کپاس کی چنائی کا کام جدید سائنسی طریقوں کے مطابق کریں: زرعی ماہرین

کپاس کی چنائی کا کام جدید سائنسی طریقوں کے مطابق کریں: زرعی ماہرین

  

لاہور(اے پی پی) زرعی ماہرین نے کہاہے کہ پاکستان کپاس کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے لیکن کپاس کی فی ایکٹر پیداوار دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجوہ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ کپاس کی ناموزوں اور غلط طریقے سے چنائی ہے جس سے اس کی پیداوار کم ا ور معیار متاثر ہوتا ہے۔ زرعی ماہرین نے کپاس کے کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کپاس کی بہتر اور اچھی پیداوار کیلئے اس کی چنائی کا کام جدید سائینسی طریقوں اور محکمہ زراعت کے عملہ کی ہدایات کے مطابق کریں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین نے کہا کہ کاشتکار مطلع کے ابر آلود ہونے یا بارش کے امکان پر کپاس کی چنائی ہرگز نہ کریں۔ علاوہ ازیں کھیت میں کپاس کے ٹینڈے 50 فیصد کھل جائیں تو اس کی چنائی کا عمل شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چنائی ہمیشہ سوتی کپڑوں کے تھیلوں میں کی جائے۔ کھیت میں دوران چنائی گر جانے والی کپاس ، گھاس، پتوں اور مٹی سے آلودہ ہو جاتی ہے اس لئے کھیت میں گری ہوئی کپاس کو الگ رکھیں نیز اس سلسلے میں محکمہ زراعت کے عمل کی ہدایات اور مشورہ جات پر مکمل طور پر عمل کریں۔

مزید :

کامرس -