ملالہ کومکمل بحالی کے آپریشن سے پہلے طویل آرام کی ضرورت ہے:ڈاکٹر

ملالہ کومکمل بحالی کے آپریشن سے پہلے طویل آرام کی ضرورت ہے:ڈاکٹر

  

لندن(اے پی اے )برطانیہ کے شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے ڈاکٹر ڈیو راسر کا کہنا ہے طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسفزئی کو مکمل بحالی کے آپریشن سے پہلے طویل آرام کی ضرورت ہے۔ سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ہسپتال نے کہا ہے کہ ملالہ کی حالت جمعہ جیسی ہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ملالہ کی طبیعت مستحکم اور سنبھلی ہوئی ہے۔برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے مطابق ملالہ نو اکتوبر کو سر میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھیں اور اب وہ علاج کے بعد پہلی مرتبہ لکھ کر بات کرنے اور سہارے سے کھڑے ہونے کے قابل ہو گئی ہیں۔ابتدائی بیانات کی بہ نسبت جمعہ کو ڈاکٹر راسر نے ملالہ کی طبیعت اور زخم کے بارے میں زیادہ تفصیلی بات کی تھی۔ شروع میں وہ کہتے رہے کہ وہ ملالہ یوسفزئی کی اجازت کے بغیر یہ معلومات جاری نہیں کر سکتے۔تاہم جمعہ کو ڈاکٹر روسر نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں آپ کو پہلے کی بہ نسبت بہت کچھ بتانے کے قابل ہوں، اب ملالہ پہلے سے بہتر ہیں اور اس بات سے متفق ہیں کہ آپ کو ان کی صحت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے انہیں نہ صرف اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ ان کی شدید خواہش ہے کہ ایسا کیا جائے۔‘ڈاکٹر روسر کے مطابق’میرے خیال میں گزشتہ پریس کانفرنسوں کے مقابلے میں آپ کے لیے زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہوں۔میں آپ کو یہ بتاسکتا ہوں کہ گولی جہاں جہاں سے گزری ہے ان زخموں میں انفیکشن کی علامتیں ابھی برقرار ہیں اور یہ ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے اور میں اب بھی وہی الفاظ کہوں گا جو میں نے منگل کو کہے تھے کہ وہ ابھی خطرے سے پوری طرح باہر نہیں ہیں۔ڈاکٹر روسر نے مزید بتایا کہ ’وہ اب بھی مصنوعی تنفس پر ہیں کیوں کہ ان کی سانس کی نالی میں گولی کے زخم کی وجہ سے سوزش ہے۔ ان کی سانس کی نالی کو محفوظ رکھنے کے لیے گلے کے ذریعے ٹیوب لگائی گئی ہے۔ اس ٹیوب کی وجہ سے وہ بات نہیں کر پا رہیں اور ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب یہ ٹیوب ہٹائی جائے گی تو بات نہیں کر پائیں گی۔ اگلے چند دنوں میں ان کی یہ ٹیوب ہٹالی جائے گی۔دریں اثناءالقاعدہ سے منسلک ویب سائٹ نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کو محض ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلمانوں کیخلاف عالمی صلیبی سازش کا حصہ ہے ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق انصار اللہ نامی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ القاعدہ لڑکیوں کی تعلیم کیخلاف نہیں بلکہ سیکولر نظام تعلیم کیخلاف ہے ۔ ویب سائٹ پر جاری بیان میں پاکستانی اور عالمی میڈیاکو بھی ملالہ کی بھرپور کوریج پر تنقید کا نشانہ بنایا گیاہے ویب سائٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے کسی مجاز شخص کی جانب سے تصدیق بیان کی عدم موجودگی میں سارا معاملہ مشکوک ہوجاتا ہے ۔احسان اللہ ا حسان کو تحریک طالبان کا ترجمان تسلیم کرکے ملالہ پر حملہ کی ذمہ داری سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ۔ ویب سائٹ کے مطابق سوات آپریشن کے دوران ایک یہودی فلمساز ایڈم بی ایلک ملالہ کے گھر قیام پذیر رہا ۔ ویب سائٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ ملالہ اور اس کا باپ امریکی سفارتکار اور امریکی وزیر خارجہ اور فوجی افسروں سے بھی ملے اور انہیں علاقہ کو طالبان سے پاک کرنے کی ترغیب دی بیان کے مطابق ملالہ پر حملے کے خلاف ردعمل فطری ہے تاہم حملے کے پیچھے خفیہ ہاتھ کارفرما ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -