مصحفی،میر؟نہیں....مومن!

مصحفی،میر؟نہیں....مومن!
مصحفی،میر؟نہیں....مومن!

  

لکھنا تو کچھ اور چاہتا تھا مگر درمیان میں شدید فرمائشی کالم غلط بخشی اشعار کے حوالے سے لکھ رہا ہوں۔ مقصد درستی اور اصلاحِ احوال ہے۔ نہایت نیک نیتی سے جو تصحیح ضروری ہے۔ وہ کر رہا ہوں۔

میرے محترم عظیم ایٹمی سائنسدان، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب شعر و ادب کا بڑا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ اُن کی ایک کتاب جوبار بار چھپ چکی ہے وہ نوادراتِ سخن پر مشتمل ہے، عظیم و ضخیم شکل میں ”نوادر“ کے نام سے آخری ایڈیشن چھپا تھا جو مدتوں سے پھر نایاب ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ لکھنے کی سعادت اس خاکسار ہیچمداں کو حاصل ہے۔ مقصد اس تمہید کا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نوادرِ سخن کے جُویا رہتے ہیں اور پھر اپنی پسند میں دوسروں کو بھی شریک کرتے ہیں۔ بلاشبہ ہزاروں پسندیدہ اشعار اُن کی ذاتی ڈائریوں کی زینت ہیں، جن کا انتخاب متذکرہ کتاب نوادر میں سمویا ہُوا ملے گا۔ اس ذوق و شوق کے ساتھ ساتھ وہ ہفتہ وار کالم ”سحر ہونے تک“ کے عنوان سے معاصرِ بزرگ ”جنگ“ میں ہر پیر کو لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے اتنے صاحبِ ذوق سخن فہم، سخن سنج اور سخن پرور شخصیت کے کالم میں غلط بخشی یا غلطی اشعار کی توقع نہیں کی جاسکتی، پھر بھی گزشتہ پیر 15 اکتوبر2012ءکے کالم میں ایک مشہورِ زمانہ بلکہ ضرب المثل شعر کے سلسلے میں ڈاکٹر خان صاحب سے تسامح سرزد ہوگیا۔ مشہور زمانہ شعر ہے:

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کرلے

ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہوں گے

اس شعر کو ڈاکٹر صاحب نے نجانے کس رو میں لکھنو¿ دربار کے مقتدر شاعر غلام ہمدانی مصحفی کو بخش دیا جبکہ یہ شعر ہرگز مصحفی کا نہیں، حکیم مومن خان مومن کا ہے۔ اسی غزل کا ایک اور شعر ہے:

تابِ نظارا نہیں، آئینہ کیا دیکھنے دوں

اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

اور مقطع بھی بہتمشہور ہے کہ:

عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

”خطائے بزرگاں گرفتن خطااست“ کے پیش نظر ہم نے فون کر کے ڈاکٹر صاحب کو توجہ نہ دلائی تو انہوں نے خود فون کر کے پوچھ لیا، اب ہمیں بتانا لازم تھا سو سوچا اُنہیں تو بتا دیا، جن لاکھوں قارئین نے پڑھا اور وہ مصحفی کا سمجھے ہوں گے، اُن کو بھی صحیح اطلاع فراہم کر دی جائے۔ سو یہ سب کچھ ازراہِ امتثالِ امر لکھ دیا گیا ہے، مقصود اس سے اپنی ہمہ دانی نہیں.... طالب علمانہ کاوش کا اظہار ہے اور بس!.... اسی روز اسی کالم میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اسد بھوپالی کا ایک شعر اس طرح رقم کیا ہے:

انقلاب آ رہے ہیں اسد!

جانے کیا ہوگا تاجداروں کا؟

مذکورہ شکل میں شعر کا پہلا مصرعہ پورے شعر کی بے وزنی کا سبب بن گیا ہے، شاید کمپوزنگ کی غلطی سے لفظ ”انقلابات“ محض ”انقلاب“ رہ گیا۔ صحیح شعر یوں، باوزن ہونا چاہئے تھا:

انقلابات آ رہے ہیں اسد

جانے کیا ہوگا، تاجداروں کا

برسبیلِ تذکرہ انہی اسد بھوپالی کا ایک مشہور شعر قارئین کے ذوقِ طبع کے لئے:

جائے گا جب جہاں سے کچھ بھی نہ پاس ہوگا

دو گز کفن کا ٹکڑا تیرا لباس ہوگا

حکیم مومن خاں مومن کا ذکر چلا ہے تو یاد آیا کہ ماہنامہ ”ادب دوست“ لاہور کے تازہ شمارہ اکتوبر 2012ءمیں خطوط کے کالم میں جناب رفیع یوسفی محرم نے اپنے مکتوبِ لطیف میں بطور تبصرہ لکھا ہے:

غزلیات میں محمد ممتاز راشد کی طویل غزل خوب ہے بطرزِ میر:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

جبکہ یہ مشہورِ زمانہ بلکہ ضرب المثل شعر ہرگز خدائے سخن میر تقی میر کا نہیں، بلکہ مومن خاں مومن کا وہ شعر ہے، جس کے عوض، ہر عہد پر غالب، میرزا اسد اللہ خاں غالب اپنا پورا دیوان مومن کی نذر کرنا چاہتے تھے کہ ”میرا سارا دیوان لے لو یہ شعر مجھے دے دو“۔ اگر کہیں واقعتاً ایسا ہو جاتا تو ہم ہر روز دیوانِ غالب کے بجائے کیا پڑھا کرتے؟، بہرحال.... محرم اسرار و رموزِ سخن، رفیع یوسفی محرم صاحب لکھ رکھیں کہ یہ شعر مومن کا اور صرف مومن کا ہے، یعنی:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

روزنامہ ”نوائے وقت“ کی اشاعت اتوار30 ستمبر 2012ءمیں مستقل کالم”سر راہے“ کے فاضل کالم نویس نے حضرت علامہ اقبالؒ کا ایک بہت ہی مشہور شعر اس طرح تحریر فرمایا ہے:

نہیں مایوس اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

جبکہ متذکرہ شکل میں پہلے اصل مصرعے کا پوری طرح ”دھڑن تختہ“ ہوگیا ہے، جس کے سبب پورا شعر ہی بے وزنی کا شکار ہوگیا ہے۔ حضرت علامہ کا درست شعر، صحیح دروبست کے ساتھ یوں ہے:

نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اسلام آباد سے سر سید میموریل سوسائٹی اور انجینئرنگ ایجوکیشن ٹرسٹ کے اہتمام سے ایک انتہائی معیاری جریدہ ”عزم و عمل“ کے نام سے سہ ماہی کی صورت میں شائع ہوتا ہے۔ مدیرِ اعلیٰ، صاحبِ سیف قلم، بریگیڈیئر (ر) اقبال شفیع (علیگ) ہیں، جو کئی کتابوں کے مصنف اور صاحبِ اسلوب نثر نگار ہیں۔ جواں فکر شاعر طارق نعیم اس ذی وقار مجلے کے مُدیر ہیں جو احمد فراز کے زمانے میں نیشنل بک فاو¿نڈیشن کے ماہنامہ ”کتاب“ کے کامیاب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ ”عز م و عمل“ کے تازہ ترین شمارے کے صفحہ پر 36 پر ایک رپورٹ”آگ کیسے بجھائی جائے؟“ کے عنوان سے بغیر کسی لکھنے والے کے نام کے شائع ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تحریر مُدیرِ محترم ہی کی ہوگی۔ اس رپورٹ کے شروع میں ایک بہت ہی مشہور شعر جلی حروف میں شکیل بدایونی کے نام سے اس طرح درج ہے:

جو آگ لگائی تھی دل نے اُس کو تو بجھایا اشکوں نے

جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

جبکہ یہ شعر شکیل بدایونی کا ہرگز نہیں، بلکہ معین احسن جذبی کا ہے اور صحیح یوں ہے:

جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے

جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

معین احسن جذبی کی اسی مشہور غزل کا ایک اور بے حد مشہور شعر ہے:

جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی

اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ کالم نویس ”نوائے وقت“ نے جمعہ 19 اکتوبر 2012ء کو اپنے کالم ”حکمِ اذاں“ کا ذیلی عنوان یوں جمایا ہے:

دن نکلتا نظر نہیں آتا

اور کالم کے آخر میں اس مصرعے کو اس تمہیدی فقرے کے ساتھ مکمل شعر میں ڈھالا ہے کہ: ”سچ شعیب بن عزیز کے اس شعر سے عیاں ہے:

رات جاتی دکھائی دیتی ہے

دن نکلتا نظر نہیں آتا

اسی روز حسن اتفاق سے ہمارے”پاکستان“ میں نسیم شاہد نے اپنے کالم ”اَن کہی“ کا ذیلی عنوان:

”شب گزرتی دکھائی دیتی ہے“

رکھا ہے اور کالم کے آخر میں شعیب بن عزیز ہی کے نام سے مکمل شعر یوں لکھا ہے:

شب گزرتی دکھائی دیتی ہے

دن نکلتا نظر نہیں آتا

 جمعہ 19 اکتوبر کے دو مو¿قر اخبارات میں، دو مختلف کالم نویسوں نے حسن اتفاق سے ایک ہی شاعر کے شعر کے الگ الگ مصرعوں کو کالم کا عنوان بنایا، مگر دونوں کے ہاں مختلف انداز میں شعر دیکھ کر قاری بے چارا کس کو صحیح جانے؟.... اس کنفیوژن سے نجات کے لئے مَیں حاضر ہوں مگر شاعر زندہ ہے، الحمدللہ!

کچھ کام وہ بھی تو کرے!

ایک مشہور زمانہ ضرب المثل شعر ہے:

غزل اُس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا

اس لازوال شعر کے خالق صفی لکھنوی تھے، جن کی ایک نظم ”رجزِ مسلم“ اشعار کے تسلسل اور موضوع کے لحاظ سے دینِ اسلام کی ہمہ گیریت کو بیان کرتی ہے۔ نظم کا ایک شعر یوں ہے:

اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

 یار لوگ عموماً ”اس دین“ کی جگہ ”اسلام“ لگا کر شعر پورا کر لیتے ہیں، لیکن اس تحریف شدہ شکل میں واوین نہیں لگاتے جو لگانے چاہئیں، اس طرح:

”اسلام“ کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے، ورنہ اصل مصرع تو شاعر کے ہاں نظم ”رجزِ مسلم“ میں اس طرح ہے:

اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اور آخر میں نذیر ناجی کا ایک شعر:

جو پانے کے لئے گھر سے مَیں ننگے پاو¿ں نکلا تھا

وہ سب کچھ پا لیا ناجی مگر اب سو نہیں سکتا

مزید :

کالم -