19سعودی عرب اور سلامتی کونسل کی نشست

19سعودی عرب اور سلامتی کونسل کی نشست
19سعودی عرب اور سلامتی کونسل کی نشست

  


 اکتوبر 2013ءکے میڈیا میں ایک خبر جو بڑے نمایاں انداز میں دیکھنے اور پڑھنے کو ملی، وہ عجیب و غریب تھی.... راقم السطور اگرچہ ایک روز قبل (18 اکتوبر) الیکٹرانک میڈیا پر اس خبر کو دیکھ کر 24 گھنٹے پہلے حیران ہو چکا تھا، لیکن آج الیکٹرانک میڈیا پر اس کا جو فیڈ بیک تھا، اس کو پڑھ کر مزید معلوم ہوا کہ دنیا میں کئی اور لوگ بھی میری صف میں شامل ہیں۔

دیکھنے کو تو سعودیوں نے بڑی دلیری دکھائی کہ ایک ایسی سیٹ پر بیٹھنے سے انکار کر دیا جس کے لئے ہفتوں، بلکہ برسوں تک لابنگ کی جاتی ہے اور رائے شماری میں کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے۔

ویسے تو قارئین کی اکثریت جانتی ہے، لیکن یاد تازہ کرنے میں کیا حرج ہے کہ اقوام متحدہ کے دو اہم ادارے ہیں، ایک کو جنرل اسمبلی کہا جاتا ہے اور دوسرے کو سلامتی کونسل۔ اول الذکر میں اقوام کے عمومی مباحث زیر بحث آتے ہیں، جبکہ سلامتی کونسل میں دنیا کے کسی ملک کے خلاف کوئی پابندی لگانی ہو یا کوئی فوجی ایکشن لینا ہو تو اس کے لئے کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی منظوری لازم ہوتی ہے۔ یہ پانچ رکن، امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ اور چین ہیں۔ ہر ایک کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ملک رائے شماری میں حصہ نہ لے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر ایک ملک بھی کسی قرار داد کو ویٹو کر دے تو اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا۔

ان پانچ اراکین کے علاوہ 15 عارضی اراکین اور بھی ہیں جو ہر دو سال کے بعد منتخب کئے جاتے ہیں۔ ان کی حیثیت کی حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مل کر بھی مستقل ممبران کی طرف سے منظور شدہ کسی قرار داد کو ویٹو نہیں کرسکتے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو سیکیورٹی کونسل کے یہ غیر مستقل15 اراکین محض علامتی ادارہ ہیں.... ایک ایسا ادارہ جس کی رائے یا آراءActionable تسلیم نہیں کی جاتی۔ یکم جنوری2014ءکو سلامتی کونسل کے پانچ غیر مستقل ممبران کی مدت پوری ہو رہی ہے، اس لئے ان پانچ سیٹوں پر نئے اراکین منتخب کئے جانے تھے، جو کئے جا چکے ہیں۔

جمعرات(17 اکتوبر) کو پانچ غیر مستقل اراکین سلامتی کونسل کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس میں پانچ ممالک کامیاب ہوئے۔ یکم جنوری2014ءکوان پانچوں نے اپنی نشستیں سنبھالنی تھیں۔ چاڈ، چلی، لیتھوانیا اور نائیجیریا نے تو اس کو ایک روایتی اعزاز سمجھ کر قبول کر لیا، لیکن پانچویں منتخب شدہ ممبر، سعودی عرب نے اس نشست پر بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ انکار کی جو وجہ سعودیوں نے بیان کی ، وہ یہ تھی: ”گزشتہ 65 برس سے مسئلہ فلسطین کا کوئی مستقل حل دریافت نہیں کیا جاسکا۔ اس مسئلے نے مشرق وسطیٰ میں کئی جنگوں کو جنم دیا اور دنیا بھر کے امن اور سلامتی کے لئے یہ مسئلہ ایک خطرہ بنا رہا۔ سلامتی کونسل اب تک اس کا کوئی ایسا حل نہیں نکال سکی جو عدل و انصاف پر مبنی ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کونسل اپنے اصل فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے“۔

جہاں تک مسئلہ فلسطین کے حل میں سلامتی کونسل کی ناکامی کا تعلق ہے تو سوائے اسرائیل، امریکہ اوران کے چند دوسرے حواریوں کے، ساری دنیا میں سعودیوں کے اس انکار کا خیر مقدم کیا جائے گا.... لیکن اس کے ساتھ ہی سعودیوں نے جو دوسری وجہءانکار بیان کی ہے۔ اس کا متن بھی ملاحظہ فرمائیے: ”سلامتی کونسل میں جس طرح کام ہوتا ہے اور اس کے دہرے معیار جس طرح کے ہیں، وہ اس ادارے کو اپنے فرائض ادا کرنے سے روکتے ہیں اور دنیا میں امن قائم رکھنے کی ذمہ داریاں نبھانے نہیں دیتے۔ اس بناءپر ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں کہ ہم سلامتی کونسل کی اس نشست کو قبول کرنے سے انکار کر دیں اور اس وقت تک اس نشست کو قبول نہ کریں جب تک اس روش کو بدلا نہیں جاتا اور جب تک سلامتی کونسل عالمی امن کے قیام کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہو جاتی“۔

قارئین نے غور کیا ہوگا کہ سعودی حکومت کو بہت پہلے یہ مو¿قف اختیار کر لینا چاہئے تھا۔ ہم تو ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ بشمول پاکستان، یہ سلامتی کونسل مسلم ممالک کے مسائل حل کرانے اور عالمی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہ ایسا بین الاقوامی ادارہ ہے جو مسلم اُمہ کے مفادات کی اس انداز سے نگہبانی نہیں کرتا، جس طرح ”عیسائی اُمہ“ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ شام کے مسئلے پر روس اور چین نے جس طرح شام کے موقف کی ڈٹ کر حمایت کی ہے اور امریکہ جس طرح شام کا بال تک بیکا نہیں کر سکا، اس نے شاید سعودی حکومت کی آنکھیں کھول دی ہیں.... کیمیاوی ہتھیاروں کا معائنہ اور ان کی تلفی محض اشک شوئی ہے۔

پچھلے دنوں میڈیا میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ 2030ءتک سعودی عرب کے تیل کے کنویں خشک ہو جائیں گے۔ یہ رپورٹ تیل نکالنے والی کمپنیوں کے تکنیکی ماہروں اور انجینئروں نے مل کر تیار کی تھی، لیکن بفرضِ محال اگر یہ رپورٹ پوری طرح درست نہ بھی ہو تو آئندہ دس پندرہ برسوں میں سعودی عرب کے تیل کی برآمدات بتدریج کم ضرور ہوتی جائیں گی۔ یہ فرنگی بڑے عیار لوگ ہیں.... انہوں نے ابھی سے سعودیوں کو آئینہ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ فلسطین اور شام کے مسئلے پر امریکیوں کا موقف واقعی ان کے دہرے معیاروں کا سراغ دیتا ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ کے درج بالا بیانات، پوری عالمی برادری کے لئے چشم کشا ہونے چاہئیں۔

شام اور مصر کے حالیہ معاملات پر امریکہ نے سعودیوں کو مایوس کیا ہے اور ”بائی دی وے“ ان امریکیوں نے کن کن اقوام کو آج تک مایوس نہیں کیا؟.... یہ مقولہ لاکھ درست سہی کہ ممالک کے درمیان دوستیاں اور دشمنیاں کبھی مستقل نہیں ہوتیں، مفادات مستقل ہوتے ہیں، لیکن جس سنگ دلی سے امریکہ نے اس مقولے کا استعمال کیا ہے، وہ کسی بھی دوسری یورپی قوم نے اب تک نہیں کیا۔ پاکستان کو اس کے تلخ تجربات سے کئی بار پالا پڑ چُکا ہے، اس لئے سعودیوں کا ابھی سے ہوش میں آنا اور اپنی لانگ اور شارٹ ٹرم پالیسیوں میں اپنے مفادات کے تحت اقدامات کرنا ایک خوش آئند حقیقت ہوگا۔

بعض خبریں یہ بھی ہیں کہ اس نشست پر بیٹھنے کے لئے سعودی عرب کو اپنے انکار کو واپس لینا پڑے گا۔ آج کل امریکہ، ایران کے خلاف دھمکیوں کی بوچھاڑ ختم کر کے مصالحانہ اور معتدل پالیسیوں کی طرف چلنے کی طرف راغب نظر آتا ہے۔ ایران نے بھی ”مرگ بر امریکہ“ والے سخت رویے میں لچک پیدا کر لی ہے۔ احمدی نژاد صاحب اور روحانی صاحب کے لب و لہجے میں جو تفاوت ہے ، وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران نے اپنی سرحدیں مغربی سیاحوں کے لئے کھول دی ہیں۔

ضروری نہیں کہ ایران کی یہ لچک رضا شاہ پہلوی کے دور کی یاد تازہ کرنے کی طرف اشارہ ہو، لیکن لگتا ہے کہ ایران اپنی تنہائی کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خدا کرے کہ ایسا ہو.... یورینیم کی افزودگی جاری رکھ کر بھی تو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ برج کھیلی جا سکتی ہے۔ فلاش کی اندھی گیم کو کھیلتے چلے جانا آخر کب تک؟.... دشمن اگر دوسرے معیار کا کھیل کھیلتا ہے ،تو عربوں اور ایرانیوں کو بھی اپنے کارڈز کو سنبھال کر موو کرنے میں کیا امر مانع ہے۔      ٭

مزید : کالم


loading...