اصغر خان کیس، 16سال بعد فیصلے کا کریڈٹ موجودہ عدلیہ کو حاصل ہوا

اصغر خان کیس، 16سال بعد فیصلے کا کریڈٹ موجودہ عدلیہ کو حاصل ہوا
اصغر خان کیس، 16سال بعد فیصلے کا کریڈٹ موجودہ عدلیہ کو حاصل ہوا

  

عدالت عظمیٰ کی تین رکنی فل بینچ نے ایئر مارشل (ر) اصغر خان کی رٹ درخواست کا فیصلہ سنا دیا،سولہ سال پہلے دائر کی گئی درخواست کا فیصلہ موجودہ عدلیہ کے حصے میں آیا، اس کے لئے کئی درخواستیں دائر ہوئیںاور متعدد خطوط لکھے گئے جبکہ بیان بازی بھی ہوئی۔ فاضل عدالت نے ابھی مختصر حکم سنایا ہے جسے خبروں کی حد تک پڑھنے سے ہمیں بعض باتوں کی سمجھ نہیں آئی۔ جو حضرات کسی نہ کسی حوالے سے متعلق ہیں وہ اس حکم کی تشریح اپنے اپنے طور پر کررہے ہیں اور ان سب تبصروں، تجزیوں اور بیانات کے پڑھنے سے بھی معاملہ صاف نہیں ہوا۔ اس کے لئے تو تفصیلی فیصلے کا انتظار ہی ضروری ہے،تاہم اب تک حکومت اور پیپلزپارٹی کی طرف سے یہی کہا گیا کہ ان کی شہید چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کا کہنا سچ ثابت ہوا۔

فاضل عدلیہ کے حکم میں دو باتیں عام ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن سیاسی رہنماﺅں کو رقوم دی گئیں ان سے معہ سود وصول کی جائیں،اس کے لئے یہ کہا گیا کہ جنرل اسد درانی کے بیان کی روشنی میں تحفظات کے بعد کارروائی کی جائے۔ حکومت نے فوری کارروائی کا اعلان کردیا ہے جبکہ جوابی طور پر فیصلے کا یہ حصہ شدت سے دُہرایا جا رہا ہے کہ فیصلے میں صدر کے غیر جانبدار ہونے پر زور دیا گیا ہے تو اب صدر زرداری کو دو میں سے ایک عہدہ چھوڑنا ہو گا۔

ہم کسی بھی رائے کی تردید یا تائید کے اہل نہیں ہیں کہ معاملہ تفصیلی فیصلے ہی سے صاف ہو گا، تاہم جو بات ہمیں حیران کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ عدلیہ نے جب ایئر مارشل (ر) اصغر خان کے موقف کو درست قرار دیا ، آئی۔ جے۔ آئی کے قیام کو غیر قانونی اور انتخابات میں دھاندلی کو مان لیا، مزید یہ کہ جس شخصیت نے برملا آئی جے آئی بنانے کا اعتراف ہی نہیں اعلان بھی کیا اور یہ انہوں نے سرکاری حیثیت ہی میں کیاتو یہ بات مختصر حکم میں کیوں نہیں آئی۔ اگر مختصر حکم کے مطابق 1990ءوالا معاملہ غلط ،غیر قانونی اور دھاندلی تھا تو پھر جس شخصیت نے اعتراف کیا ،اس کا ذکر خیر کیوں نہیں؟ اسلم بیگ اور اسد درانی رقوم تقسیم کرنے کے ذمہ دار ہیں تو جنرل (ر) حمید گل نے آئی جے آئی بنانے کا اعتراف اور اعلان ایک سے زیادہ مرتبہ کیا۔بہرحال تفصیلی فیصلہ آ جانے اور غور سے پڑھ لینے کے بعد ہی سارے معاملات واضح ہو سکیں گے۔

مزید :

تجزیہ -