خادم پنجاب کی ذاتی توجہ کے لئے!

خادم پنجاب کی ذاتی توجہ کے لئے!
خادم پنجاب کی ذاتی توجہ کے لئے!

  

اس سے پہلے کہ کوئی دوست آج کے کالم پر بُرا منائے،یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف ایک متحرک شخصیت ہیں۔ان کے بارے میں ہم ایک سے زیادہ مرتبہ تعریفی کالم لکھ چکے اور آج بھی ان کی ذاتی کاوشوں کے معترف ہیں، اسی لئے ان کی توجہ دلانے کے لئے یہ سطور تحریر کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ایک لفظ گڈ گورننس ہے۔یہ انگریزی کا لفظ ہے،جس کا ترجمہ کئی انداز سے کیا جاتا ہے۔ہمیں تو اچھی حکمرانی زیادہ بہتر لگا کہ آج کل تو حکمرانی ہی کا دور دورہ ہے ، اگرچہ میاں شہباز شریف اس سے گریز کرتے ہوئے خود کوخادم اعلیٰ کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ہمیں ان کی ذات سے کوئی شکایت نہیں، بلکہ حال ہی میں ان کی طرف سے اپنے داماد کے خلاف کی جانے والی کارروائی نے متاثر کیا۔ اس سے زیادہ اس حوالے سے لکھنے والوں کے خیالات سے محظوظ ہوئے۔

ہمارا آج کا موضوع دراصل گڈ گورننس سے متعلق ہے اور جسے اب آپ اچھی خادمیت کہہ لیں۔سرکاری حلقوں میں مشہور ہے کہ وزیراعلیٰ نہ خود سوتے اور آرام کرتے ہیں اور نہ ہی ملازمین کوسونے اور آرام کرنے دیتے ہیں۔ہم ان کی شہرت سے واقف ہوتے ہوئے بھی یہ عرض کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ یہ جو سرکاری محکمے ہیں، ان کی کارکردگی نمبربازی میں تو بہت اچھی ہے، لیکن ازخود فرائض کی بجاآوری میں صفر ہے۔ایک محکمہ سفید ہاتھی بن جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی دوسرا اس کی پیروی میں اس سے بھی بڑا سفید ہاتھی بن کر دکھاتا ہے۔ لاہور میں ایل ڈی اے کو اس تشبیہ سے یاد کیا جاتا تھا ، اب ایک اور محکمے پی ایچ اے نے بھی مقابلہ جیتنے کی کوشش شروع کردی ہے، بلکہ کسی حد تک فتح یاب بھی ہے۔پی ایچ اے لاہور کی خوبصورتی اور بہتر آب و ہوا کا ذمہ دار ادارہ ہے، لیکن عملی طور پر یہ بھی نمبرٹانگ ادارہ بن گیا ہے۔

آج کل لاہور کو سرسبز بنانے کے بہت دعوے ہیں، اس مقصد کے لئے فنڈز بھی مختص کرالئے گئے ہیں۔کام بھی شروع ہے ، اگر قارئین کارکردگی ملاحظہ کرنا چاہیں تو کینال بنک کے انڈر پاسز اور چوراہوں کے قریب دیکھ لیں تو ان کو فٹ پاتھوں یا سڑکوں کے درمیان لوہے کے پائپ لگا کر گملے لگے نظر آئیں گے۔ایسے ہی شاہکار وحدت روڈ پر بھی ہیں اور بعض دوسری سڑکوں پر بھی نظر آتے ہیں۔ان گملوں میں گھاس اور ننھے پھولوں والے پودے لگائے گئے ہیں۔ یوں یہ شہر سرسبز کیا جارہا ہے،جبکہ کئی درخت کاٹ لئے گئے، ان کے متبادل نہیں لگائے گئے ۔ہم تو یہ بات خبروں کے ذریعے بتا چکے کہ مصطفےٰ ٹاﺅن وحدت روڈ میں گرین بیلٹ برباد ہوچکی۔یہ گدھوں اور بھینسوں کے علاوہ بکروں کی چراگاہ بنی ہوئی ہے۔اب تک پی ایچ اے کی طرف سے اس کا کوئی سدباب نہیں کیا گیا۔یہ تو ایک معمولی سی مثال ہے، اگر ایسی ہی معمولی بات مزید جاننا چاہیں تو پارکوں پر لگی لائٹوں کی حالت دیکھ لیں۔ایسا ہی معاملہ بلدیاتی کاموں سے متعلق تمام اداروں کا ہے۔

ہم جس طرف توجہ دلانا چاہ رہے ہیں۔اس طرف تو آئے ہی نہیں۔بات دوسری طرف نکل گئی ، اس حوالے سے تو ہماری گزارش یہی ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے تحرک کو نچلی سطح تک بھی لے جائیں،جس کے لئے ضروری ہے کہ شعبوں کے سربراہ ذمہ دار ہوں کہ ان کے نیچے کام کرنے والا عملہ ازخود اپنے کام کرتا رہے۔اب یہی دیکھئے کہ ڈی سی او نے فوری طور پر پیچ ورک شروع کرنے کا حکم دیا اور خود نگرانی کے لئے کہا ہے، لیکن ابھی تک یہ کام شروع نہیں ہوا،حالانکہ یہ معمول کا کام ہے۔شہر کے ہر حصے میں سب انجینئر ہیں، ان کو علاقے تفویض کئے گئے ہیں، اگر یہ خود سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا دھیان رکھیں تو ابتداءہی سے تھوڑی مرمت سے کام چل جاتا ہے، لیکن یہ حضرات معمولی ٹوٹ پھوٹ کے گڑھوں میں تبدیل ہونے تک انتظار کرتے ہیں اور جب لوگ پریشان ہو کر احتجاج کرتے ہیں تو یہ سڑک کی تعمیر نو کا تخمینہ بنا کر منظور کراتے اور کمیشن کماتے ہیں۔

نئی بات پولیس مقابلے ہیں۔یہ اپنی جگہ درست ہے کہ بعض جرائم پیشہ لوگ ایسے ہیں جو درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کے خلاف گواہی بھی نہیں آتی۔ایسے لوگوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کو کارثواب قرار دیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ مرحوم جنرل موسیٰ کی گورنری کے دور سے شروع ہوا،اب تک جاری ہے۔ہر دور میں اسے کارگر نسخہ مانا گیا ، لیکن تاحال جرائم میں کمی نہیں، اضافہ ہوا ہے۔ جب بھی یہ سلسلہ چلتا ہے تو یہ الزام سامنے آ جاتا ہے کہ پولیس ڈان قسم کے حضرات کو نظر انداز کرکے معمولی جرائم پیشہ لوگوں کو پار کرنا شروع کردیتی ہے اور اکثر کسی پارٹی کے ایماءپر اس کی مخالف پارٹی کا بندہ بھی پولیس مقابلے میں فارغ ہوجاتا ہے،حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جرائم کا سراغ لگا کر مجرموں کو عدالتوں سے سزا دلائی جائے۔ملزم جلد پکڑے جائیں اور سزا بھی جلد ہو۔ایسا گواہوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے ہی سے ممکن ہے ، اس کے لئے کام ہونا چاہیے۔

قارئین! بات پھر کہیں اور نکل گئی ،بلکہ پھسل گئی ۔ہم تو محترم وزیراعلیٰ کی توجہ ترقیاتی کاموں کے عوض تھوڑی دیر کی تکلیف اور پھر راحت والے مقولے کی طرف دلاتے اور اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں کا ذکر کرتے ہیں، خبروں کے مطابق لاہور میں گردوغبار کی وجہ سے گلے اور سانس کی بیماریاں بڑھ گئی ہیں، جبکہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے، اس کی درستی بھی نچلی سطح پر فرائض کی درست بجا آوری سے ہی ممکن ہے۔وزیراعلیٰ کو اس طرف توجہ مبذول کرنا ہوگی۔وہ شعبوں کے سربراہوں اور ملازمین کو ذمہ دار بنائیں۔      ٭

مزید :

کالم -