تاریخی فیصلے سے ایک مرتبہ پھر حکومت کا امتحان شروع ہو گیا، مسلم لیگ ن

تاریخی فیصلے سے ایک مرتبہ پھر حکومت کا امتحان شروع ہو گیا، مسلم لیگ ن

  

لاہور(رپورٹنگ ٹیم)مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماﺅں سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے ایک مرتبہ پھر حکومت کا امتحان شروع ہو گیا ہے، حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرا لے تو آئندہ کے لئے سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتا ہے، حکومت کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو اس سے اچھے کی امید نہیں ہے، وہ پاکستان کے سلسلے ایشو آف ڈے میں اظہار خیال کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن پہلے بھی تردید کر چکی ہے، اب بھی کرتے ہیں ، مسلم لیگ ن کے کسی رہنما نے پیسے لیے نہ سوچ سکتا ہے، حکومت نے اسی فیصلے کو ؟؟؟ کر مسلم لیگ ن کے خلاف انتقامی کارروائی کی تو اپنا دفاع کریں گے، انہوں نے کہا کہ کیا یہیا چھا ہو گا، اگر وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ سے پیسے لینے والوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کرتے کے رینٹل پاور میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں سے بھی پائی پائی وصول کی جائے گی، قوم کے کھربوں روپے لوٹ کر سوئس بینکوں میں جمع کروانے والوں سے بھی وصولیاں کی جائیں گی جب وزیر اعظم نے یہ اعلانات نہیں کئے تو ان کی نیت میں فتور ہے، اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمل نہ ہوا تو یہ بد قسمتی ہو گی، اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنماﺅں مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ناصر محمود گل نے کہا کہ حیرانی ہے چودھری نثار نے سپریم کورٹ میں اصغر خاں کیس کے تاریخی فیصلہ پر عمل نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کی دھمکی کیوں نہیں دی؟ انہوں نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین کے90 کی دہائی میں کیے گئے، انکار نے آج مسلم لیگ کے کارکنوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے اور ثابت ہو گیا چودھری خاندان نے ہمیشہ اصولوں اور اقدار کی سیاست کی، انہوں نے کہا کہ یصلہ سے کھرے کھوٹے کی شناخت ہو گئی، قوم نے دیکھ لیا کون سے لیڈروں نے عوام کی بے لوث خدمت کی اور کن لیڈروں نے ایجنسیوں کے انکیوبیٹرز میں سیاسی روش پائی اور مال بنایا، انہوں نے کہا کہ قومی دولت سود سمیت واپس خزانے میں جمع ہونی چاہیے، یہی فیصلہ عوام کا بھی ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت کو بلاتاخیر اقدامات اٹھائے جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -