فرشتوں کا راز فاش ہوگیا

فرشتوں کا راز فاش ہوگیا
فرشتوں کا راز فاش ہوگیا

  

تاریخ اپنے آپ کو بے نقاب کررہی ہے اور جب تاریخ یہ کرنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ حالات کی کروٹیں یا تبدیلی کا اشارہ بن رہی ہیں۔سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں جو فیصلہ دیا،وہ تاریخ کی اس سچائی کو سامنے لانے کا باعث بنا ہے،جس پر عرصہ دراز سے پردہ پڑا ہوا تھا۔یہاں کادستور تو سبھی کو معلوم ہے۔سچ کو دبانے اور چھپانے کی عادت ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔کتنے ہی سچ سامنے نہیں آ سکے اور ان کے حوالے سے عجیب و غریب داستانیں گردش کررہی ہیں۔اس بات کو سیاستدان تکیہ کلام کے طور پر استعمال کرتے تھے کہ سیاسی جماعتیں ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں، مگر کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کسی کو شک و شبہ نہیں رہا کہ خفیہ ایجنسیاں ہمارے جمہوری نظام کو اپنی چھڑی سے اِدھر اُدھرکرتی رہی ہیں۔عوام کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہوتا رہا ہے، اس کا چہرہ اب بے نقاب ہوا ہے۔ صاف ، شفاف انتخابات کا ڈھنڈورا پیٹنے والی حکومتیں اور ایجنسیاں کیا کیا گل کھلاتی رہی ہیں؟ اس کی داستان سپریم کورٹ کے فیصلے نے کھول کر رکھ دی ہے۔

تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔سارا الزام حکومتوں یا ایجنسیوں کو نہیں دیا جا سکتا۔خود سیاستدان بھی اس دھندے میں پورا پورا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔اگر وہ اپنے مفادات کے لئے آلہ ءکار نہ بننا چاہتے تو کوئی انہیں اس پر مجبور نہیں کرسکتا تھا۔اقتدار کو مطمح نظر سمجھنے والوں نے جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہر وہ کام کیا، جو کسی بھی طرح ایک جمہوری و سیاسی نظام کے دعویدار ہونے کی حیثیت سے انہیں زیب نہیں دیتا تھا۔تاریخ کا پہیہ اُلٹا تو نہیں چل سکتا، لیکن یہ سوچ کر عوام کی بے چارگی پر ترس آتا ہے کہ وہ کس طرح اچھے دنوں کی آس میں زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔کس طرح انہوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائیں،جانیں قربان کیں،ووٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا سکھ چین برباد کیا، مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کی رائے تو پانی کا وہ بلبلہ ہے،جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔

وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ قضا و قدر کے مالک تو وہ فرشتے ہیں، جو کہیں نظر نہیں آتے، مگر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں، اور فیصلے بھی خود کرتے ہیں۔ایک پوری نسل یہ سن کر اور پڑھ کر اپنی زندگی گزار گئی ہے کہ انتخابات میں فرشتے ووٹ ڈال گئے۔ اسے یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ فرشتے کیسے ووٹ ڈال سکتے ہیں؟ جہاں انسانوں نے کئی پابندیاں لگا رکھی ہوں، کئی ضابطے بنا رکھے ہوں، الیکشن کمیشن کے کارپرداز کبھی عدلیہ اور کبھی فوج کی نگرانی میں انتخابات کرائے ہوں، وہاں فرشتوں کے لئے جگہ ہی کہاں بچتی ہے کہ اپنا کام دکھا سکیں، مگر بالآخر فرشتوں کا راز فاش ہوگیا، حقیقت کھل گئی، حمام کے سبھی شرکاءننگے ہوگئے، ان کی گردنیں پتہ نہیں شرم سے جھکیں یا نہیں،البتہ عوام کی گردنیں یہ سوچ کر ضرور جھک گئیں کہ جنہیں وہ اپنا رہبر سمجھتے رہے، جن سے انہوں نے اچھے دنوں کی امیدیں باندھیں، جنہیں نجات دہندہ کا درجہ دیا ، وہ اندر سے کیا نکلے؟....بکاﺅ مال،مفادات کے غلام، جمہوریت کو ایجنسیوں کے پاس گروی رکھنے والے، دنیا دار مفادات کے غلام۔

اب تو مجھے یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس قوم پر رحم آ گیا ہے۔یہ اسی رحم کا نتیجہ ہے کہ وہ تمام خفیہ ہاتھ اور چہرے رفتہ رفتہ بے نقاب ہورہے ہیں،جنہوں نے عوامی ہمدردی اور قومی خدمت کا لبادہ اوڑھ کر قوم کو بے وقوف بنانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔جعلی ڈگریوں والے، دہری شہریت کے شاہ سوار اور اب ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے وقت کی بے رحم موجوں کے آگے بہتے نظر آتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اس سارے دھندے میں اصل کردار ان اداروں کا رہا ہے،جنہوں نے اپنے مفادات یا عالمی آقاﺅں کے کہنے پر ملک میں جمہوریت کو کٹھ پتلی بنائے رکھا۔فوج کے بعض جرنیلوںنے جو منفی کردار ادا کیا، اس کی قیمت عوام آج تک چکا رہے ہیں، اس سے یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ ملک میں ہر دس بارہ سال بعد مارشل لاءلگانے کا شیڈول بھی یہی خفیہ طاقتیں بناتی رہی ہیں۔ ان کے لئے حالات پیدا کرنے اور فضا بنانے میں بھی انہی کا ہاتھ ہے۔

اس فیصلے سے یہ عقدہ بھی حل ہوگیاہے کہ بھٹو کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی جو تحریک چلی وہ بھی ڈیزائن شدہ تھی اور آئی جے آئی کے ذریعے پیپلزپارٹی کوروکنے کا جو پلان تیار کیا گیا، وہ بھی خفیہ والوں کے ذہن رسا کا کرشمہ تھا۔اس حوالے سے یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ یہ خفیہ ایجنسیاں اور وہ اسٹیبلشمنٹ جس کا ذکر تو ہمیشہ ہوتا ہے، مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ہے کس بلا کا نام؟ اس تگ و دو میں مصروف رہی ہیں کہ پیپلزپارٹی کا راستہ روکا جائے۔ایک زمانے تک پیپلزپارٹی کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت قرار دیا جاتا رہا،مگر اب لگتا ہے کہ اس کے زہریلے دانت نکل گئے ہیں، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور پیپلزپارٹی بظاہر شیر وشکر ہوچکی ہیں،تاہم تاریخ میں جوجو کچھ اس پارٹی کو روکنے کے لئے کیا جاتا رہا، اس کا پیپلزپارٹی کو تو بہر طور فائدہ ہی ہوا، البتہ ہمارے سیاسی نظام اور جمہوری استحکام کی چولیں باربار ہلتی رہیں اور آج 65برس بعد بھی اگر ہم ایک اِن دیکھے خوف کا شکار رہتے ہیں، اس کا باعث بھی یہی بار بار پیش آنے والے واقعات ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے تحریک انصاف کے بارے میں تواتر سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ ایجنسیوں کی پیداوار ہے۔چودھری نثار علی نے تو جنرل پاشا کی ریٹائرمنٹ کے بعد بار بار یہ بیانات دیئے کہ تحریک انصاف کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے،کیونکہ اس کا گاڈفادرچلا گیا ہے۔ادھر مولانا فضل الرحمن اپنے جلسوں میں مسلسل یہ دہائی دے رہے ہیں کہ ایجنسیاں اپنے کھیل سے باز آ جائیں۔گویا ابھی تک سیاستدانوں کے ذہنوں میں خفیہ ایجنسیوں کا کردار ایک ہوّا بنا ہوا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بھی کیا صورت حال یہی رہے گی؟پہلے کسی ایجنسی کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت کا کوئی فیصلہ موجود نہیں تھا، بلکہ کوئی اس بات کی جرا¿ت ہی نہیں کرتا کہ کسی ایجنسی، خاص طور پر آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کا ذکر ہی کرے، مگر اب صورت حال کو تبدیل شدہ تناظر میں دیکھنا چاہیے۔اب اس فیصلے نے کسی بھی خفیہ ایجنسی کے سیاسی کردار پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ یہ تک کہا گیا ہے کہ جرنیلوں کا سیاسی امور میں مداخلت کرنا ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔

دوسری طرف صدر مملکت کے سیاسی کردار کو بھی خلاف ضابطہ قرار دے کرایک نئی مثال قائم کردی گئی ہے۔اس صورت حال کو بغور دیکھا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب گیند سراسر سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے، اگر وہ خود کوئی ضابطہ ءاخلاق بنا کر اس بات کا تہیہ کرلیں کہ انہوں نے کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیتی، نیز اپنے ذاتی مفاد کے لئے کسی کا آلہ ءکار نہیں بننا تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں جمہوری استحکام جڑپکڑلے گا۔ہمارے ہاں مخلوط مینڈیٹ کی جو وباء پچھلے دو تین انتخابات میں پروان چڑھی ہے، اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا،کیونکہ ایجنسیوں کا کردار سامنے آنے کے بعد یہ حقیقت بھی طشت ازبام ہوچکی ہے کہ ایک خاص مقصد کے تحت مخلوط نتائج ترتیب دیئے جاتے رہے، تاکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام برقرار رہے اور اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کا موقع ملے۔

ایسی صورت حال تو اس وقت ہوگی جب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سیاسی قوتیں اپنی طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔کسی کی ہار یا جیت سے تعبیر کرنے کی بجائے ان غیر جمہوری قوتوں کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جو ہمیشہ سیاسی نظام کو اپنی انگلیوں پر نچاتی رہی ہیں۔یہی قوتیں اس فیصلے کے بعد یہ کھیل بھی کھیل سکتی ہیں کہ سیاسی قوتوں کو آپس میں لڑا دیں، انہیں مزید تقسیم کردیں، تاکہ آنے والے انتخابات سے یہ فائدہ اٹھا سکیں۔سیاستدان اگر اس حقیقت کو پلے باندھ لیں کہ اس ملک میں اب صرف دو ہی طاقتیں ہیں۔ایک جمہوری اور دوسر اغیر جمہوری تو وہ اس نکتے کو پالیں گے کہ انہیں فروعی مسائل میں الجھنے کی بجائے، ملک کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ اقتدار کے لئے تقسیم ہونے کی بجائے اعلیٰ جمہوری اقتدارکے لئے متحد رہنا چاہیے۔ ماضی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو جب بھی کٹھ پتلی کی طرح استعمال کیا جاتا رہا تو ان کے حصے میں سوائے رسوائی ،پھانسی،سزا اور جلاوطنی کے اور کچھ نہیں آیا۔ اب بھی اگر انہوں نے اپنے کردار کا از سر نو تعین نہ کیا تو انہیں مشکلات کی دلدل میں دھنسنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ہماری جمہوریت کے لئے امرت دھارا ثابت ہوسکتا ہے، بشرطیکہ ہمارے سیاسی رہنما اقتدار کے اس عارضی نشے کو بھولنے پر آمادہ ہوں،جو خوئے غلامی بھی اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔     ٭

مزید :

کالم -