” ہم چھوئیں گے آسمان “

” ہم چھوئیں گے آسمان “
” ہم چھوئیں گے آسمان “

  

میں پنجاب ہاکی سٹیڈیم میں کھڑا پاکستان کے مستقبل کو دیکھ رہا تھا، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور پنجاب یوتھ فیسٹیول کے چیف آرگنائزر رانا مشہود احمد خان اور پنجاب سپورٹس بورڈ کے نوجوان ڈائریکٹر جنرل عثمان انور کے الفاظ میری سماعتوں میں رس گھول رہے تھے کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے سپورٹس فیسٹیول کے انعقاد کا ریکارڈ توڑ چکے ہیں، اب ہم انسانوں کے ذریعے دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم بنائیں گے، عثمان انور کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں کے اکیس ہزار طالب علموں کی مدد سے یہ پرچم بنانے کا ریکارڈ فل ڈریس ریہرسل میں ہی ٹو ٹ چکا ہے مگر گینیز بک کی ٹیم کی آمد کے بعد یہی پرچم کل بائیس اکتوبر کو پچیس ہزار کے قریب طالب علم بنائیں گے، یہاںدنیا کا سب سے بڑا موزیک بنانے کا ریکارڈ بھی بنے گا اور اسی طرح ستر ہزار لوگ جب اپنے ملک کا قومی ترانہ مل کرگائیں گے تویہ ایک او رورلڈ ریکارڈ بن جائے گا، اس طرح یوتھ فیسٹیول میں ہم دنیا کے مختلف چالیس ریکارڈ توڑتے ہوئے گینیز بک میں پاکستان اور پاکستانیوں کا نام درج کروا لیں گے،پھر دنیا پاکستان کو صرف دہشت گردی اور دہشت گردوں کے حوالے سے نہیں بلکہ ان ورلڈ ریکارڈز کے ذریعے بھی جانے گی، وہ جان لے گی کہ ہم پاکستان والے ہمت کریں تو آسمان بھی چھو سکتے ہیں، ہمارے پاس ولولہ انگیز اور کرپشن سے پاک قیادت ہو تو ہم پوری دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

میں نے گراو¿نڈ میں کھڑے ہوئے بچوں کا جوش و خروش دیکھا، میرے دل میں خیال آیا کہ کیا ان بچوں کو قومی ترانہ آتا ہے، میں نے ایک پویلین میں موجود سینکڑوں بچوں سے ا چانک کہا کہ کیا وہ میرے ساتھ مل کے قومی ترانہ پڑھیں گے، ان بچوں کے چہرے اچانک سرخ ہو گئے جیسے سارے جسم کا خون ان کے چہروں پر سمٹ آیا ہو، آنکھیں چمکنے لگیں اور یہ چمک اس محبت کی تھی جسے اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنے کرم سے اس مملکت خداداد کے لئے ڈال رکھا ہے اور بغیر کسی تاخیر کے ہم سب نے پرجوش انداز میں قومی ترانہ پڑھنا شروع کر دیا، پاک سرزمین شاد باد،کشور حسین شاد باد، تو نشان عزم عالی شان، ارض پاکستان، مرکز یقین شاد باد۔ جب ہم دوسرے بند پر پہنچے، ہم سب سے پرزور آواز میں کہا پاک سرزمین کانظام، قوت اخوت عوام، تو مجھے اپنے آپس کے سارے اختلافات ہیچ لگنے لگے، مجھے لگا کہ ہم سب واقعی عوام کی اخوت کی قوت سے پاک سرزمین کا نظام بہت بہتر طور پر چلا سکتے ہیں، قوم ، ملک سلطنت کو پائندہ تابندہ باد کر سکتے ہیں اور اپنی منزل مراد پر شاد باد پہنچ سکتے ہیں۔ میں نے ہاکی سٹیڈیم میں نظر دوڑائی تو ابھی وہاں ہزاروں بچے سبز اور سفید کارڈز ہاتھوں میں لئے موجود تھے، مجھے چاند ، ستارے کے ساتھ یہ پرچم واقعی ترقی اور کمال کا رہبر لگا، جو ہمارے شاندار ماضی کا ترجمان تھا اور مجھے ان بچوں میں اپنا حال بھی اتنا برا نہیں لگا جیسا ہمیں اکثر بہت قنوطی ہو کے نظر آتا ہے۔ میں نے پاکستان کو اپنے بچوں کی نظر سے دیکھا توخدائے ذوالجلال کے سائے میں اپنا مستقبل بہت بہتر لگا۔مجھے ایک دوست نے کہا کہ اگر بچوں کو فارسی زبان کا یہ قومی ترانہ نہ آتا ہوتا تو تمہاری طرف سے اچانک فرمائش ہونے پر تمہیں شرمندگی بھی ہو سکتی تھی، میں ہزاروں بچوں کے ساتھ قومی ترانہ پڑھ کے بہت خوش تھا، میں ہنس پڑا اور کہا کہ یہی تو ہمارا مسئلہ ہے، ہم اپنے اندر ان خامیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں جو حقیقت میں ہمارے اندر موجود نہیں ہوتیں اور اسی وجہ سے ہم ان خوبیوں کا ادراک بھی نہیں کرپاتے جو حقیقت میں ہمارے اندر موجود ہوتی ہیں۔ میرے دیس کے بچوں کو قومی ترانہ آتا ہے اور جس دیس کے بچوں کو قومی ترانہ آتا ہو،وہاں کے بچے اپنے دیس سے اور وہ دیس اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے اور یہی محبت ہمارے حوصلوں کو مہمیز کرتی ہے، نئی نئی منزلیں سر کرنے کی خواہشیں ابھارتی ہے۔ مجھے اندر کہیں ایک بات چٹکیاں لے رہی تھی کہ یہی نوجوان جب تعلیم حاصل کر کے باہر نکلتے ہیں تو ان کوروزگار نہیں ملتا، روزگار نہیں ملتا تو عزت نہیں ملتی، روٹی اور عزت کا بحران انہیں دوسرے ملکوں کی طرف جانے کا راستہ دکھانے لگتا ہے لیکن اگر ہماری قیادت یہ سوچ لے کہ اس نے ان کی سب سے پہلی ترجیح ہر نوجوان کے لئے باعزت روزگار کی فراہمی ہے تو پھر پاکستان سے محبت کرنے والے ہر ٹیلنٹڈ نوجوان اپنے وطن میں ہی ، اپنے پیاروں کے ساتھ ہی رہے گا، وطن اس کو مضبوط اور توانا کرے گا اور وہ اپنے وطن کو مضبوط اور تواناکریں گے۔ مل جل کے ہم سب بہت اوپر، بہت آگے پہنچ جائیں گے۔

میںنے ڈی جی سپورٹس بورڈعثمان انور سے پوچھا کہ ہم جو ورلڈ ریکارڈ بنانے جا رہے ہیں تو انڈیا کی آبادی تو ہم سے کئی گنا زیادہ ہے، وہ بھی تو اس کی کوشش کر سکتا ہے تو عثمان انور کا جواب سن کر حیران رہ گیا کہ سپورٹس بورڈ او ر یوتھ فیسٹیول کے ویب پورٹل پر بہت زیادہ ٹریفکنگ بیرون ملک سے ہی ہے اور بھارت نے تواسے کاپی کرتے ہوئے جنوری میں اس کے مقابلے میں اپنا ایونٹ اناو¿نس بھی کر دیا ہے۔میں نے کہا کوئی بات نہیں، اگر ہم ابھی صرف پچیس ہزار کے ساتھ قومی پرچم بنا رہے ہیں اور یہاں صرف سرکاری سکولوں کے طالب علم ہیں تو ہم بھارت کے مقابلے میں اڑھائی لاکھ پاکستانیوں کے ساتھ بھی پرچم بنا سکتے ہیں، ستر ہزار اگر قومی ترانہ اکٹھے پڑھ رہے ہیں تو یہ تعداد دس گنا بڑھ بھی سکتی ہے۔اصل شکست تو تب ہوگی جب ہم ہار تسلیم کر لیں گے اور کوشش چھوڑ دیں گے، ہم انشاءاللہ اس منزل تک پہنچیں گے جہاں پوری قوم ہر میدان میں کھڑی قومی ترانہ گائے گی۔ میں بھارت سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہوں مگر جب بات قومی عزت اورمقابلے کی آجائے تو وہاں کوئی دوستی ووستی نہیں چلتی، مجھے یاد آگیا کہ بھارت کے سابق وزیراعظم اندر کمار گجرال لاہور تشریف لائے، لاہور پریس کلب میں ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو پاکستان میں کیا کیا اچھا لگا تو انہوں نے فورا موٹر وے کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں موٹر وے دیکھنے اور اس پر سفر کرنے کا بہت شوق تھا کہ ایسی موٹر وے تو انڈیا میں بھی نہیں ہے۔ ہم نے سوچا ، ہم نے کوشش کی تو ہم نے موٹر وے بنا لی، ہم نے پھر سوچا ، ہم نے پھر کوشش کی اور اب ہم اس گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں چالیس سے زائد مرتبہ پاکستان کا نام شامل کرنے جا رہے ہیں جہاں یہ نام اکا دکا ہی ملتا تھا۔انشاءاللہ اب ہم نے جمہوریت کے کچے پکے رستے پر چلتے ہوئے عزم و یقین کی وہ موٹر وے بھی بنانی ہے جس پر ہم ترقی اور خوشحالی کا سفر طے کریں گے۔ ہم نے آبادی میں بہت بڑا ملک نہ ہونے کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا یوتھ فیسٹیول کر کے دکھا دیا ہے کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں، یہاں 55 ہزار دو سو سپورٹس اینڈ یوتھ کونسلیں بنیں، تین ہزار 464 یونین کونسلوں کی سطح پر مختلف ایونٹس منعقد ہوئے، 137 تحصیلوں کے بعد36 اضلاع اور9 ڈویژنوں میں یہی مقابلے ہوئے اور پھر یہی بات صوبائی سطح پر مقابلوں تک آ پہنچی۔ ہم نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم جو چاہیںکر سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم ابھی منتشر ہیں، ابھی پریشان ہیں، ہمیں متحد کر دے، ہمیں امید دلا دے، ہمیں راستہ دکھا دے ، میں ہواو¿ں میں تو باتیں نہیں کر رہا، یہ اول فول تو نہیں ہے کہ ہم نے مختصر سے عرصے میں پنجاب سپورٹس فیسٹیول کے بعد پنجاب یوتھ فیسٹیول بھی کر کے دکھا دیا ہے، ہم جانتے ہیںکہ تئیس ملکوں کو ساڑھے گیارہ لاکھ ڈاکٹرز اور انجینئرز درکار ہیں، آسٹریلیا، نیوز ی لینڈ اور ملائشیا سمیت دنیا کے گیارہ ممالک کو سترہ لاکھ سکلڈ ورکرز چاہئیں اور ہمارے پاس انتیس سال سے کم عمر 65 فیصد سے بھی زائد آبادی موجود ہے جو بارہ کروڑ سے بھی اوپر بنتی ہے، ہم صرف ورلڈ ریکارڈ ہی نہیں بنا سکتے بلکہ اس یوتھ کو علم اور ہنر دے کے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا پر اپنا راج قائم کر سکتے ہیں، میں پاکستانی نوجوانوں کو دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم بناتا ہوا دیکھ سکتا ہوں، میں پاکستانیوں کو قومی ترانہ مل کر پڑھتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں تو میں پوری دنیا میں سب سے آگے جانے کا خواب بھی دیکھ سکتا ہوں ۔ مجھے یہ گمان بھی ہے کہ برصغیر کے جو مسلمان صرف سات ، آٹھ برس کے عرصے میں اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کر سکتے ہیں، وہ اتنے ہی عرصے میں وطن کو عظیم سے عظیم تر بھی بنا سکتے ہیں ۔۔بس صدا یہ ہے کہ ہے کوئی ہمیں راہ دکھانے والا، ہے کوئی ہماری قیادت کرنے والا؟

مزید :

کالم -