آئی جی پنجاب نے قتل کی ابتدائی رپورٹ رجسٹرارہائیکورٹ کو پیش کر دی

آئی جی پنجاب نے قتل کی ابتدائی رپورٹ رجسٹرارہائیکورٹ کو پیش کر دی

  

لاہور ( سٹاف رپورٹر ) پنجاب بار کونسل کی کال پر لاہور ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر قانون دان شاکر علی رضوی کے بہیمانہ قتل کے خلاف عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور سینئر وکیل کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر تین روز میں شاکر علی رضوی کے قاتل گرفتار نہ کئے گئے تو صوبائی دارالحکومت کے وکلاءسڑکوں پر سراپا احتجاج بن جائیں گے ۔ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے سینئر قانون دان شاکر علی رضوی کے قتل کے سوگ میں عدالتی بائیکاٹ کیااور تمام جوڈیشل افسروں کو اطلاع دی کہ زیر سماعت مقدمات کی آئندہ تک تاریخ دیدی جائے کیونکہ وکلاءاحتجاجا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ صاحبان اپنے چیمبرز میں چلے گئے ۔عدالتی بائیکاٹ کے باعث سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ کا قتل لاہور میں دوسرا ہائی پروفائل قتل اس سے قبل سینئر قانون دان نصراللہ وڑائچ کو گھر کی دہلیز پر قتل کر دیا گیا اور ابھی تک لاہور پولیس نصراللہ وڑائچ کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکی ۔ انہوں پنجاب حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر تین یوم میں شاکر علی رضوی کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو پھر وکلاءسڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوں گے ۔ سیکرٹری لاہور بار ایسوسی ایشن اسد علی زیدی نے کہا کہ حکومت عام آدمی کے بعد وکلاءکے تحفظ میں بھی ناکام ہو چکی ہے۔

وکلاءبائیکاٹ

مزید :

صفحہ آخر -