آہ! نیوز ویک!!

آہ! نیوز ویک!!
آہ! نیوز ویک!!

  

ابلاغیات کے طلباءو شائقین کے لئے بالعموم اور پریس میڈیا کے لئے بالخصوص یہ خبر افسوسناک ہوگی کہ نیوز ویک (Newsweek) جو ایک معروف انگریزی ہفتہ وار نیوز میگزین ہے، وہ یکم جنوری 2013ءسے ”آل ڈیجیٹل“ ہو رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس میگزین کو صرف اپنے لیپ ٹاپ پر دیکھ اور پڑھ سکیں گے۔ اس کی کوئی مطبوعہ کاپی نہ تو کسی نیوز سٹینڈ پر دستیاب ہوگی اور نہ بذریعہ ڈاک آپ کو مل پائے گی.... یہ فیصلہ اس لئے کرنا پڑا کہ اس کی اشاعت روز بروز کم ہو رہی تھی۔ دس برس پہلے اس کی 40 لاکھ کاپیاں فروخت ہو رہی تھیں، جو اب گھٹ کر صرف 15 لاکھ رہ گئی ہیں۔ یہ رجحان اگر جاری رہا (اور کوئی وجہ نہیں کہ جاری نہ رہے) تو آئندہ عشرے میں یہ تعداد 5 لاکھ رہ جائے گی۔ شاید اس سے بھی کم ہو جائے کہ آج دنیا بھر میں مطبوعہ رسائل، اخبارات اور کتب وغیرہ کی تعداد روز بروز کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

کچھ عرصے سے یہ میگزین پاکستان سے بھی شائع ہو رہا ہے، مگر اس کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ بہت کم پاکستانی اس کی خرید اور اس کے مطالعے کی سکت رکھتے ہیں۔ اس کی کم سرکولیشن کی دوسری وجہ آن لائن نیوز کی وہ فراہمی ہے جو آپ کو انٹرنیٹ پر تقریباً مفت میسر ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ کے سامنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ رکھا ہونا چاہئے، جس میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی موجود ہو۔ یہ سہولت بھی روز بروز سستی اور عام ہو رہی ہے۔ مَیں ترقی یافتہ ممالک کی بات نہیں کرتا، ہم جیسے تیسری دنیا کے ملکوں میں اب پڑھے لکھے لوگوں کی اچھی خاصی اکثریت ڈیجیٹل معلومات سے مستفید ہو رہی ہے۔

مَیں نے اس میگزین کی آخری کاپی شاید تین چار ماہ پہلے دیکھی تھی، جس میں لیڈ سٹوری یہ تھی کہ امریکی افواج کے افسروں اور جوانوں میں خود کشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد ان فوجیوں سے بڑھتی جا رہی ہے جو دنیا کے مختلف میدان ہائے جنگ میں دشمن کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔ یہ خبر چونکہ میرے لئے ایک ”دل خوش کن“ خبر تھی، اس لئے مَیں نے 175 روپے، اس کی تفصیل معلوم کرنے کے لئے ”صرف“ کر ہی دئیے۔

 نیوزویک کے بین الاقوامی ایڈیشن کی ایڈیٹر انچیف ٹینابراو¿ن (Tina Brown) اور نیوزویک پاکستان کے ایڈیٹر انچیف فصیح احمد صاحب ہیں۔ گلوبل گرانی کے اس دور کے باوجود نیوزویک پاکستان نے اس میگزین کی صورت و سیرت دونوں کو حسب روایت برقرار رکھا ہوا ہے۔ اول سے صفحہ آخر تک ایک ایک صفحے کا ایک ایک کونہ نہ صرف دیدہ زیب ہے، بلکہ معلومات کا وہ خزینہ اور معیار بھی لئے ہوئے ہے، جس کے لئے یہ رسالہ ایک خاص شہرت کا حامل ہے۔ (جس ایشو کا مَیں نے اوپر ذکر کیا ہے اس کے 64 صفحات ہیں)

یادش بخیر، نیوزویک اور ٹائم دو ایسے امریکی میگزین ہیں جو تقریباً ایک صدی سے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی تربیت کر رہے ہیں۔ نیوزویک کی ابتداءآج سے 80 برس پہلے ہوئی تھی اور یکے بعد دیگرے اس کی انتظامیہ، مالکان اور ادارتی ٹیموں نے اس کے معیار کو آگے بڑھایا اور پھر برقرار بھی رکھا.... ان میگزینوں کے تین چار اوصاف ایسے ہیں، جن کا اعتراف نہ کرنا سخت ”ناقدری“ شمار ہوگا۔

سب سے پہلی صفت ان میں دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی وہ تجزیاتی رپورٹنگ تھی جو لاجواب ہوتی تھی۔ یہ میگزین چونکہ پورے گلوب کو کور (Cover) کرتے تھے، اس لئے ہمیں اکثر حیرت ہوتی تھی کہ اتنے سارے سٹاف رپورٹر اور نمائندے، دنیا بھر کے مختلف ممالک اور ان کے شہروں میں ایک دم کیسے پہنچ جاتے ہیں اور ان کا طرزِ تحریر اتنا خوبصورت اور ثقہ کیسے بن جاتا ہے۔ انٹرنیٹ تو ابھی حال ہی میں آیا ہے۔ مَیں انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے کی بات کر رہا ہوں۔ فضائی سروس کے توسط سے خبروں کی بروقت ترسیل، ان کو قابلِ اشاعت بنانا، ان کی نوک پلک سنوارنا، تصاویر کا انتخاب اور پھر دنیا کے کونے کونے میں ہر ہفتے نیوز سٹینڈوں پر اس کی موجودگی حیران کن تھی اور ہمارے لئے یہ بات بھی حیران کن تھی کہ یہ میگزین دور دراز علاقوں میں بھی وقت مقررہ پر کیسے پہنچ جاتے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج میں ان دونوں میگزینوں کو عالمی معلومات کے تناظر میں بہت وقیع گردانا جاتا تھا۔ مقابلے کا امتحان (CSS) ہو یا فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے لئے ابتدائی انٹرویو وغیرہ کا سوال ہو، نیوزویک اور ٹائم کا مطالعہ Must ہوتا تھا۔

فوج کے آفیسرز میسوں میں ، یونٹوں کے دفاتر میں، سکولز آف انسٹرکشنر میں اور فوج کے دوسرے تمام اداروں میں، حتیٰ کہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں کی انتظار گاہوں میں بھی اس کی کاپیاں بڑی باقاعدگی سے رکھی جاتی تھیں۔ فارمیشن ہیڈ کوارٹروں، ساکن فوجی تنصیبات اور ملٹری لائبریریوں میں اور کوئی پرچہ آئے نہ آئے، نیوز ویک اور ٹائم ضرور آیا کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ سکول آف آرمی ایجوکیشن اپر ٹوپہ مری میں کرنل سلیمی ہمارے کمانڈنٹ ہوتے تھے اور کرنل ستار چیف انسٹرکٹر.... فوج میں ٹی بریک بھی ایک پریڈ تصور ہوتی ہے۔ جب اس کا ٹائم آتا، تمام حاضر افسران پانچ منٹ پہلے ٹی روم کا رُخ کیا کرتے تھے.... سلیمی صاحب کو اپنی تازہ ترین عالمی معلومات پر نقد و نظر کرنے اور حالات حاضرہ پر اپنے علم و فضل کے جوہر بگھارنے کا بڑا شوق تھا۔ ابھی ویٹر چائے بنا رہے ہوتے تھے کہ کرنل صاحب دنیا بھر میں رونما ہونے والے اہم واقعات پر تبصرہ شروع کر دیتے تھے۔ مال روڈ مری کے نیوز سٹینڈوں پر یہ پرچے ایک دو روز دیر سے آتے تھے، جبکہ کرنل صاحب کا پرچہ بذریعہ ڈاک ایک روز پہلے ان کو مل جاتا تھا۔ ہم سٹاف ممبران، ان کے علمی ذوق و شوق سے بڑھ کر ان کے تجزیوں اور تبصروں کے گرویدہ تھے۔

ساری ٹی بریک کے دوران وہ دوسروں کو بولنے کا کم ہی موقع دیا کرتے تھے.... ایک دن میجر ممتاز نے کہا: ”یار جیلانی! جو خبریں گلوبل پرنٹ میڈیا پر دو چار روز بعد آتی ہیں، ان پر کرنل صاحب کا تبصرہ کتنا عالمانہ اور حکیمانہ ہوتا ہے اور پیش از وقت بھی ہوتا ہے.... اس کا پتہ لگایا جائے“.... یہ داستان دراز ہے کہ ہم نے کس طرح ڈاک خانے والوں سے مل کر ان کے پرچوں (نیوزویک اور ٹائم) کی ترسیل دو تین روز تک Delay کروائی اور ان ایام میں کرنل صاحب کی جگہ سٹاف کے باقی اراکین نے کس طرح سنبھالی اور ساتھ ساتھ کس طرح یہ بھی بتایا کہ فلاں خبر کا ماخذ نیوز ویک کی فلاں سٹوری ہے اور فلاں سٹوری کا راوی ٹائم کا فلاں گورا ہے۔ کچھ ساتھی بڑے تواتر سے بی بی سی بھی سنا کرتے تھے۔ وہ جب اپنی ”تقریر“ میں بی بی سی کے تبصروں کا اضافی ٹانکا بھی لگاتے تو سارا ماحول میجر صاحبان کی دانش و بینش کا ”منہ بولتا ثبوت“ بن جاتا.... کچھ دنوں بعد کرنل صاحب نے محسوس کیا کہ ہم کو ان کے ”علوم و معلومات“ کے اصل ماخذوں کا پتہ چل چکا ہے، چنانچہ وہ حالاتِ حاضرہ کی بجائے دوسرے پروفیشنل موضوعات اور جنگ وجدال کی کہانیوں پر اتر آئے، جن پر ہم کو ان سے زیادہ عبور حاصل تھا۔ مطلب یہ ہے کہ ان جرائد کے یہ گلوبل ایڈیشن پاک فوج کے افسروں کی چار پانچ نسلوں کی ذہنی پرورش اور تربیت کرتے رہے۔ اس زمانے میں بہت ہی کم آفیسرز ایسے تھے، جن کے کمروں میں نیوز ویک یا ٹائم کی کاپی نہیں ہوتی تھی۔ رات کو جب ہم میس سے واپس لوٹتے تھے تو یہ میگزین Sleeping Pill کا کام دیتے تھے۔

ان رسالوں کی دوسری خصوصیت ان کے حجم اور ان کے سائز کا ایجاز و اختصار بھی تھا، جو اتنا سبک اور اتنا Handy ہوتا تھا کہ کسی بھی جگہ لے جانے میں کوئی دشواری نہ ہوتی۔ ملٹری ایکسر سائزوں کے دوران بھی تمام سینئر اور جونیئر آفیسرز اپنے اپنے بریف کیسوں میں ان میگزینوں کی کاپی (یا کاپیاں) رکھنا نہیں بھولتے تھے۔

تیسری خوبی ان کی طباعت، طباعت کا فانٹ سائز اور کاغذ کا غیر چمکدار (Non- glazed) ہونا تھا....

فوج کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اساتذہ کے ہاتھوں میں یہ پرچے عام دیکھے جاتے تھے، بلکہ ان کا حامل ہونا ، ایک امتیازی علامت تصور ہوتا تھا۔ ہمارے والد مرحوم تاکیداً فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان ٹائمز، نیوز ویک اور ٹائم کا مطالعہ ایک ایسا غیر نصابی پودا ہے جو سکول اور کالج کے دور میں کاشت کیا جاتا ہے اور گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کے بعد پھل دیتا ہے!

نیوزویک کی ایڈیٹر انچیف ٹینا براو¿ن کا بیان ہے کہ اس کو پرنٹ میڈیا سے نکال کر الیکٹرانک میڈیا پر ڈالنے کا سبب اس کی مالی مشکلات ہیں جو ہر میگزین کا آج مقدر ہو چکی ہیں۔ اس کی طباعت اور تقسیم کے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ افورڈ نہیں کئے جاسکتے، جبکہ انٹر نیٹ یہ دونوں کام تقریباً ”مفت“ کر دیتا ہے۔ ”نیوز ویک پاکستان“ نے البتہ ہنوز اس کے مستقبل کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ پاکستانی ایڈیشن کے ایڈیٹر انچیف کا کہنا ہے کہ ”ہم فوری طور پر پرنٹ میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا پر نہیں جا رہے، بلکہ ہمارا ارادہ ہے کہ پرنٹ ایڈیشن کے علاوہ اس کو ایک نئی ویب سائٹ پر بھی لانچ کریں، جس کے لئے اضافی سٹاف کی ضرورت ہوگی“.... لیکن اضافی سٹاف کا مطلب ہے اضافی اخراجات.... اور سارا مسئلہ ہی اخراجات کا ہے جو قبل ازیں اشتہارات سے نکل آتے تھے، لیکن آج کل الیکٹرانک میڈیا نے اشتہاری مارکیٹ کا غالب کوٹہ اپنے نام کر لیا ہے، جس پر پرنٹ میڈیا والوں کا کوئی اختیار نہیں۔ یورپ اور امریکہ میں تو ”آل ڈیجیٹل“ کا آپشن چل جائے گا، لیکن پاکستان جیسے ملکوں اور معاشروں میں چلے گا یا نہیں، اس کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔   ٭

مزید :

کالم -