they named the boy, Mohammad Ali." Our freedom fighters page227 by G. Allana.

ان شہادتوں کے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کرنا کہ قائداعظم کا کوئی مذہبی مسلک ہی نہیں تھا، بالکل بے حقیقت بات ہے۔ کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، امر واقعہ یہی ہے کہ قائداعظمؒ مسلکاً شیعہ تھے۔ موروثی طور پر آغا خانی اسماعیلی اور سیاسی طور پر اثنا عشری۔ ٭ 

مزید :

کالم -