پونچھ روڈ مقابلہ جعلی نکلا ،پولیس عرفان کیخلاف ڈکیتی کاکوئی مقدمہ ٹریس نہ کرسکی

پونچھ روڈ مقابلہ جعلی نکلا ،پولیس عرفان کیخلاف ڈکیتی کاکوئی مقدمہ ٹریس نہ ...

  

لاہور (لیاقت کھرل) اسلامیہ پارک پونچھ روڈ پر پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے محمد عرفان کے پولیس مقابلہ 100 فیصد جعلی نکلا اور پولیس چار روز گزر جانے کے بعد بھی نوجوان عرفان کے خلاف ڈکیتی اور چوری کا ایک مقدمہ بھی ٹریس نہیں کر سکی ہے۔ نوجوان عرفان 6 سال قبل قتل کے مقدمہ میں ملوث ہونے پر پولیس مقابلہ سے تین روز قبل عدالت سے باعزت بری ہو کر آیا اور وقوعہ کے روز موٹر سائیکل کا چالان چھڑانے جا رہا تھا۔ نوجوان عرفان کی گھر والوں نے چند روز قبل منگنی طے کرنا تھی کہ پولیس نے جرم بے گناہی کی کی سزا دیتے ہوئے گھر والوں سے ساری خوشیاں چھین لیں۔ واقعہ پر پورے علاقے میں سوگ کا سماں، پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی اور نوجوان عرفان کے نماز جنازہ کے اٹھنے پر اہل علاقہ سراپا احتجاج، والدہ پر غشی کے دورے جبکہ اہل علاقہ نے نوجوان عرفان کا پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل قرار اور وزیراعلیٰ کو متاثرہ گھر آمد اور انصاف کا مطالبہ کر دیا۔ ”پاکستان“ نے سمن آباد پولیس کے محافظ اہلکاروں کے ہاتھوں مارے جانے والے نوجوان محمد عرفان کی ہلاکت کے اصل حالات جاننے کے لئے اکبر شہید روڈ کوٹ لکھپت کا دورہ کیا تو نوجوان عرفان پولیس مقابلہ 100 فیصد جعلی نکلا اور پولیس نوجوان عرفان کے خلاف 4 روز گزر جانے کے بعد ایک مقدمہ بھی ٹریس نہیں کر سکی اور اہل علاقہ کے درجنوں مکینوں حاجی عبدالمجید اور ڈاکٹر گلزار احمد، رانا مختار احمد سمیت درجنوں محلے داروں نے ”پاکستان“ کی ٹیم کو بتایا کہ نوجوان عرفان انتہائی شریف النفس اور خراد کا کام اور محلے میں کبھی لڑائی جھگڑا تک کہیں بھی ملوث نہیں رہا اور ڈکیتی، چوری تو الگ نوجوان گھر سے اپنے والد کے پاس سیدھا دکان پر جاتا اور دن بھر والد کے ساتھ خراد کی دکان پر کام کرتا تھا اور سال 2005ءمیں ایک جھگڑے میں اس کے بڑے بھائی سے ایک محلے دار کو فائر لگنے پر قتل کے کیس میں اسے بھی پولیس نے ملوث اور پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے تین روز قبل عدالت سے باعزت بری ہونے پر گھر آ رہا تھا کہ ٹریفک پولیس نے اس کی موٹر سائیکل کا چالان کر دیا۔ وقوعہ کے روز موٹر سائیکل کا چالان چھڑانے اور گاڑی کے کاغذات لینے تھانے جا رہا تھا کہ اسلامیہ پارک پونچھ روڈ پر ناکہ لگائے محافظ پولیس کے اہلکاروں کے ہتھے چڑھ گیا اور پولیس نے ڈاکوﺅں کا ساتھی بناتے ہوئے نوجوان عرفان کو سامنے کھڑا کرکے اس کے جسم پر 10 فائر مارے اور نوجوان عرفان کو ڈاکو ظاہر کرتے ہوئے ”پولیس مقابلہ“ بنا دیا۔ پولیس کے اس واقعہ میں بے گناہ نوجوان کو جعلی مقابلہ میں ہلاک کرنے کے بارے حساس ادارے کے ایک سیل نے بھی نوجوان عرفان کے پولیس مقابلہ کو جعلی قرار دیا ہے جس پر سمن آباد پولیس کی جانب سے نوجوان عرفان کو مقابلہ میں ہلاک کرنے واقعہ 100 فیصد جعلی نکلا ہے اور پولیس نے نوجوان عرفان کے ورثاءاور اہل محلہ سے ”اندر کھاتے“ اپنے جرم کو قبول کرتے ہوئے معافی کی بھی درخواست کر دی ہے۔ ”پاکستان“ کی تحقیقات کے مطابق پولیس کے محافظ اہلکاروں نے اپنے ساتھی اہلکار لطیف کے ہاتھوں گولی چل جانے اور زخمی ہونے کے واقعہ پر موقع پر آتے ہی نوجوان عرفان پر گولیاں چلا دیں اور ایک اہلکار نے منع بھی کیا لیکن ”اتھرے“ اہلکاروں نے ایک نہ سنی اور نوجوان عرفان کو ”ڈھیر“ کر دیا۔ نوجوان عرفان کی ہلاکت پر پورے علاقے میں سوگ کا سماں اور گزشتہ روز نوجوان عرفان کے نماز جنازہ پر اہل علاقہ سراپا احتجاج اور مکینوں نے زبردست احتجاج کیا جبکہ نوجوان عرفان کی والدہ رسول بی بی اور والد محمد صدیق نے ”پاکستان“ کی ٹیم کے سامنے زار و قطار روتے ہوئے کہا کہ پولیس پنجاب بھر کے تھانوں میں اس کے بیٹے کے خلاف ڈکیتی یا چوری کا ایک مقدمہ بھی سامنے لے آئے۔ پولیس کے خلاف ایک لفظ بھی استعمال نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے جب تک گھر میں آ کر انصاف کی یقین دہانی نہ کروائی اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ نوجوان عرفان کی والدہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس کے بیٹے کی ہلاکت کے از خود نوٹس لے کر اسے انصاف دلائیں اور اس کے لاڈلے عرفان کو قتل کرنے والوں کو اسی طرح سزا دی جائے۔

جعلی مقابلہ

مزید :

صفحہ آخر -