موسم مسرما سے پہلے ہی گیس بحران ،10گھنٹے کی لوڈشیڈنگ لوگ سلنڈر ،لکڑیاں استمعال کرنے پرمجبور :سروے پاکستان

موسم مسرما سے پہلے ہی گیس بحران ،10گھنٹے کی لوڈشیڈنگ لوگ سلنڈر ،لکڑیاں ...

  

لاہور( خبر نگار) بجلی کے بعد گیس کی شدید قلت باقاعدہ بحران میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور لاہور کے دو درجن سے زائد علاقوں میں گیس کی جاری 8 سے 10 گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شہری سراپا احتجاج بن کر رہ گئے ہیں جس میں شہری گیس نہ ملنے پر لکڑیوں ، مٹی کا تیل اور سلنڈر کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ”پاکستان“ کی ٹیم نے گیس کی شدید قلت کے حوالے سے لاہور کی مختلف آبادیوں کا سروے کیا جس میں سمن آباد ، ساندہ اور چونگی امر سدھو سمیت دو درجن سے زائد علاقوں میں گیس کی شدید قلت پر شہریوں نے شکایت کے انبار لگا دئیے۔ اس موقع پر شہریوں کا کہنا تھا کہ گیس کی جگہ پر گیس سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور اس میں بھی مہنگی ایل پی جی خریدنے کے لئے کئی کئی دور واقع دکانوں پر جانا پڑتا ہے اور گیس سلنڈر نہ ملنے پر لکڑیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نواز خان، اظہر خان، جنید احمد، محسن علی، عدیل احمد، اکرم، جمشید، انیس اور خواتین میں زبیدہ، شمسہ بی بی نے بتایا کہ ایک طرف حکومت گیس کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ کر رہی ہے ، ہر سال گیس کی قیمتوں میں 2 سے تین فیصد اضافہ کر دیا جاتا ہے اس کے باوجود سردیوں کے آنے پر گیس کا بحران پیدا کر دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر سمن آباد کے رہائشیوں احمد علی، شمشاد احمد، اصغر علی، ضغیر چودھری، ساجد حسین، ثمینہ بی بی، بشریٰ ، شمائلہ بیگم سمیت دیگر نے بتایا کہ گیس کی شدید قلت کے خلاف کئی دنوں سے احتجاج بھی کر رہے ہیں اور گیس کمپنی کے دفاتروں میں جا کر احتجاج ریکارڈ بھی کروا رہے ہیں اس کے باوجود گیس حکام ٹس سے مس نہیں ہوئے جبکہ ساندا کے مکینوں، گل خان، کریم خان، احسن اقبال، گلریز احمد، انور خاں، سلطان محمد، عباس ، کلثوم بی بی، سمیرا بی بی، کرن اختر و دیگر نے بتایا کہ گیس کی شدید قلت کے باعث بچے بھوکے رہتے ہیں اور سکول نہیں جا سکتے ۔ خواتین کا کہنا تھا کہ گیس نہ ملنے پر ناشتے بازار سے منگوانے اور کھانے پر مجبور ہیں جبکہ مرد حضرات کا کہنا تھا کہ گیس نہ ملنے کے باعث بھوکے محنت مزدور پر بھی نہیں جا سکتے، مجبوراً بازار کا کھانا استعمال کر رہے ہیں جس سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ”پاکستان“ کی ٹیم نے چونگی امر سدھو کی مختلف آبادیوں کا سروے کیا جس میں شہریوں کا کہنا تھا کہ گیس صبح ساڑھے 6 بجے غائب ہو جاتی ہے جبکہ رات 9بجے کے بعد گیس آتی ہے اس وقت بچے بھوکے سو چکے ہوئے ہیں۔ مکینوں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے گیس کی شدید قلت کا بحران دور نہ کیا اور اگر سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کی گئی تو گیس دفاتروں کا گھیراﺅ کریں گے اور اس میں گورنر ہاﺅس کے سامنے احتجاجی دھرنے دئیے جائیں گے۔

گیس بحران

مزید :

صفحہ آخر -