بورڈ آف ریونیو پنجاب ممبر چودیشل نے خلاف ضابطہ وقانون سرکاری نوکری کے ساتھ ذاتی کاروبار شروع کردیا

بورڈ آف ریونیو پنجاب ممبر چودیشل نے خلاف ضابطہ وقانون سرکاری نوکری کے ساتھ ...

  

لاہور (شہباز اکمل جندران) بورڈ آف ریونیو پنجاب کے ممبر جوڈیشل نے خلاف ضابطہ وقانون سرکاری نوکری کے ساتھ ذاتی کاروبار شروع کردیا ہے،1973ءکے سول سرونٹ ایکٹ اور رولز کے مطابق سرکاری افسر کاروبار نہیں کرسکتا، لیکن ہیلی کون فارماسیوٹک پاکستان لیمیٹیڈ کے مالک سید جاوید نثار70ادویات کی تیاری کا نہ صرف لائسنس رکھتے ہیں، بلکہ ایفی ڈرین کا کوٹہ بھی استعمال کرتے ہیں، ان کے خلاف ایک طرف سول عدالت نے ڈگری جاری کررکھی ہے تو دوسری طرف نیب نے بھی کارروائی شروع کردی ہے، معلوم ہوا ہے کہ1973ءکے سول سرونٹ ایکٹ اوررولز کے مطابق سرکاری افسر پرائیویٹ یا ذاتی کاروبار کرنے نہیں کرسکتا، لیکن مذکورہ قانون کے برعکس ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو پنجاب سید جاوید نثار ہیلی کون فارماسیوٹک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں اور 70ادویات تیار کرنے کا لائسنس رکھنے کے ساتھ ساتھ ایفی ڈرین کوٹہ بھی استعمال کرتے ہیں ، الزام ہے کہ ایفی ڈرین کا کوٹہ بھی وہ ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، اپنے کاروبار کی ترقی اور فارما کمپنی کے لائسنس کی تجدید کے لیے سرکاری حیثیت کا ناجائز استعمال کرتے ہیں،حالانکہ ان کی کمپنی کی تیار کردہ ادویات غیر معیاری ہوتی ہیں،سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو فراہم کیا جانے والے گوشوارے کے مطابق ہیلی کون فارماسیوٹک پاکستان لمیٹڈ کے مجموعی طورپر 5لاکھ شیئر ز ہیں جن میں سے 4لاکھ 68ہزار 9سو شیئرز جاوید نثار کی ملکیت ہیں، 29ہزار شیئرز ان کے صاحبزادے محمد دانش جاوید کی ملکیت اور 5سو شیئرز ان کے گھر میں زکریابانو نامی خاتو ن کی ملکیت ہیں، یوں مذکورہ کمپنی کے 99.68فیصد شیئرزکے مالک جاوید نثار اور ان کے اہل خانہ ہیں،جاوید نثار سرکاری رہائش گاہ 76جی او آر ٹو کے رہائشی ہیں،اور ان کے ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے معاملات میں بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ادویات کی سپلائی کے حوالے سے محمد مقصود گوندل نامی ایجنسی ہولڈر کی رقم واپس نہ کرنے پر سرگودھا کی عدالت جاوید نثار کے خلاف ڈگری بھی جاری کرچکی ہے ،اور نیب نے بھی ان کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے، البتہ ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو پنجاب سید جاوید نثار کا کہناہے کہ یہ بات درست ہے کہ وہ ہیلی کون فارماسیوٹک پاکستان لمیٹڈ نامی میڈیسن فیکٹری چلاتے ہیں،مذکوہ فیکٹری 1952ءمیں ان کے والد نے قائم کی ،جبکہ وہ 1956ئمیں پیدا ہوئے، اور کمپنی انہیں وراثت میں ملی ہے، ان کا کہناتھا کہ انہوں نے کمپنی چلانے کے حوالے سے حکومت سے اجازت حاصل کررکھی ہے،وہ ایفی ڈرین کے کوٹے کا غلط استعمال نہیں کررہے اور نہ ہی اپنی سرکاری حیثیت سے کاروبار پر اثر انداز ہوتے ہیںان کاکہناتھا کہ سول عدالت کے فیصلے اور نیب کی کاروائی کے حوالے سے وہ کچھ نہیں جانتے ۔

ذاتی کاروبار

مزید :

صفحہ آخر -