پاک بھارت بنیادی تنازعات حل کئے جائیں تو فوج رکھنے کی ضرروت نہیں:یاسین آزاد‘ دونوں ممالک کے عوام جنگ نہیں چاہتے‘ پی ایچ پاریکھ

پاک بھارت بنیادی تنازعات حل کئے جائیں تو فوج رکھنے کی ضرروت نہیں:یاسین آزاد‘ ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات درست کرنے کیلئے بھارتی وکلاءاور وہاں کی بار ایسوسی ایشنز اپنا کردار ادا کریں۔ وہ گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام امن بذریعہ قانون کے موضوع پر ہونیوالی بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کانفرنس میں موجود بھارتی وکلاءنمائندوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ بلوچستان میں خراب حالات کے حوالے سے اس کانفرنس میں آواز بلند کی گئی ہے۔ میں اس سے زیادہ کچھ انہیں کہہ سکتا کہ بلوچستان کے عوام کی مشکلات کے حل کیلئے بھارتی وکلاءبھی کرد ار ادا کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے سب کی ذمہ داری ہے آئین کی حکمرانی کیلئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ ہمیں منظم طریقے سے یہ کردار نبھانا ہوگا۔ عدلیہ ‘ بار اور میڈیا معاشرہ کے طاقتور ستون ہیں۔ یہ ادارے صحیح کردار ادا کرکے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرسکتے ہیں۔ اس سے قبل احمر بلال صوفی نے کانفرنس کی سفارشات پڑھ کر سنائیں جن میں کہا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کیلئے عدالتی مفاہمت میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ خطہ میں امن کے قیام کے لئے دونوں اطراف بھارت اور پاکستان کے وکلاءکو موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ کانفرنس میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ قانون کی حکمرانی اور امن کیلئے تمام لوگوں کو انفرادی سطح پر بھی کردار ادا کرنا ہوگا اور یہ کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہم سب کو مل کر لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ سائبر کرائمز کے حوالے سے کانفرنس کے اختتام پر سفارش کی گئی کہ اس کیلئے مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جب تک موثر قانونی سازی نہیں ہوتی تب تک اعلیٰ عدالتوں کو اس حوالے سے جوڈیشل ایکٹوازم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بھارت کی پنجاب ہریانہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سردار شمس روشن سنگھ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کےلئے پاکستانی وکلاءکی تحریک کی مثال نہیں ملتی۔ اس تحریک نے دنیا بھر کے وکلاءکو ایک نیا ولولہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کےلئے قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بنیادی تنازعات ہیں انہیں حل کر لیا جائے تو پھر فوج رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور فوج پر اٹھنے والے اخراجات عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کئے جاسکتے ہیں۔ امن کے قیام کےلئے آئینی وقانون کو بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے عوام جنگ نہیں چاہتے۔ عوامی رابطوں میں اضافے خطہ میں امن میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی کے زیراہتمام ”امن بذریعہ قانون“کے موضوع پر ہونیوالی بین الاقوامی کانفرنس کے مختلف سیشنز میں سپریم کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار‘ جسٹس ناصر الملک‘ جسٹس شیخ عظمت سعید‘ سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے چیف جسٹس محمد اعظم خان‘ سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس‘ قاضی فائز عیسیٰ ‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیر عالم خان نے بھی مہمانان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا۔ فاضل جسٹس صاحبان نے قانون کی حکمرانی کو امن کا بنیادی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری قیادت بھی اس وقت میسر آسکتی ہے جب آئین کی بالادستی قائم ہو۔ تاریخی کو گواہی کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کی تابع قوموں نے عروج حاصل کیا جبکہ لاقانونیت معاشروں میں افراتفری کا باعث بنی اور وہاں حکومت کی عملداری ختم ہوگئی۔دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی طرف سے کانفرنس کے شرکاءکے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -