عید الاضحی کی آمدآمد،فیملی کورٹس میں روٹھے والدین کی بچوں کے ساتھ ملاقاتیں ماحول سوگوار

عید الاضحی کی آمدآمد،فیملی کورٹس میں روٹھے والدین کی بچوں کے ساتھ ملاقاتیں ...

  

 لاہور (لیڈی رپورٹر) خاندانی تنازعات کے باعث بچوں کی تحویلگی کا معاملہ عید کے نزدیک عدالتوں میں زیادہ شد و مد کے ساتھ سر اٹھاتا ہے۔ گارڈین عدالتوں اور فیملی کورٹس میں علیحدگی کے مقدمات کا سامنا کرنے والے میاں بیوی کی بچوں سے ملاقاتوں کا تا نتا بند ھا رہا دلدوز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ عدالت کی طرف سے معصوم و شیر خوار بچے والدہ کی تحویل میں دئیے جانے اور والد سے ملاقات کی تاریخ دونوں خاندانوں کے لئے ایک عجیب کیفیت پیدا کرتی ہے۔بے شمار خواتین و مرد بچوں کو لے کر گارڈین کورٹس کے احاطہ میں بیٹھے اپنے پیاروں  کے منتظر نظر آتے ہیں۔ روزنامہ ”پاکستان“ نے اس حوالے سے صوبائی دارالحکومت میں قائم واقع فیملی کورٹس کا سروے کیا۔ گارڈین کورٹس میں ملاقات کے لئے آئی ہوئی فیملی اختر رسول نے ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال میں یہاں پر ان دنوں میں رش ہوتا ہے۔ مجھے تو کئی سال ہوگئے ہیں یہاں پر آئے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ میری شادی کو 5 سال ہی گزرے تھے کہ میری بیوی نے مجھ سے طلاق لے لی۔ میرے دو بچے بھی ہیں۔ عید کی وجہ سے ان کو ملوانے کے لئے لایا ہوں۔ ملاقات کے لئے آئے ہوئے بچوں حنا، رباب نے بتایا کہ انہیں اپنے ماں، باپ دونوں سے پیار ہے۔ وہ دونوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن پاپاہمیں ماما کے ساتھ نہیں رکھتے ۔ عید کے منانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عید کا مزہ تو آتا ہے اور پاپا نے ہمیں خوب شاپنگ بھی کروائی ہے، لیکن ہم ماما کو بھی ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ خواتین ایڈووکیٹ فوزیہ بتول، سبحانہ شفق نے بچوں کی حوالگی اور والدین میں علیحدگی کے کیسز کے حوالے سے با ت کر تے ہوئے بتا یا کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال کئی گناہ اضافہ ہوا ہے۔ معاشی بدحالی اور گھریلو ناچاقی کی وجہ سے والدین میں طلاق ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کے باعث بچوں کو کسی ایک سے دور کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تو کوئی بھی جوڑا صلح صفائی کی کوشش نہیں کرتا ۔ طلاق کا رجحان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور بچوں کی کافی بڑی تعداد ایسی ہے جو کہ ماں باپ کے پیار سے محروم زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طر ح کے واقعات میں اضا فہ کی ایک بڑی وجہ اسلام سے بھی دوری ہے ا نہوں نے کہا کہ عید الفطر ہمیں ویسے بھی قر با نی کا درس دیتی ہے اس لئے ہمیں اس موقع پر اختلا فات بھلا کر صلح کی کو شش کر نی چا ہیے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -